کیا عظمی خان نے بالآخر ملک ریاض سے ڈیل کر لی؟

پاکستان کی مشہور کاروباری شخصیت اور بحریہ گروپ کے مالک ملک ریاض کی بیٹیوں کے ہاتھوں مبینہ طور پر تشدد کا نشانہ بننے والی اداکارہ اور ماڈل عظمیٰ خان کی وکیل خدیجہ نے دونوں پارٹیوں کے مابین تصفیے کی خبروں کے بعد اس مقدمے سے علیحدہ ہونے کا اعلان کر دیا ہے۔ عظمی کی وکیل کے مطابق یہ فیصلہ انھوں نے فریقین میں تصفیے کی مصدقہ خبروں کے بعد کیا ہے اور وہ سمجھتی ہیں کہ یہ ان کی موکلہ کی نہیں بلکہ پاکستان کے نظام انصاف کی شکست ہے جس نے انھیں سخت مایوس کیا ہے۔
خیال رہے کہ تاحال مقدمے کے فریقین کی جانب سے کسی تصفیے کی تصدیق یا تردید نہیں کی گئی ہے تاہم خدیجہ صدیقی کا کہنا تھا کہ انھیں تصفیے کے بارے میں اطلاعات مصدقہ ذرائع سے ملی ہیں اور انھیں نہیں لگتا کہ یہ غلط ہو سکتی ہیں اور اگر ایسا ہوا بھی تو بھی وہ دوبارہ عظمی خان کی قانونی ٹیم کا حصہ نہیں بنیں گی۔ خدیجہ صدیقی نے ٹوئٹر پر بھی مقدمے سے الگ ہونے کے بارے میں بات کرتے ہوئے کہا کہ ’وہ ایک غیر لچک دار نظام میں دونوں متاثرہ خواتین کی جانب سے تصفیے کی وجوہات کو سمجھ سکتی ہیں۔ تاہم ان کا ضمیر اجازت نہیں دیتا کہ وہ پیشہ وارنہ طور پر اس تصفیے کا حصہ بنیں۔‘
عظمیٰ خان اور ہما خان کی وکیل کی جانب سے مقدمے سے علیحدگی کا اعلان ایک ایسے موقع پر سامنے آیا ہے جب ملک جون کو ہی لاہور کی سیشن کورٹ کی جانب سے حکام کو ، ملک ریاض کی دونوں بیٹیوں عنبر ملک، پشمینہ ملک اور عنبر ملک کی بھتیجی آمنہ عثمان ملک کو 15 جون تک گرفتار کرنے سے روک دیا گیا ہے۔
ایڈیشنل سیشن جج فرخ حسین نے پچاس پچاس ہزار روپے کے مچلکوں کے عوض عبوری درخواست ضمانت منظور کی۔ درخواست میں تینوں خواتین کا موقف تھا کہ وہ بے قصور ہیں اور ان کے خلاف مقدمہ حقائق کے بر عکس درج کیا گیا ہے۔
اس سے قبل لاہور میں کینٹ کچہری کے جوڈیشل مجسٹریٹ غلام شبیر سیال نے آمنہ عثمان، پشمینہ ملک اور عنبر ملک کے وارنٹ گرفتاری جاری کیے تھے۔
واضح رہے کہ پولیس نے آمنہ عثمان سمیت دیگر کے خلاف گھر میں گھس کر تشدد کرنے اور قیمتی اشیا کو نقصان پہنچانے کے الزامات کے تحت مقدمہ درج کر رکھا ہے۔مقدمے میں سنگین نتائج کی دھمکیاں دینے اور زخمی کرنے کی دفعات بھی شامل ہیں۔ اس سے قبل لاہور پریس کلب میں پریس کانفرنس کے دوران ایک سوال پر کہ کیا لین دین سے معاملہ طے ہونے کا امکان ہے، عظمیٰ خان نے کہا تھا کہ اگر ایسا کچھ ہوتا تو وہ آج یہاں پریس کے سامنے نہ ہوتی۔ انھوں نے کہا کہ اگر انھیں بات ختم کرنا ہوتی اور لین دین ہی کرنا ہوتا تو وہ یہ مقدمہ ہی درج نہ کراتیں۔ تاہم اب عظمی خان کی اپنی وکیل خدیجہ صدیقی کا یہ کہنا ہے کہ ان کے پاس ملک ریاض اور عظمی کے مابین ایک مصدقہ ڈیل کی اطلاعات ہیں۔
