مسلمانوں اللہ سے ڈور،اسی میں تمہاری کامیابی ہے، خطبہ حج

خطبہ رابطہ عالم اسلامی کے سیکریٹری جنرل اوردانشورشیخ ڈاکٹرمحمد بن عبدالکریم العیسیٰ نے کہا ہے کہ دنیا کے مسلمانوں اللہ سے ڈرو کیونکہ اللہ سے ڈرنے میں ہی تمہاری کامیابی ہے،بہترین انسان وہ ہے جو خیر کی راہ پر گامزن ہو،آپ کی مصیبت اللہ کے سوا کوئی دور نہیں کر سکتا، آخرت کی کامیابی بھی صرف اللہ کے احکامات کو ماننے میں ہے۔
شیخ ڈاکٹر محمد بن عبدالکریم العیسیٰ نےمسجد نمرہ میں حج 1443 ھ کا خطبہ دیتے ہوئےکہا اللہ تعالیٰ نے تقویٰ اختیار کرنے کی بار بار تعلیم دی، حقیقتاً حج کا زاد راہ تقویٰ ہے، ہمیں چاہیے کہ ہم تقویٰ اختیار کریں اور تقویٰ توحید سے آتا ہے جس کی دعوت نبی اکرمﷺ سمیت تمام انبیا کرام لے کر آئے،اللہ رب العلامین سے ڈرتے رہو جس طرح اس سے ڈرنے کا حق ہے، تمہارے سب معاملات اللہ کے علم میں ہیں اور یہ بات ذہن نشین رکھو کہ اگر تم اللہ کا ڈر اور خوف اپنے دل و دماغ میں قائم رکھو گے تو اللہ ڈرنے والوں کے ساتھ ہے۔
انکا کہنا تھا قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے تقویٰ اختیار کرنے کی بار بار تعلیم دی، ہمیں چاہیے کہ ہم تقویٰ اختیار کریں اور تقویٰ توحید سے آتا ہے، توحید اسلامی عقائد میں بنیادی جزو ہے، اے لوگوں اللہ رب العزت کی عبادت کرو کہ وہ تمہارا پروردگار اور تمہارا پیدا کرنے والا ہے اور تمہیں رزق دینے والا ہے،اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی کو شریک نہ کیا جائے اور یہی وہ دعوت ہے جسے تمام انبیا کرام لے کر آئے، ہر نبی نے یہی دعوت دی کہ اللہ کی عبادت کی جائے اور اسی کی طرف رجوع کیا جائے، ہر نبی نے اپنی امت کو توحید کی دعوت دی حتیٰ ہمارے نبیﷺ نے بھی توحید کی تعلیم دی۔
انہوں نے کہا حقیقت یہ ہے کہ تمہیں دنیا کی کوئی بھی تکلیف پہنچے، وہ تکلیف بھی اللہ کی طرف سے ہے، جب تم اس تکلیف میں پڑ جاتے ہو تو اللہ رب العزت ہی تمہیں اس تکلیف سے نجات دلاتا ہے، کوئی اور نہیں جو تمہاری تکالیف کو دور کر سکے،نبی اکرمﷺ نے خود فرمایا کہ اسلام کی بنیاد پانچ باتوں پر ہے، اللہ تبارک و تعالیٰ کی وحدانیت کی گواہی دینا، کلمہ طیبہ پڑھنا، نماز پڑھنا، ذکوٰۃ دینا،، حج کرنا اور روزہ رکھنا اور حقیقت یہ ہے کہ نماز اسلام کا بنیادی رکن ہے، قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا کہ بے شک نماز بے حیائی اور برے کاموں سے روکتی ہے۔
شیخ محمد بن عبدالکریم العیسیٰ نے کہا رمضان کا مہینہ پاؤ تو روزے رکھا کرو، جب حج کا مہینہ آئے تو حج کریں کیونکہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے پاک کلام میں ارشاد فرمایا کہ اللہ نے استطاعت رکھنے والے تمام اہل ایمان پر حج فرض کیا ہے، اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا کہ حج جاتے ہوئے میہنوں میں ادا کیا جاتا ہے اور حج یہ ہے کہ اس میں کسی قسم کا ربط نہ کای جائے، کوئی فسق و فجور کی بات نہ کی جائے، حقیقت یہ ہے کہ حج کا زاد راہ تقویٰ ہے،اللہ تعالیٰ کی عبادت ایسے کرو کہ گویا تم اللہ تعالیٰ کو دیکھ رہے ہو اور اگر ایسا نہ ہو تو تمہیں اتنا احساس ہونا چاہیے کہ اللہ تمہیں دیکھ رہا ہے۔
خطبہ حج میں انہوں نے کہا میں تم کو نصیحت کرتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ کا تقویٰ اور خوف اختیار کرو کہ اللہ نے خود قرآن مجید میں ارشاد فرمایا کہ مغفرت کی طرف تیزی سے دوڑو،مسلمان ہو یا غیرمسلم ہر کسی سے گفتگو کرتے ہوئے اپنے کلام میں نرمی پیدا کریں اور انتہائی محبت کے ساتھ گفتگو کریں کیونکہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے ارشاد فرمایا کہ لوگوں کے ساتھ اچھے رویے اور اچھے انداز سے گفتگو کرنی چاہیے،نبی اکرمﷺ کے اخلاق عالیہ کے متعلق کلام مجید میں اللہ تبارک و تعالیٰ نے ارشاد فرمایا کہ بے شک آپ کے اخلاق سب سے اعلیٰ اور بلند ہیں، حقیقت یہ ہے کہ ہم مسلمانوں کو چاہیے کہ وہ اخلاق کو اختیار کریں اور آپس میں ایک دوسرے کے ساتھ رواداری اور اقدار کا خیال رکھیں، ایک دوسرے سے اچھے اخلاق سے بات کریں۔
انکا کہنا تھا ایک مسلمان کا دوسرے مسلمان پر حق یہ ہے کہ اس کا خون اس پر حرام ہے، اس کی عزت و حرمت اس پر حرام ہے لہٰذا ایک مسلمان دوسرے مسلمان کے ساتھ انتہائی اعلیٰ اخلاق کے ساتھ پیش آئے اور کسی کے ساتھ ایسا رویہ اختیار نہ کرے جس سے آپس میں رنجشیں اور چپقلش پیدا ہو۔
شیخ محمد بن عبدالکریم العیسیٰ نے کہا اے حجاج اور اے تمام سننے والوں، اللہ تبارک و تعالیٰ نے ہمارے لیے یہ لازم کردیا ہے کہ ہم ایک دوسرے سے اخوت، محبت، اتحاد اور اتفاق کے ساتھ پیش آئیں، اللہ کے نبیﷺ نے بھی ارشاد فرمایا کہ تم میں بہترین شخص وہ ہے جو لوگوں کو زیادہ فائدہ پہنچانے والا ہے،اللہ تعالیٰ کی ذات نے تمہارے دلوں میں ایک دوسرے کے لیے الفت اور محبت پیدا کردی حالانکہ تم لوگ اس سے پہلے ایک دوسرے کے شدید ترین دشمن تھے، تمہارے درمیان اختلاف تھا، اللہ تعالیٰ نے رسول پاکﷺ کے سبب تمہارے درمیان سے اختلاف دور کردیا اور تمہارے درمیان الفت اور آپس میں محبت اور بھائی چارہ پیدا کردیا۔
انہوں نے کہاآپﷺ نے فرمایا کہ میدان عرفات میں عرفات کے دن کثرت کے ساتھ اللہ کا ذکر کریں اور اللہ کو یاد کریں، اے حجاج کرام، اسی عرفات کے میدان میں حضور اکرمﷺ پر یہ آیت نازل ہوئی کہ آج ہم نے تمارے اوپر تمہارا دین مکمل کردیا اور اللہ تعالیٰ نے اسلام کو بحیثیت دین کے پسند فرما دیا، میدان عرفات میں جو دعا کی جاتی ہے، اللہ تبارک تعالیٰ اس دعا کو قبول فرماتا ہے۔
خطبہ حج کے بعد ڈاکٹر شیخ محمد بن عبدالکریم العیسیٰ نے دعا کرائی اور پھر عازمین نے مسجد نمرہ میں نماز ظہر اور عصر ادا کی۔
خیال رہے کہ عازمین کرام آج حج کا رکن اعظم وقوف عرفہ ادا کر رہے ہیں۔
قبل ازیں عزام کرام نے رات منیٰ میں قیام کیا، عبادات، تلاوت اور استغفار میں مصروف رہے اور نماز فجر کے بعد عازمین میدان عرفات روانہ ہوئے۔
واضح رہے کہ رواں سال 10 لاکھ افراد کو حج ادا کرنے کی اجازت دی گئی ہے، ان 10 لاکھ افراد میں بیرون ملک سے آنے والے 8 لاکھ 50 ہزار عازمین حج بھی شامل ہیں جبکہ گزشتہ 2 سال کے بعد وبائی مرض کورونا وائرس کی وجہ سے حج کی ادائیگی کے لیے آنے افراد کی تعداد بہت بڑی حد تک کم ہوگئی تھی، یہ تعداد اب بھی وبائی مرض کووڈ 19 سے قبل 2019 میں حج کرنے والے 25 لاکھ لوگوں کے مقابلے میں بہت کم ہے لیکن یہ تعداد گزشتہ سال فریضہ حج کی ادائیگی کے لیے آنے والے 60 ہزار لوگوں سے نمایاں طور پر زیادہ ہے، گزشتہ سال 60 ہزار سعودی شہریوں نے حج ادا کیا تھا جو مکمل ویکسینیٹڈ تھے۔
