فوج کو کراچی واقعہ کی انکوائری کا کوئی حق نہیں

مسلم لیگ ن کی نائب صدر مریم نواز شریف نے کہا ہے کہ کراچی واقعہ روز روشن کی طرح عیاں ہے ،فوج کو کراچی واقعہ کی انکوائری کا کوئی حق نہیں، اس کی انکوائری کا حق سندھ حکومت کا ہے ۔
پی ڈی ایم جلسے میں شرکت کے لیے کوئٹہ روانگی سے قبل اپنی رہائش گاہ جاتی امرا میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے مریم نواز نے وزیر اعظم عمران خان کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ سلیکٹڈ کو پتہ ہونا چاہیے کہ برطانیہ قانون کے تحت چلتا ہے اور وہاں ارشد ملک جیسے ججز نہیں ہوتے۔انہوں نے کہا کہ کوئٹہ میں پی ڈی ایم کے جلسے سے میاں نواز شریف بھی تقریر کریں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ کل اگر آپ نے عمران خان کا انٹرویو سنا ہو تو آپ کو پتہ چل جائے گا کہ پاکستان ڈیمو کریٹک موومنٹ(پی ڈی ایم) کی جو تحریک سے کتنا بڑا اثر پڑا ہے، یہ معاملات مجھے زیادہ دیر چلتے نظر نہیں آتے۔
مریم نواز نے کہا کہ سلیکٹڈ کو پتہ ہونا چاہیے کہ برطانیہ قانون کے تحت چلتا ہے، وہاں ارشد ملک جیسے ججز نہیں ہوتے، وہاں عوام کے ووٹ پر ڈاکا ڈال کر کوئی وزیر اعظم مسلط نہیں کیا جاتا اور دباؤ کے تحت ججز سے فیصلے نہیں لیے جاتے۔ انہوں نے کہا کہ یہ وہاں جائیں تو انہیں پتہ لگ جائے گا، یہ اپنی جو عزت پاکستان میں کرا چکے ہیں، اگر وہ برطانیہ میں بھی کرانا چاہتے ہیں تو بالکل ایسا کریں۔مریم نواز نے کہا کہ ایک دفعہ یہ الطاف حسین کو بھی لانے گئے تھے، ان کی بھڑکیاں آپ سنا کریں، برطانیہ قانون کے تحت چلنے والا ملک ہے اور وہ اس طرح کی بھڑکیوں کو کچھ نہیں سمجھتا۔
مریم نواز نے کہا کہ عمران خان اپنا قد بڑا کرنے کیلئے نوازشریف کے نام کی رٹ لگاتے ہیں، اب یہ معاملات زیادہ دیر نہیں چل سکتے، اب این آر او کی ضرورت عمران خان کو ہے، کراچی واقعہ سے حکومت کی بدنامی ہوئی۔پاکستان مسلم لیگ نون کی رہنما نے مزید کہا کہ کیپٹن (ر) صفدر کی گرفتاری کے بعد آپ نے بہت بدنامی کمالی ہے، کراچی واقعہ سے حکومت کی بدنامی ہوئی، اس واقعہ کی انکوائری کی ضرورت نہیں، حکومت کی ساری توجہ نواز شریف پر ہے۔ انہوں نے کہا ملک میں مہنگائی بڑھتی جا رہی ہے، ملک میں لوگ آٹا اور چینی کو ترس گئے ہیں۔ مریم نواز کا کہنا تھا لوگوں کو سچ بولنے کی سزا دی جا رہی ہے، برطانیہ عمران خان کی بڑھکوں کو کچھ نہیں سمجھتا۔
بعدازں پاکستان مسلم لیگ نون کی رہنما مریم نواز نے کوئٹہ میں کارکنوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا نواز شریف نے ووٹ کو عزت دو کا نعرہ لگایا، نواز شریف کی آواز پورے پاکستان میں گونج رہی ہے، 72 سالہ تاریخ میں عوام نے خوف کی زنجیریں توڑی ہیں، پی ڈی ایم کی 11 جماعتوں نے خوف سے آزاد ہو کر اتحاد کیا، خوف میں رکھنے والوں کے احتساب کا بھی مطالبہ کیا ہے۔مریم نواز کا کہنا تھا نواز شریف ملک میں نہ ہوتے ہوئے بھی چھائے ہوئے ہیں، عوام نواز شریف کو مسیحا سمجھ رہے ہیں، نواز شریف نے ریاست سے اوپر ریاست کی بات کی، آئی جی کو اٹھانے کے بعد ثبوت دیا گیا ریاست کے اوپر ریاست کیا ہوتی ہے، کراچی واقعہ کے بعد وزیراعظم منظر سے غائب ہیں، وزیراعظم بھی کراچی واقعہ سے لاعلم ہیں، سندھ پولیس نے چھٹی کی درخواست دی، کہا ان حالات میں کام نہیں کرسکتے۔لیگی رہنما نے مزید کہا ہمیں ہر حال میں عوامی مینڈیٹ کا احترام کرنا ہے، ہم پاکستان سے محبت کرنیوالے لوگ ہیں، نواز شریف نے ذاتی مفادات کی قربانی دے کر وطن عزیز کی بات کی، حکومت نے ریاست کی طاقت کو اپنی طاقت سمجھ لیا ہے، آٹا، چینی، ادویات کی قیمتیں آسمان پر پہنچ گئی ہیں۔
کوئٹہ میں منعقدہ ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے مسلم لیگ (ن) کی نائب صدر مریم نواز نےکہا کہ پاکستان ڈیمو کریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) کی 11 جماعتوں نے خوف کی زنجیریں توڑی ہیں۔ مریم نواز نے کہا کہ کراچی میں آئی جی کو اغوا کیاگیا اور میرے کمرے پر دھاوا بولاگیا لیکن سندھ حکومت نے کراچی کے واقعے کی سازش کو بے نقاب کیا۔انہوں نے کہا کہ آئی جی سندھ، پولیس اہلکاروں کی عزت ہے اور ہمیں ان کی عزت کا پاس ہے لیکن کراچی واقعے کے بعد سے عمران خان پاکستان کی سیاست اور حکومتی منظر نامے سے غائب ہیں۔لیگی رہنما کا کہنا تھا کہ ہمیں عوام کے مینڈیٹ کا پاس ہے، عوام کے فیصلے کا احترام بھی کرنا ہے، پی ڈی ایم کی تمام 11جماعتوں نے فرعونیت کو للکارا ہے اور خوف کی زنجیریں توڑی ہیں۔ مریم نواز نے کہا کہ نوازشریف نے کہا ریاست کے اوپر ریاست نہیں ہونی چاہیے، آئی جی کو اٹھانے کے بعد ثبوت دیا گیا کہ ریاست کے اوپر ریاست کیا ہوتی ہے۔ کارکنوں سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پی ڈی ایم کی 11 جماعتوں نے خوف سے آزاد ہوکر اتحاد کیا ، جن کی طرف سے ہونے والے گوجرانوالہ جلسے کے بعد کراچی میں ہوٹل پر دھاوا بولا گیا ، کیوںکہ گوجرانوالہ جلسے میں نوازشریف نے آنکھیں کھول دینے والی تقریرکی ،ان کا کہنا تھا کہ نوازشریف واحد شخصیت ہیں جو ملک کی طول وعرض میں چھائے ہوئے ہیں، نوازشریف نے ووٹ کو عزت دو کا نعرہ لگایاتھا، جس کے بعد ملکی تاریخ میں پہلا موقع ہے لوگوں نے خوف کی زنجیریں توڑی ہیں۔
یاد رہے کہ گزشتہ روز نجی ٹی وی کو انٹرویو دیتے ہوئے وزیر اعظم عمران خان نے کہا تھا کہ نواز شریف کو واپس لانے کے لیے ہم برطانوی حکومت سے بات کررہے ہیں کیونکہ یہ جھوٹ بول کر گیا ہے، ہماری انہیں ڈی پورٹ کرنے کے لیے ان کے عہدیداروں سے مسلسل بات چل رہی ہے۔انہوں نے مزید کہا تھا کہ اگر اس کے لیے مجھے جانا پڑا تو برطانوی وزیراعظم بورس جانسن سے بات کروں گا۔مسلم لیگ(ن) کی نائب صدر نے مزید کہا کہ کراچی سے جیو نیوز کے صحافی علی عمران کو غائب کردیا گیا ہے، سننے میں آیا ہے انہوں نے سی سی ٹی وی فوٹیج چلا دی تھی تو ان کو اٹھا کر لے گئے، یہ بہت افسوس کی بات ہے۔ انہوں نے نام لیے بغیر کہا کہ آپ نے میرے کمرے پر حملہ کر کے کیپٹن ریٹائرڈ صفدر کی جس انداز میں گرفتاری کی، جس طرح سے آپ نے آئی جی کو اٹھایا، جس طرح پولیس فورس اور صوبے کو نیچا دکھایا، تو اس سے بہت زیادہ بدنامی کما لی ہے۔ مریم نواز نے کہا کہ اس طرح سے اغوا کر کے اور لوگوں کو سچ اور حق بولنے کی سزا دے کر آپ مزید بدنامی نہ کمائیں، یہ غلط بات ہے، اس روایت کو ختم ہونا چاہیے۔جنرل باجوہ کی انکوائری رپورٹ کے حوالے سے سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ میں سمجھتی ہوں کہ انکوائری کرنے کا حق حکومت سندھ کو ہے اور یہ وفاقی حکومت جعلی حکومت ہی صحیح، انہیں وزیر اعظم کے دفتر میں بیٹھ کر اسے دیکھنا چاہیے، کسی اور ادارے کو تحقیقات کا حق نہیں ہے البتہ انہیں تحقیقات میں شامل ضرور کر سکتے ہیں۔ ایک اور سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ اب عمران خان کو این آر او کی ضرورت ہے، اور کسی کو نہیں۔
میڈیا سے مزید غیررسمی گفتگو میں مسلم لیگ(ن) کی نائب صدر نے کہا کہ قاضی فائز عیسیٰ کا جو فیصلہ آیا ہے اس کے بعد نہ سلیکٹڈ کو، نہ قاضی فائز عیسیٰ جیسے دیانتدار جج کے خلاف سازش کرنے والے کو اقتدار میں رہنے کا کوئی حق ہے۔ ان کا کہنا تھا انہوں نے ناصرف قاضی فائز عیسیٰ جیس ےدیانتدار جج کے خلاف بلکہ آزاد عدلیہ پر وار وار کیا تھا جس کو عدلیہ نے روکا ہے اور جو سازش کل ثابت ہو گئی ہے اس کے بعد انہیں اقتدار سے چپکے رہنے کا کوئی حق نہیں ہے۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا عمران خان 5 سال پورے کریں گے تو مریم نواز نے جواب دیا کہ انشااللہ یہ سال بھی پورا نہیں کریں گے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button