کیا PIA کے معاشی بحران کا حل 5500 ملازمین کی چھٹی ہی ہے؟

کپتان حکومت نے پاکستان انٹرنیشنل ایئر لائنز میں شدید مالی بحران کا بہانہ بناتے ہوئے 13 ہزار ملازمین میں سے 5500 کو فارغ کرنے کی اسکیم تو فوری تیار کر لی لیکن لمحے بھر کو بھی پی آئی اے کو منافع بخش ادارہ بنانے کی سکیم تیار کرنے کے بارے میں نہیں سوچا۔ وفاقی حکومت نے اپنی ناکام معاشی پالیسیوں کا تمام تر بوجھ عوام پر ڈالتے ہوئے قومی ائیر لائن سے نصف ملازمین کو فارغ کرنے کے لیے ایک رضا کارانہ ریٹائرمنٹ اسکیم متعارف کرادی ہے جسکے مطابق پی آئی اے ملازمیں کے پاس اس کے علاوہ کوئی دوسرا آپشن باقی نہیں بچا کیونکہ ریٹائرمنٹ نہ لینے والوں کو برخاست کر دیا جائے گا۔
پی آئی اے کی طرف سے پہلے بھی کئی مرتبہ ایسی اسکیمیں متعارف کروائی گئی ہیں جن سے توقع تھی کہ یہ ادارے کو معاشی بحران سے نکالنے میں مددگار ثابت ہوں گی۔ تاہم بڑ سوال یہ ہے کہ کیا یہ اسکیم پی آئی اے کے مسائل کا حل ہوسکتی ہے؟ پی آئی اے کے سی ای او ایئر مارشل ارشد ملک کا کہنا ہے کہ یہ سکیم ان کی جامع اصطلاحات کا حصہ ہے جو پی آئی اے کو معاشی طور پر مستحکم بنانے میں مددگار ثابت ہوگی۔ ان کا کہنا ہے کہ اس اسکیم کا آئیڈیا پہلی بار 2018 میں حکومت کو پیش کیا گیا جس کے بعد تمام متعلقہ اداروں سے منظوری کے بعد اب اسے ملازمین کو پیش کیا گیا ہے۔ پی آئی اے کی تباہی کا ذمہ دار قرار دیئے جانے والے ارشد ملک کا کہنا ہے کہ اس اسکیم سے ملازمین کا فائدہ ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ اس اسکیم کے ذریعے پہلے سال میں 4.5 ارب کی بچت ممکن ہوسکے گی۔ جب کہ ضروری اور غیر ضروری ملازمین کی تقسیم سے پچیس فیصد فائدہ ہوسکے گا۔
یاد رہے کہ 14 دسمبر کو پاکستان انٹرنیشنل ائیرلائنز نے سپریم کورٹ کے تین رکنی بنچ کو اپنے بزنس پلان کے بارے میں ایک رپورٹ جمع کروائی۔ یہ رپورٹ سابق چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے طلب کی تھی تاکہ ادارے کے معاشی پلان اور اس کے مستقبل کے بارے میں معلومات حاصل کی جاسکیں۔ پی آئی اے نے رپورٹ میں بتایا کہ خسارے کے باعث ادارہ اپنے ملازمین کی تعداد کو 13000 سے کم کرکے 7500 تک لانا چاہتا ہے۔ اس رپورٹ کے مطابق ایسا دو طریقوں سے ممکن بنایا جا رہا ہے: ایک طرف ملازمین کےلیے ادارے سے رضاکارانہ طور پر علیحدہ ہونے کی اسکیم متعارف کروائی جائے گئی جسے ’والنٹری سیپریشن اسکیم‘ (یعنی وی ایس ایس) کہا جاتا ہے۔ اس اسکیم کو 58 سال سے کم عمر کے افراد اپنے لیے منتخب کرسکتے ہیں۔ اس اسکیم کے ذریعے 2500 ملازمین کو پی آئی اے آپشن دے گا کہ انہیں ‘عزت و احترام کے ساتھ’ ادارے سے علیحدہ کر دیا جائے۔
دوسری جانب، بہت ضروری اور غیر ضروری سروسز کے تحت ملازمین کو علیحدہ کرنے کی اسکیم متعارف کرائی گئی ہے۔ اس میں ائیرپورٹ سروسز اسٹاف شامل ہیں جن میں بالخصوص کچن، مینٹیننس اور انجنئیرنگ کے کچھ اسٹاف کو بھی علیحدہ کیا جائے گا۔
اس اسکیم کے تحت معاوضے کی ادائی، جمع شدہ چھٹیاں، گریجوٹی، پراوڈنٹ فنڈ، میڈیکل اور 65 سال تک کی پینشن کی یک مشت ادائیوں پر مشتمل ہوگی۔ پی آئی اے کے ترجمان عبداللہ خان نے بتایا کہ اس طرح ایئرپورٹ سروسز کے 700 ملازمین ہیں جب کہ انجینئرنگ کے 2500 سے زیادہ ملازمین ہیں۔ ‘تو ایک ساتھ یہ تعداد بہت حد تک کم ہو جائے گی اور ہمارے آپریشن پر جو بوجھ ہے وہ کم ہو جائے گا۔’
ترجمان کے مطابق ملازمین 22 دسمبر تک خصوصی طور پر قائم ڈیسک پر وی ایس ایس درخواستیں کوآرڈینیٹرز کو جمع کرواسکیں گے جس کے بعد یہ ملازمین 31 دسمبر 2020 تک پی آئی اے سے علیحدگی حاصل کرلیں گے۔ اب پاکستان کے مقامی ذرائع ابلاغ میں ملازمین کو نکالے جانے کے حوالے سے قیاس آرائیاں اور بحث جاری ہے اور کہا جا رہا ہے کہ ایسا کرنے سے تقریباً 5500 ملازمین فارغ ہو جائیں گے۔
تاہم سپریم کورٹ نے پی آئی اے انتظامیہ کی جانب سے جمع کروائی گئی رپورٹ اور پی آئی اے کی اب تک کی کارکردگی کو غیر مطمئن قرار دیا ہے۔ پی آئی اے کے ترجمان کا کہنا ہے کہ اس اقدام سے ایئر لائن کو معاشی ریلیف ملے گا۔ لیکن پی آئی اے کے ملازمین کا موقف یے کہ کئی دیگر اداروں نے ماضی میں بھی وی ایس ایس اسکیم کا استعمال کیا ہے مثلاً یونائیٹڈ بینک اور حبیب بینک۔ تاہم سوال یہ ہے کہ پی آئی اے میں اس اسکیم کا اطلاق کس طریقے سے کیا جائے گا، اس کے بارے میں ہر ادارے کے مختلف قوانین موجود ہیں جن کا ذکر ملازمین کے کانٹریکٹ میں بھی کیا جاتا ہے۔ پی آئی اے ملازمین کہتے ہیں کہ ‘دیگر سرکاری ملازمین کے برعکس، پی آئی اے کے ملازمین کے تحفظ کےلیے قوانین موجود نہیں ہیں۔ یعنی کہ اگر کسی سرکاری ملازم کو پیکج دیا جائے اور وہ اس کو قبول نہ کرے لیکن ادارہ پھر بھی اسے نکالنے پر اڑ جائے تو عدالت تک بات جاسکتی ہے۔ لیکن پی آئی اے کے ملازمین کے پاس پیکج قبول کرنے کے علاوہ کوئی اور راستہ نہیں ہے۔ یعنی اگر انہیں نکال دیا جائے تو ان کےلیے مشکل پیدا ہو جائے گی۔’ انہوں نے کہا کہ وی ایس ایس اسکیم زیادہ تر تب متعارف کروائی جاتی ہے جب کوئی ادارہ بڑی تعداد میں لوگوں کو نکالنا چاہتا ہو۔ ’اب اگر آپ بغیر کوئی مقدمہ کیے چھوڑ کر چلے جائیں تب تو ٹھیک ہے، آپ کو ایک پرکشش سا پیکج دے دیا جائے گا۔ لیکن جو رہ جاتے ہیں، انہیں آج نہیں تو کل فارغ کر دیا جاتا ہے۔’ یعنی پی آئی اے کے ملازمین کے پاس بنیادی قوانین کا تحفظ نہیں ہے جس کے نتیجے میں انکے پاس اس ریٹایئرمینٹ سکیم کو قبول کرنے کے علاوہ تاحال کوئی اور آپشن موجود نہیں ہے۔
