کیا PTIاور سنی اتحاد کونسل کا ساتھ بھی ٹوٹنے والا ہے؟

تحریک انصاف اور سنی اتحاد کونسل کی سانجھے کی ہنڈیا بیچ چوراہے پھوٹتی دکھائی دیتی ہے۔ عمرانڈو رہنما شیر افضل مروت کے سنی اتحاد کونسل سے اتحاد کو سیاسی غلطی قرار دینے اور سنی اتحاد کونسل کے حقائق سامنے لانے کے اعلانات نے پی ٹی آئی قیادت کیلئے خطرے کی گھنٹی بجا دی ہے۔
خیال رہے کہ اپنے ایک حالیہ انٹرویو میں پاکستان تحریک انصاف کے نائب صدر اور رکن قومی اسمبلی شیر افضل مروت نے کا کہنا تھا کہ پارٹی نے انتخابات سے پہلے جمیعت علمائے اسلام نظریاتی اور انتخابات کے بعد مجلس وحدت المسلمین سے اتحاد کی بجائے سنی اتحاد کونسل کے ساتھ اتحاد کر کے دو غلطیاں کی ہیں۔ جس وجہ سے پی ٹی آئی 80 نشستوں سے محروم ہو گئی ہے۔
جس کے بعد سنی اتحاد کونسل کے چیئرمین صاحبزادہ حامد رضا نے نہ صرف اظہار نارضگی کیا بلکہ ایکس پر جاری ایک بیان میں پاکستان تحریک انصاف کے رہنماؤں کو ’اپنے معاملات گھر میں حل کرنے‘ کا مشورہ دیتے ہوئے حقائق سامنے لانے کی دھمکی دے ڈالی۔ جس کے بعد دونوں جماعتوں کے درمیان اختلافات کھل کر منظر عام پر آنا شروع ہو گئے ہیں۔
خیال رہے کہ عام انتخابات میں تحریک انصاف کے امیدواروں نے آزاد حیثیت میں الیکشن جیتنے کے بعد سنی اتحاد کونسل میں شمولیت اختیار کی تھی، جس کے بعد وہ قومی اسمبلی میں تکنیکی طور پر سنی اتحاد کونسل کے رکن ہیں۔
پی ٹی آئی اور سنی اتحاد کونسل کے مابین اس اتحاد کے کچھ عرصے بعد ہی صاحبزادہ حامد رضا اور پی ٹی آئی رہنماؤں کے درمیان اختلاف رائے ہونا شروع ہو گیا تاہم دونوں جماعتوں کھ مابین اس وقت اختلافات کھل کر سامنے آئے جب پی ٹی آئی کے کور کمیٹی اجلاس میں مبینہ تلخ کلامی کے بعد صاحبزادہ حامد رضا نے ایکس پر پوسٹ کی۔ انہوں نے پوسٹ میں کہا کہ ’پی ٹی آئی کے دوست اپنے معاملات گھر میں ہی حل کریں تو بہتر ہے اور سنی اتحاد کونسل کا فیصلہ عمران خان نے کیا تھا، میری طرف سے کوئی درخواست نہیں کی گئی تھی۔
’انتخابی نشان سے لے کر مخصوص نشستوں تک میرے پاس بتانے کو وہ کچھ ہے کہ اگر میں نے بھی ٹاک شوز میں بیٹھ کر کچھ بول دیا تو کئی لوگ شکل دکھانے کے قابل بھی نہیں رہیں گے۔‘انہوں نے مزید کہا کہ ’میری کمٹمنٹ عمران خان کے ساتھ ہے اور ہمیشہ رہے گی اور میں فضول کی میڈیا پبلسٹی (تشہیر) کے لیے عمران خان کا برا نہیں سوچ سکتا صرف اسی لئے خاموش ہوں۔ ہدایات لے کر پھوٹ مت ڈلوائیں۔‘
اس معاملے پر تحریک انصاف کے مرکزی ترجمان رؤف حسن بات کرنے سے انکاری ہیں تاہم تحریک انصاف کور کمیٹی کے رکن شعیب شاہین نے انڈپینڈنٹ اردو سے بات کرتے ہوئے کہا کہ اسلام آباد میں ہماری کور کمیٹی میٹنگ کے دوران کئی دوستوں نے پشاور ہائی کورٹ سے مخصوص نشستوں کی درخواستیں خارج ہونے پر تحفظات کا اظہار کیا جس پر سنی اتحاد کونسل سے اتحاد سے متعلق بھی گفتگو ہوئی۔‘ان کا کہنا تھا کہ ’سنی اتحاد کونسل سے متعلق اتفاق ہے کہ ہم جس طرح پہلے مل کر چل رہے ہیں آئندہ بھی ایسے ہی چلیں گے۔ مخصوص نشستوں کے لیے سپریم کورٹ سے رجوع میں بھی حامد رضا ساتھ ہوں گے۔‘انہوں نے کہا کہ ’اگر میٹنگ میں کوئی بات ہوئی بھی ہے تو حامد رضا کو اس طرح ایکس پر پوسٹ کر کے معاملہ باہر نہیں نکالنا چاہیے تھا۔ بند کمروں میں ہونے والی باتیں باہر نکلنے سے پارٹی کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔‘
شعیب شاہین کے مطابق اجلاس میں وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈاپور کی وزیراعظم سے ملاقات پر بھی بحث ہوئی۔’وزیر اعلی کے پی کے علی امین گنڈا پور کی وزیر اعظم سے ملاقات پر بھی کئی دوستوں کو اعتراض تھا لیکن طے یہ ہوا کہ علی امین بطور وزیر اعلیٰ صوبے کے مسائل حل کرنے کے لیے وزیر اعظم سے ملاقات کرتے ہیں تو اس میں کسی کو اعتراض نہیں ہونا چاہیے۔‘
تاہم دوسری جانب اپنے یوٹیوب چینل پر معاملہ سامنے لانے والے صحافی معظم فخر نے بتایا کہ کور کمیٹی اجلاس میں ’شدید تلخ کلامی‘ ہوئی اور ’سنی اتحاد کونسل کے سربراہ حامد رضا پر تنقید کی گئی کہ انہوں نے پہلے یہ سب کیوں نہیں بتایا کہ الیکشن کمیشن میں لسٹ جمع نہیں کرائی گئی۔‘انہوں نے دعویٰ کیا کہ ’صاحبزادہ حامد رضا اور تحریک انصاف کے رہنماؤں میں اختلافات کافی بڑھ چکے ہیں جس کا اندازہ حامد رضا کی پوسٹ سے بھی لگایا جا سکتا ہے۔‘پی ٹی آئی اور سنی اتحاد کونسل کے سامنے آنے والے اختلافات اور وضاحتوں سے لگتا یہی ہے کہ سانجھے کی یہ ہنڈیا جلد اپنے انجام کو پہنچنے والی ہے۔
