سنتھیا کی بیہودگی پر PPP کا ISI اور FIA سے رابطہ

پیپلز پارٹی کی اعلیٰ قیادت نے مسلم دنیا کی پہلی خاتون وزیر اعظم محترمہ بے نظیر بھٹو کے حوالے سے بیہودہ الزامات پر مبنی ٹوئٹ کرنے پر پاکستان میں مقیم مشکوک امریکی خاتون سنتھیا ڈی رچی کے خلاف کارروائی کیلئے آئی ایس آئی اور ایف آئی اے سے رابطہ کر لیا ہے۔ پاکستان پیپلز پارٹی کی سابق سینیٹر سحر کامران نے پیپلز پارٹی کے خلاف سرگرم سنتھیا ڈی رچی کے خلاف ڈی جی آئی ایس آئی اور ڈی جی ایف آئی کو خط لکھا ہے اور سنتھیا ڈی رچی کی مشکوک سرگرمیوں کا نوٹس لینے اور اسے فوری ملک بدر کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔
WhatsApp Image 2020 06 01 at 3.37.37 PM 3
WhatsApp Image 2020 06 01 at 3.37.37 PM
پیپلز پارٹی کی سابق سینیٹر سحر کامران کی طرف سے ڈی جی آئی ایس آئی لیفٹینینٹ جنرل فیض حمید اور ڈی جی آیف آئی اے واجد ضیا کو لکھے گئے خطوط میں کہا گیا ہے کہ سنتھیا ڈی رچی کے مسلم دنیا کی پہلی وزیراعظم بے نظیر بھٹو شہید کے متعلق مذموم ٹویٹس اشتعال انگیزی کا سبب بن رہے ہیں۔ پیپلز پارٹی کے رہنماؤں، کارکنان اور حامیوں کے علاوہ دیگر سیاسی شخصیات اور صارفین نے ٹوئٹر پر سنتھیا کےمنفی پراپیگنڈے پر غم و غصے کا اظہار کیا ہے اور شدید الفاظ میں مذمت کی ہے۔ سابق سینیٹر سحر کامران نے اپنے خط میں مزید کہا ہے کہ سنتھیا ڈی رچی اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹ کے ذریعے پاکستان میں عوامی جذبات کو متاثر کرنے اور ملکی آبادی کے ایک بڑے حصے میں وسیع پیمانے پر غم و غصہ پھیلانے کا سبب بنی ہوئی ہیں۔ سینیٹر سحر کامران نے کہا ہے کہ سنتھیا کی پاکستان کی عسکری نمائندگان کے ساتھ تصویریں سوشل میڈیا پر گردش کر رہی ہے اور یہ مشکوک کردار کی حامل عورت ایسا تاثر دے رہی ہے کہ اس کو پاکستان کے عسکری اداروں کی حمایت حاصل ہے۔ سنتھیا کی پیپلز پارٹی کے خلاف سازشیں اورملکی عسکری نمائندگان اور اعلیٰ بیوروکریسی کے ساتھ تصاویر سے عوام میں منفی پیغام جا رہا ہےاور پیپلز پارٹی کے کارکنان میں تشویش کی لہر پیدا ہو رہی ہے۔سحر کامران نے مطالبہ کیا کہ اس حوالے سے پاکستانی عسکری حکام اور تحقیقاتی اداروں کو سنتھیا ڈی رچی کے پروفائل اور متنازعہ کردار کا مکمل جائزہ لینا چاہیے اور معلوم کرنا چاہیے کہ وہ کسی ایجنڈے کے تحت برسوں سے اسلام آباد میں مقیم ہے۔
WhatsApp Image 2020 06 01 at 3.37.37 PM 1
WhatsApp Image 2020 06 01 at 3.37.37 PM 2
سابق سینیٹر سحر کامران نے کہا کہ یہ مسلئہ انفرادی نوعیت کا نہیں ہے بلکہ یہ مشکوک خاتون ایک سوچی سمجھی حکمت عملی کے تحت اپنے سیاست دان اور پیپلز پارٹی دشمن ایجنڈے کو سوشل میڈیا کے ذریعے قومی اور بین الاقوامی سطح پر پھیلا رہی ہے۔ اسی طرح سے وہ ملک میں خواتین کی حالت اور انسانی حقوق کے حوالے سے قوم کی توہین کا باعث بن رہی ہے۔سحر کا مران کا ڈی جی آئی ایس آئی اور ڈی جی ایف آئی اے کے نام لکھے گئے خطوط میں مزید کہنا ہے کہ سنتھیا کی عسکری قیادت اور سینیر بیوروکریسی کیساتھ سوشل میڈیا پر تصاویر بہت سارے سوالات کو جنم دے رہی ہیں اور ملکی سلامتی کے اداروں کو اس حوالے سے اپنے کردار کی وضاحت کرنی چاہیے۔
سحر کامران نے اپنے خطوط میں سنتھیا ڈی رچی کے حوالے سے پانچ بھی سوالات اٹھائے ہیں۔ خط میں پوچھا گیا ہےکہ یہ خاتون کس حیثیت سے پاکستان میں اتنے طویل عرصے سے قیام پذیر ہے ،اس خاتون کے ویزے کا سٹیٹس کیا ہے اسے کس نے پاکستان بلوایاہے اور طویل مدتی ویزہ کس بنیاد پر دیا گیا ہے؟ اسلام آباد میں اس مشکوک کردار کی عورت کی موجودگی کے بارے میں سرکاری پالیسی کیا ہے ؟ خط میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ایسی خاتون جو ایک سیاح ہونے کا دعوی کرتی ہے وہ کیسے پاکستان کے متعلق اہم ایشوز پربات کررہی ہے ، کیا اسکی موجودگی ریاست کے لیے خطرناک تو نہیں۔ سینتھیا کا پی پی پی مخالف پراپیگنڈہ کرنے کا کیا مقصد ہے ور ایسا وہ اس کے ایما پر کر رہی ہے؟ سحرکامران نے آخرمیں یہ بھی کہا کہ پاکستانی حکومت اس امریکی خاتون کے بارے میں جلد از جلد اپنی پالیسی واضح کرے اور سیتھیا ڈی رچی کو فوری ملک بدر کیا جائے۔ واضح رہے کہ اس سے قبل سیتھیا ڈی رچی کی بیہودہ الزامات پر مبنی ٹوئٹس کے خلاف پاکستان پیپلز پارٹی اسلام آباد کے صدر اور ایڈوکیٹ ہائی کورٹ شکیل عباسی کی طرف سے ایف آئی اے سائبر کرائم ونگ اسلام آباد جبکہ فیصل میر نے ایف آئی اے سائبر کرائم ونگ لاہور میں درخواست جمع کروائی ہے۔ ان شکایات میں کہا گیا ہے کہ ایک مشکوک خاتون جو ٹوئٹر ہر سنتھیا ڈی رچی کے نام سے جانی جاتی ہیں، نے اپنے ٹویٹر اکاؤنٹ سے پاکستان کی سابق وزیرِ اعظم محترمہ بینظیر بھٹو کے بارے میں انتہائی توہین آمیز اور بیہودہ تبصرے پوسٹ کیے ہیں۔ سینتھیا کے جھوٹے، بے بنیاد، بدنامی اور بہتان پر مبنی ٹویٹس سے پاکستان میں بینظیر بھٹو کے چاہنے والوں کو شدید دکھ اور تکلیف پہنچی ہے لہذا ایف آئی اے سنتھیا رچی کے خلاف فوراً کارروائی کرے تاکہ پتہ چل سکے کہ یہ مشکوک عورت کن لوگوں کا مکروہ ایجنڈا لے کر چل رہی ہے۔
یاد رہے کہ پچھلے کئی برسوں سے مشکوک طور پر اسلام آباد میں قیام پذیر اور پاکستانی اسٹیبلشمنٹ سے قریبی تعلقات کی دعویدار سنتھیا رچی اپنا تعارف فری لانس پروڈیوسر، ہدایت کار ور سٹریٹیجیک کمیونکیشنز کنسلٹنٹ کے طور پر کرواتی ہیں۔ وہ امریکی شہری ہے اور چند برس قبل پاکستان آئی تھی۔ ماضی میں اسے اکثر سابق ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل آصف غفور کے ساتھ دیکھا جاتا تھا۔ امریکی جاسوس ریمنڈ ڈیوس کے واقعے کے بعد سے پاکستان میں امریکی شہریوں کو بلا وجہ لمبے قیام کی اجازت نہیں دی جاتی۔ تاہم سنتھیا پچھلے کئی برسوں سے کسی نا معلوم مشن کے تحت اسلام آباد میں مقیم ہے۔ اسلام آباد کے سیاسی حلقے اسے سی آئی اے کی ایجنٹ بھی قرار دیتے ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button