گرفتاری کا خدشہ: شہباز شریف کی عبوری ضمانت کی درخواست دائر

آمدن سے زائد اثاثوں اور منی لانڈرنگ کیس میں اپوزیشن لیڈر میاں شہباز شریف کی عبوری درخواست ضمانت سماعت کے لیے مقرر کر لی گئی ہے۔ لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس طارق عباسی کی سربراہی میں دو رکنی بنچ منگل کو سماعت کرے گا۔
شہباز شریف نے عبوری ضمانت کے لئے لاہور ہائیکورٹ سے رجوع کیا تھا۔ انہوں نے اپنی درخواست میں چیئرمین نیب سمیت دیگر کو فریق بناتے ہوئے موقف اختیار کیا ہے کہ 1972ء میں بطور تاجر کاروبار شروع کرتے ہوئے زراعت، شوگر اور ٹیکسٹائل انڈسٹری میں اہم کردار ادا کیا۔
درخواست میں انہوں نے کہا کہ سماج کی بھلائی کے لیے 1988ء میں سیاست میں قدم رکھا۔ نیب نے بدنیتی کی بنیاد پر آمدن سے زائد اثاثوں کا کیس بنایا ہے۔شہباز شریف نے درخواست میں الزام عائد کیا ہے کہ موجودہ حکومت کے سیاسی اثر ورسوخ کی وجہ سے نیب نے انکوائری شروع کی۔ 2018ء میں اسی کیس میں گرفتار کیا گیا۔ اس وقت بھی نیب کے ساتھ بھرپور تعاون کیا۔درخواست میں کہا گیا ہے کہ 2018ء میں نیب نے اختیارات کے ناجائز استعمال کا ایک بھی ثبوت سامنے نہیں رکھا۔ نیب ایسے کیس میں اپنے اختیار کا استعمال نہیں کر سکتا جس میں کوئی ثبوت موجود نہ ہو۔
شہباز شریف نے موقف اختیار کیا کہ تواتر سے تمام اثاثے ڈکلیئر کرتا آ رہا ہوں۔ منی لانڈرنگ کے الزامات بھی بالکل بے بنیاد ہیں۔ نیب انکوائری کے دوران اینٹی منی لانڈرنگ ایکٹ کے اختیارات استعمال نہیں کر سکتا۔
لاہورہائی کورٹ میں شہباز شریف نےدرخواست امجد پرویز ایڈووکیٹ کی وساطت سے دائرکی جس میں استدعا کی گئی ہے کہ زیر التواء انکوائری میں قومی احتساب بیورو(نیب) کی جانب سے گرفتار کیے جانے کا خدشہ ہے، اس لیے عبوری ضمانت منظور کی جائے۔ درخواست میں شہباز شریف کا کہنا ہے کہ نیب نے بد نیتی کی بنیاد پر آمدن سے زائد اثاثوں کا کیس بنایا ہے اور حکومت کے سیاسی اثر و رسوخ کی وجہ سے نیب نے انکوائری شروع کی جب کہ نیب کی جانب سے لگائے گئے الزامات عمومی نوعیت کے ہیں۔ شہباز شریف کا کہنا ہے کہ وہ اپنے اثاثے ڈکلیئر کراتے رہے ہیں اور ان پر منی لانڈرنگ کے الزامات بالکل بے بنیاد ہیں، نیب انکوائری کے دوران اینٹی منی لانڈرنگ ایکٹ کے اختیارات استعمال نہیں کر سکتا، لہٰذا عبوری ضمانت منظور کی جائے۔
