کیا 25 اکتوبر کو جام کمال فارغ ہو جائیں گے؟


بلوچستان کے وزیر اعلیٰ جام کمال کے خلاف بلوچستان اسمبلی کے اجلاس میں باقاعدہ تحریک عدم اعتماد پیش کردی گئی ہے جس پر رائے شماری 25 اکتوبر کو ہوگی جس کے نتیجے میں جام کا دھڑن تختہ ہونے کا واضح امکان ہے۔ اگرچہ وزیر اعلیٰ کے خلاف تحریک عدم اعتماد کی کامیابی اور ناکامی کا انحصار 25 اکتوبر کورائے شماری پر ہے لیکن اس سلسلے میں اسمبلی کے پہلے روز کے اجلاس میں جو اراکین شریک ہوئے ان میں تحریک عدم اعتماد کے حامی اراکین کی تعداد زیادہ تھی۔
تحریک عدم اعتماد کے حامی اراکین نے الزام عائد کیا کہ ان کے چار اراکین کو حراست میں لیا گیا ہے اور اجلاس کے بعد اس کے خلاف انھوں نے اسمبلی کے مرکزی دروازے پر بطور احتجاج دھرنا دیا جو کہ رات گئے تک جاری رہا۔تحریک عدم اعتماد کے حامی اراکین کا کہنا تھا کہ تحریک پر رائے شماری سے پہلے ہی یہ بات واضح ہوگئی ہے کہ وزیر اعلیٰ بلوچستان کو ایوان کی اکثریت حاصل نہیں ہے۔ ان میں سے بعض اراکین نے وزیر اعلیٰ سے مستعفی ہونے کا مطالبہ بھی کیا۔تاہم وزیر اعلیٰ بلوچستان نے مستعفی ہونے سے انکار کرتے ہوئے کہا کہ وہ اس کا مقابلہ کریں گے۔بلوچستان کی حکمران جماعت بلوچستان عوامی پارٹی میں وزیر اعلیٰ سے ناراض اراکین نے سپیکر بلوچستان اسمبلی میر عبدالقدوس بزنجو کو پارلیمانی رہنما کو تبدیل کرنے کی درخواست بھی دی ہے۔سپیکر کو جو درخواست دی گئی ہے اس میں یہ کہا گیا تھا کہ میر ظہور بلیدی کو پارٹی کا نیا پارلیمانی رکن مقرر کیا جائے۔اس موقع پر میڈیا کے نمائندوں سے بات کرتے ہوئے سردار عبد الرحمان کھیتران نے کہا کہ پارٹی کے اراکین کی تعداد 24 ہے۔انھوں نے کہا کہ سپیکر کو اگر نکالا جائے تو پارٹی کے 23 اراکین میں سے 12 وزیراعلیٰ کے خلاف ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ چونکہ پارٹی میں وزیر اعلیٰ جام کمال کے مخالف اراکین اکثریت میں ہیں اس لیے انھوں نے ان کی جگہ پر میرظہور بلیدی کو پارٹی کا نیا پارلیمانی رہنما بنانے کی درخواست اسپیکر کو دی۔
بلوچستان اسمبلی میں وزیراعلیٰ جام کمال خان کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک پیش کر دی گئی۔ 65 رکنی ایوان میں 33 ارکان نے کھڑے ہو کر قرارداد پیش کرنے کی اجازت دینے کے حق میں ووٹ دیا۔ بلوچستان اسمبلی کے قواعدوانضباط کار 1974 کے مطابق قرارداد پر تین دن کے بعد اور سات دن سے پہلے ووٹنگ کرائی جاتی ہے۔ سپیکر بلوچستان اسمبلی میر عبدالقدوس بزنجو نے کہا ہے کہ عدم اعتماد کی قرارداد پر 25 اکتوبر بروز پیر صبح 11 بجے رائے شماری ہوگی۔ اس سے قبل 20 اکتوبر کے روز وزیراعلیٰ جام کمال خان کے خلاف عدم اعتماد کی قرارداد بلوچستان عوامی پارٹی کے ناراض گروپ کے رہنما سابق صوبائی وزیر سردار عبدالرحمان کھیتران نے پیش کی۔ بلوچستان عوامی پارٹی کے ناراض اراکین، بی این پی اور اپوزیشن کی جماعتوں جمعیت علمائے اسلام اور بلوچستان نیشنل پارٹی کے ارکان نے کھڑے ہو کر قرارداد پیش کرنے کی اجازت دینے کے حق میں ووٹ دیا۔ قرارداد کے متن میں کہا گیا ہے کہ گذشتہ تین برسوں کے دوران جام کمال خان کی خراب حکمرانی کے باعث بلوچستان میں شدید مایوسی، بدامنی، بے روزگاری اور اداروں کی کارکردگی بری طرح متاثر ہوئی ہے۔ وزیراعلٰی جام کمال اقتدار پر براجمان ہو کر خود کو عقل کل سمجھ کر صوبے کے تمام اہم معاملات کو مشاورت کے بغیر ذاتی طور پر چلا رہے ہیں جس سے صوبے کو ناقابل تلافی نقصان پہنچایا گیا جبکہ اس بارے میں انہیں کابینہ اراکین وقتاً فوقتاً آگاہ بھی کرتے رہے لیکن انہوں نے اس جانب کوئی توجہ نہ دی۔قرارداد کے متن میں مزید کہا گیا کہ بلوچستان کے حقوق کے حوالے سے وزیراعلٰی جام کمال نے وفاقی حکومت کے ساتھ آئینی اور بنیادی حقوق کے مسائل پر انتہائی غیر سنجیدگی کا ثبوت دیا ہے جس سے صوبہ میں بجلی، گیس، پانی اور شدید معاشی بحران پیدا ہوا۔ اس وقت صوبے کے مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے افراد بیوروکریٹس، ڈاکٹرز اور طلبہ حکومت کی بیڈ گورننس کی وجہ سے سراپا احتجاج ہیں۔جام کمال کی اتحادی جماعت اے این پی کے انجینئر زمرک اچکزئی نے اعتراض اٹھایا کہ بلوچستان اسمبلی کے قواعدوانضباط کار کے مطابق جن محرکین نے قرارداد پیش کی ہے، ان کا اسمبلی میں پیش ہو کر قرارداد کے حق میں سامنے آنا ضروری ہے تاہم سپیکر عبدالقدوس بزنجو نے ان کا اعتراض مسترد کیا اور کہا کہ قواعد و انضباط کار 1974 کی شق 19کے تحت قرارداد پیش کرنے کے لیے صرف ایک محرک بھی کافی ہے۔ قرارداد پیش کرنے کے لیے 20 فیصد ارکان کی اجازت ضروری ہوتی ہے۔ قرارداد پیش کرنے کے بعد سردار عبدالرحمان کھیتران نے دعویٰ کیا کہ ہمارے پانچ ارکان اسمبلی لاپتا ہیں، زور زبردستی اقتدار نہیں کیا جا سکتا، لاپتا ارکان کو فوری بازیاب کرایا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ اصولاً فیصلہ ہو گیا ہے، ایوان کا ایک شخص پر اعتماد اٹھ گیا ہے، اب جام کمال کو فوری پیچھے ہٹ جانا چاہیے۔ اس میں ان کی بھی عزت ہے اور ہماری بھی عزت ہے۔اپوزیشن لیڈر ملک سکندر ایڈووکیٹ نے بھی عبدالرحمان کھیتران کے دعوے کی تائید کی کہ پانچ ارکان اسمبلی لاپتا اور زیر حراست ہیں، انہیں فوری طور پر رہا کیا جائے ورنہ سخت احتجاج کیا جائے گا۔دوسری جانب اسمبلی اجلاس سے غیر حاضر رکن بشریٰ رند نے بدھ کے روز ہی ایک ٹویٹ میں کہا کہ ’ان کی طبیعت ٹھیک نہیں ہے اور وہ علاج کے لیے اسلام آباد میں ہیں۔ اسمبلی اجلاس میں اس وقت دلچسپ صورت حال پیدا ہو گئی جب لاپتا قرار دیے گئے ارکان میں سے ایک لالہ رشید اجلاس میں شرکت کے لیے پہنچے۔ اس پر انجینئر زمرک اچکزئی نے کہا کہ ارکان کو لاپتا کرانے کا الزام لگانے والے اب کیا کہیں گے؟ ان کا الزام غلط ثابت ہو گیا۔ اسمبلی اجلاس سے قبل ناراض گروپ اور اپوزیشن رہنماؤں نے دعویٰ کیا تھا کہ انہیں 42 ارکان کی حمایت حاصل ہے۔ بلوچستان عوامی پارٹی کے نور محمد دمڑ اور بی این پی عوامی کے منحرف رکن سید احسان شاہ نے بھی ناراض گروپ کی حمایت کا اعلان کیا۔اسمبلی اجلاس سے قبل وزیراعلٰی جام کمال خان نے اتحادی جماعتوں کے رہنماؤں کے ہمراہ میڈیا نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ہم پر امید ہے ان شاء اللہ جیت ہماری ہو گی۔‘ ان کا کہنا ہے کہ ’کھانے کی دعوتوں میں شرکت علیحدہ بات ہے، اصل صورت حال عدم اعتماد کی قرارداد پر ووٹنگ کے دن سامنے آئے گی۔

Back to top button