لاہور میں درج ایک اور مقدمہ میں گرفتاری، تھانہ کوتوالی منتقل

یوتھیے صحافی عمران ریاض خان کو لاہور میں درج ایک مقدمہ میں گرفتارکرلیا گیا ہے اور انہیں تھانہ کوتوالی منتقل کر دیا گیا ہے۔

ان کے وکیل علی اشفاق نے بتایا کہ عمران ریاض خان کو پولیس نے لاہور میں درج مقدمے میں گرفتاری کر لیا اور لاہور پولیس عمران ریاض خان کو لاہور لا رہی ہے، عمران ریاض خان کو لاہور کی مقامی عدالت میں پیش کیا جائے گا۔

عمران ریاض خان کے خلاف لاہور کے سول لائن پولیس نے بغاوت کا مقدمہ درج کر رکھا ہے۔ ان کی جانب سے ان کے وکلا میاں علی اشفاق اور رانا معروف عدالت میں پیش ہوں گے۔

قبل ازیں لاہور پولیس نے عمران ریاض کو چکوال کی مقامی عدالت میں پیش کیا اور 3 روزہ ریمانڈ کی استدعا کی تاہم عدالت نے ایک دن کا ریمانڈ منظور کیا، عدالت نے پولیس کو ہدایت کی کہ عمران ریاض کو متعلقہ علاقے کے جوڈیشل مجسٹریٹ کے سامنے 9 جولائی کو پیش کریں۔

یاد رہے کہ عمران ریاض کو اٹک پولیس نے منگل کی رات اسلام آباد کے قریب سے حراست میں لیا تھا، انہیں جمعرات کی صبح مقامی عدالت نے ریلیف دے دیا تھا لیکن یہ ریلیف بہت مختصر ثابت ہوا اور چکوال پولیس نے انہیں رہائی کے فوری بعد اٹک ڈسٹرکٹ جوڈیشل کمپلیکس سے گرفتار کر لیا تھا، جج تنویر نے فیصلہ رات 3 بجے محفوظ کیا تھا اور صبح سویرے 4 بجے کے قریب سنایا گیا، جج نے فیصلہ سناتے ہوئے اینکر پرسن عمران ریاض کے خلاف غداری کا مقدمہ خارج کر دیا تھا اور ناکافی شواہد کی بنا پر انہیں رہا کرنے کا حکم دیا تھا۔

فیصلے میں جج نے کہا تھاعمران ریاض کو چکوال پولیس کے حوالے نہیں کیا جا سکتا لیکن جیسے ہی عمران ریاض اپنی رہائی کے بعد کمرہ عدالت سے باہر نکلے تو انہوں نے رضاکارانہ طور پر خود کو انتظار کرنے والی پولیس پارٹی کے حوالے کر دیا جس نے بعد میں انہیں چکوال کے ایک پولیس اسٹیشن منتقل کر دیا۔

عدالتی حکم نامے میں کہا گیا تھا کہ اس مرحلے پر پوری فوٹیج دیکھنے اور معاملہ سننے کے بعد پتا چلا کہ عدالت میں موجود ملزم نے کوئی نازیبا ریمارکس یا کوئی اور توہین آمیز لفظ استعمال نہیں کیا جس سے یہ کہا جا سکے کہ ملزم نے ایف آئی آرمیں درج کردہ جرائم کا ارتکاب کیا، جج نے فیصلے میں مزید کہا کہ پولیس سختی سے مکمل طور پر قانونی طریقہ کار اپناتے ہوئے معاملے کی مزید تفتیش کر سکتی ہے۔

واضح رہے کہ صحافی عمران ریاض خان کو منگل اور بدھ کی درمیانی شب اسلام آباد جاتے ہوئے اٹک میں درج بغاوت کے مقدمے میں گرفتار کر لیا گیا تھا۔

ان کے وکیل میاں علی اشفاق بتایا تھا کہ عمران ریاض خان کے خلاف پنجاب بھر میں 17 بغاوت کے مقدمات درج کیے گئے ہیں، انہوں نے دعویٰ کیا تھا کہ ان کے مؤکل کو اسلام آباد کی حدود سے گرفتار کیا گیا جو ہائی کورٹ کے حکم کی خلاف ورزی ہے، اس کے خلاف توہین عدالت کی درخواست دائر کر رہے ہیں۔

اس کے بعد رات گئے اسلام آباد ہائی کورٹ نے عمران ریاض خان کی گرفتاری پر دائر توہین عدالت کی درخواست پر آئی جی اسلام آباد کی جانب سے مجاز افسر کو صبح 10 بجے طلب کر لیا تھا۔

عدالت عالیہ کے چیف جسٹس اطہرمن اللہ نے درخواست نمٹاتے ہوئے کہا کہ ہر عدالت کا اپنا دائرہ اختیار ہے، لاہور ہائی کورٹ اس معاملے کو دیکھ سکتی ہے، عمران ریاض خان کی گرفتاری اٹک میں ہوئی جو اس عدالت کا دائرہ اختیار نہیں بنتا، یہ کورٹ پنجاب کی تفتیش نہیں کر سکتی۔

عمران ریاض کو اٹک کی مقامی عدالت میں پیش کیا گیا ،جہاں جج نے کہا کہ پیکا دفعات ہیں، ایف آئی آر میں کیس کیسے سن سکتا ہوں اور انہیں راولپنڈی جوڈیشل کمپلیکس کے اسپیشل مجسٹریٹ پرویز خان کی عدالت میں پیش کیا گیا جہاں جج نے عمران ریاض کو دوبارہ آج ہی اٹک کی مقامی عدالت میں پیش کرنے کا حکم دیا۔

راولپنڈی جوڈیشل کمپلیکس کے اسپیشل مجسٹریٹ پرویز خان ریمارکس دیے کہ یہ کیس میری عدالت میں نہیں بنتا، میں ایف آئی اے کا جج ہوں اور حکم دیا کہ اور ایف آئی اے کی دفعات ختم کی جائیں، عدالت نے محفوظ فیصلہ سناتے ہوئے ایف آئی اے کی دفعات بھی ختم کرنے کا حکم دیا۔

اٹک کی مقامی عدالت کے جج تنویر نے رات 3 بجے محفوظ کیا اور صبح 4 بجے کے قریب سنایا اور عمران ریاض کی فوری رہائی کا حکم دیا تھا جبکہ وکلا کا کہنا تھا کہ اتنی صبح فیصلے کا اعلان اٹک کی عدالتی تاریخ کا پہلا فیصلہ ہے، فیصلے میں کہا گیا تھا کہ اس وقت موجودہ کیس میں ثبوت ناکافی ہیں جو ملزم عمران ریاض کو مجرم ثابت کرسکیں، جیسا کہ کرائم رپورٹ میں درج ہے، اس لیے ملزم عمران ریاض خان کو کیس سے بری کیا جاتا ہے۔

Back to top button