چی گویرا واقعی سچا انقلابی تھا یا ایک سفاک قاتل؟


معروف لکھاری اور تجزیہ کار وجاہت مسعود نے کیوبا سے تعلق رکھنے والے امریکہ مخالف انقلابی گوریلا رہنما چی گویرا کے حوالے سے ایک نیا نقطہ نظر پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ بولیویا میں گرفتار ہونے کے بعد چی گویرا کی بہادری کے قصے محض ایک افسانہ ہیں۔ سچ یہ ہے کہ اس نے روتے ہوئے کہا تھا ’’پلیز گولی مت مارنا۔ میں چے گویرا ہوں اور زندہ رہنے کی صورت میں زیادہ مفید ثابت ہوں گا۔‘‘

روزنامہ جنگ کے لیے اپنی تازہ تحریر میں وجاہت مسعود کہتے ہیں کہ 1959ء میں کیوبا میں انقلاب برپا کرنے کے بعد چی گویرا انقلابی عدالتوں کے سربراہ بنے جہاں وہ خود ہی استغاثہ، جج اور جلاد تھے۔ انہون نے عقوبت خانے قائم کئے جہاں کم از کم چودہ ہزار افراد کو بغیر مقدمہ چلائے قتل کیا گیا۔ موصوف نے ان گنت افراد کو اپنے ہاتھ سے گولی ماری۔ چی گویرا نے انہی دنوں اپنے باپ کے نام ایک خط میں لکھا کہ بارود اور لہو کی ملی جلی بْو میرے نتھنوں میں پہنچی تو مجھے پہلی بار احساس ہوا کہ مجھے قتل کرنے میں لطف آتا ہے۔ چی گویرا کا قانونی فلسفہ سادہ سا تھا کہ ’ہمیں یہ نہیں جاننا کہ ملزم سزا کا مستحق ہے یا نہیں۔ ہمیں صرف یہ معلوم کرنا ہے کہ اسے سزا دینا انقلاب کی ضرورت ہے یا نہیں‘۔ چے گویرا سمجھتے تھے کہ اخبارات اور آزاد صحافت کے ہوتے ہوئے انقلاب کامیاب نہیں ہو سکتا۔ چی گویرا کے ستم رسیدگان میں سیاہ فام باشندے اور ہم جنس پسند بھی شامل تھے۔ اسے ذاتی مخالفین کے علاوہ شک کی بنیاد پر قریبی رفقا کو قتل کرنے میں بھی عار نہیں تھی۔

وجاہت مسعود کے بقول چی گویرا ایٹم بم کے ذریعے انقلاب مخالفوں کو ملیامیٹ کرنے کا خواب دیکھتے تھے۔ انہیں جمہوریت، شخصی آزادیوں اور انسانی حقوق جیسے لفظوں سے سخت نفرت تھی۔ وہ تقریر و تحریر کی آزادی، مذہبی رواداری حتیٰ کہ جدید موسیقی کو بھی بورژوا سازش سمجھتے تھے۔ بولیویا میں گرفتاری کے بعد چے گویرا کی بہادری محض ایک افسانہ ہے۔ دراصل اس نے روتے ہوئے کہا تھا ’’پلیز گولی مت مارنا۔ میں چے گویرا ہوں۔ زندہ رہنے کی صورت میں زیادہ مفید ثابت ہوں گا۔‘‘

یاد رہے کہ وجاہت مسعود کے نقطہ نظر کے برعکس عمومی طور پر چی گویرا کو انقلاب کی ایسی علامت سمجھا جاتا ہے جس کا حوالہ دنیا بھر میں دیا جاتا ہے۔ گذشتہ دنوں ایاز امیر کا عمران خان کے سامنے تقریر میں چے گویرا کا ذکر کرنا تھا کہ سوشل میڈیا پر ایک طوفان کھڑا ہو گیا۔ کچھ لوگ اسے چے گویرا کی بدترین توہین اور کچھ لوگ اسے حقیقت کی ترجمانی کہہ رہے ہیں۔ ایسے میں یہ جاننا ضروری ہے کہ چی گویرا کون تھا۔

نوآبادیاتی نظام اور سرمایہ دارانہ بندوست سے گوریلا کارروائیوں کے ذریعے نجات کے خواب دیکھنے والا چی گویرا بنیادی طور پر میڈیکل کا سٹوڈنٹ تھا جسے سیاحت کا شوق انقلاب کے رستے پر لے گیا۔ 22 سالہ نوجوان نے 1950 میں پہلی بار موٹر سائیکل کے ذریعے جنوبی امریکہ کا سفر کیا۔ مجموعی طور پر تین بار چلی، پیرو، کولمبیا، پانامہ، برازیل، بولیویا اور کیوبا جیسے کئی ممالک کی سیر کے دوران تقریباً نو ہزار کلومیٹر کا سفر طے کرنے والے چی گویرا کی یہ روداد ’دی موٹر سائیکل ڈائریز‘ کے نام سے پبلش ہوئی جو نہ صرف نیویارک ٹائمز کی بیسٹ سیلر کتاب بن گئی بلکہ اس پر اسی نام سے فلم بھی بنائی گئی۔ دیہی علاقوں میں رہنے والے باشندوں کی بھوک، غربت اور مختلف امراض کا یہ پہلا براہ راست مشاہدہ تھا جس نے چی گویرا کو ہلا کر رکھ دیا۔ مطالعے کا شوقین یہ نوجوان اس نتیجے پر پہنچا کہ اس کا سبب سرمایہ دارانہ نظام اور امریکی تسلط ہے جس سے چھٹکارا حاصل کیے بغیر اصلاح ممکن نہیں۔ ان کے ڈائری کے مطابق ’ان لوگوں کی مدد کے جذبے کے تحت‘ میں نے میڈیکل کے شعبے کو خیرآباد کہا اور ہتھیار بند سیاسی جد و جہد کے میدان میں قدم رکھ دیا۔

چی گویرا کا پہلا پڑاؤ گوئٹے مالا تھا جہاں اس وقت جیکوبو آربینز کی جمہوری حکومت زرعی ریفارمز سے جاگیر دارانہ نظام کی بساط لپیٹنے کی کوشش کر رہی تھی۔ اس کی زد پر محض انفرادی شخصیات ہی نہیں بڑی بڑی امریکی کمپنیاں بھی شامل تھیں جیسا کہ یونائیٹڈ فروٹ کمپنی جس سے حکومت نے سوا دو لاکھ ایکٹر زمین واپس لی۔ اس وقت اس کمپنی کا سالانہ منافع 65 ملین ڈالرز تھا جو گوئٹے مالا کے ریوینیو کا تقریباً دگنا بنتا ہے۔  چی گوریلا آربینیز کے اقدامات سے حد درجہ متاثر ہوا اور گوئٹے مالا ٹھہرنے کا فیصلہ کر لیا تاکہ خود کو ’مکمل بنایا جائے اور سچا انقلابی بننے کے لیے جو کچھ ضروری ہے اس پر گرفت حاصل کی جائے۔‘

جون 1954 میں گوئٹے مالا کی فوج نے ملک پر قبضہ کر لیا۔ یہ ایسا واقعہ ہے جس نے چی گویرا کی زندگی پر دور رس اثرات مرتب کیے۔ وہ سرمایہ دارانہ نظام سے شدید متنفر ہوا جہاں یونائیٹڈ فروٹ نامی ایک پرائیویٹ کمپنی اور سی آئی اے کا اشتراک سرعام ایک حکومت کا دھڑن تختہ کر سکتے ہیں۔ انقلابی جدوجہد کے ابتدائی دنوں کی ساتھی اور بعد میں ان کی اہلیہ بننے والی ہلڈا گادیا کے بقول ’یہ گوئٹے مالا ہی تھا جس نے اسے سامراج کے خلاف مسلح جد و جہد اور جارحانہ حکمت عملی پر مائل کیا۔‘ اس دوران چی گویرا کمیونسٹ نوجوانوں پر مشتمل مسلح گروہ کا حصہ بن گیا جس کا مقصد آربینیز کی بحالی کی تحریک چلانا تھی۔ گوئٹے مالا میں عوام کے سرد مہری کے عمومی رویے اور اپنی جان کے خطرے کے پیش نظر چی گویرا میکسیکو چلے گئے جہاں ان کی ملاقات راؤل کاسترو اور ان کے بھائی فیدل کاسترو سے ہوئی جو ’دنیا کو تبدیل کر دینے والی انقلابی دوستی‘ کا نقطہ آغاز تھی۔

اب چی گویرا کی نظریں کیوبا میں انقلاب پسند تحریکوں پر تھیں۔ انہوں نے کاسترو کے شانہ بشانہ وہاں کے ڈکٹیٹر بتیستا کے خلاف گوریلا جنگ میں انتہائی اہم کردار ادا کیا۔ کیوبا میں انقلاب کے بعد انہیں نیشنل بینک کی صدارت اور پھر صنعتی شعبے کی وزارت سونپی گئی لیکن انقلابی روح کو سست رو اصلاحاتی منصوبہ سازی کی نسبت جارحانہ حکمت عملی زیادہ پسند تھی۔ کاسترو کو لکھے گئے ایک خط میں وہ کہتے ہیں، ’مجھے لگتا ہے میں نے اپنے فرض کا وہ حصہ ادا کر دیا جس نے مجھے کیوبا کی سرزمین اور انقلاب سے باندھ رکھا تھا۔‘ اب وہ دنیا کے دیگر علاقوں میں انقلابی تحریکوں کا حصہ بننا چاہتے تھے۔ 1965 میں چی گویرا انقلاب کے خواب لیے کانگو جا پہنچے جہاں ملک کے پہلے وزیراعظم کا تختہ امریکہ بہادر الٹ چکا تھا۔ چے گویرا متحرک نوجوانوں کو اپنا جذبہ منتقل کرنا چاہتے تھے لیکن گوریلا لیڈروں کی دھیرج پالیسی اور عوام کی انقلاب میں عدم دلچسپی ان کے لیے مایوس کن تھی۔ کاسترو کے کہنے پر وہ دوبارہ کیوبا لوٹ آئے لیکن اس سے پہلے انہوں نے شرط رکھی کہ یہ خفیہ دورہ ہو گا جسے حکومت کسی بھی سطح پر ظاہر نہیں کرے گی۔

سی آئی اے کے مطلوب ترین افراد میں سرفہرست ہونے کے سبب چی گویرا کی تمام حرکت و نقل مکمل طور پر خفیہ ہو چکی تھی۔ امریکی خفیہ ایجنسی کے ایجنٹ فلپ ایگی کے بقول امریکی سی آئی اے چی گویرا سے زیادہ کسی فرد سے خوفزدہ نہ تھی کیونکہ اس میں لاطینی امریکہ کے روایتی اسلوب اقتدار اور سیاسی جبر کو توڑنے کے لیے درکار صلاحیت اور کرشمہ کوٹ کوٹ کر بھرا ہوا تھا۔‘

 کیوبا میں مختصر قیام کے بعد اب ان کی منزل بولیویا تھی جہاں امریکہ نواز حکومت کے خلاف غیر منظم مارکسی نظریات کے حامل مختلف گروہ سرگرم تھے۔ 50 افراد کے مختصر دستے کے ساتھ چی گویرا نے بولیوین آرمی کو اپنی گوریلا کارروائیوں سے کافی تنگ کیا مگر سی آئی اے کا منظم نیٹ ورک کسی بھی بڑی کامیابی کے راستے میں رکاوٹ تھا۔ اس دوران کسی مخبر نے متعلقہ حکام کو چی گویرا کے ٹھکانے کی اطلاع دی جہاں ان کا گھیراؤ کر لیا گیا۔ ان کے پستول کا دہانہ جواب دے چکا تھا۔ مؤرخین لکھتے ہیں کہ زخموں سے نڈھال چی گویرا نے بلند آواز میں بولیوین آرمی سے کہا ’گولی نہ چلاؤ! میں چے گویرا ہوں اور لاش کی نسبت زندہ حالت میں تمہارے لیے زیادہ اہم ہوں۔‘ 

چنانچہ بگوراز کے ایک سکول میں لا کر چی گویرا کی کمر اور ٹانگیں گولیوں سے چھلنی کر دی گئیں۔ خصوصی اہتمام کیا گیا کہ کوئی گولی ایسی جگہ پر نہ لگے جس سے فوری موت واقع ہو جائے تاکہ زیادہ سے زیادہ دیر وہ اذیت کی سولی پر لٹکتا رہے۔ لہکن چی گویرا کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے نیلسن منڈیلا نے کہا تھا کہ ’کوئی بھی شخص جو آزادی سے محبت کرتا ہے وہ اس کے لیے انسپائریشن ہیں۔‘ ویت نام کی جنگ ہو یا لاطینی امریکہ سے لے کر جنوبی ایشیا تک تحریکیں، چے گویرا کی تصویر کے بغیر ادھوری رہتی ہیں۔ سارتر کے بقول ’وہ ہمارے عہد کے سب سے مکمل انسان تھے۔‘

چے گویرا نے خود بھی کہا تھا کہ ’موت آنے تک جاری رہنے والی جدوجہد کی کوئی حد نہیں۔ دنیا کے کسی بھی گوشے میں جو کچھ بھی ہو رہا ہے ہم اس سے لاتعلق نہیں رہ سکتے۔ سامراج کے خلاف کسی ایک ملک کی فتح ہماری فتح اور کسی ایک ملک کی شکست ہماری شکست ہے۔‘

چے گویرا نے دنیا بھر کی انقلابی تحریکوں میں روح ضرور پھونک دی تھی مگر اس کے نتیجے میں کتنے پائیدار سیاسی انقلاب رونما ہوئے؟ چی گویرا کے ناقدین کہتے ہیں مانا کہ گویرا ایک دیوتا تھا جس کا قد کامیابی اور ناکامی سے نہیں ماپا جا سکتا مگر مزاحمتی تحریکوں میں کم سے کم انسانی جانوں کا ضیاع اور زیادہ سے زیادہ نتائج کا حصول کسی بھی انسان دوست انقلابی کی حکمت عملی کا مرکزی نکتہ ہونا چاہیے۔ دوسری جانب سے اس کے برعکس چیگویرا پر خود 14 ہزار سے زائد لوگوں کو قتل کروانے کا الزام تھا جنہیں وہ انقلاب کے راستے کی رکاوٹ سمجھتے تھے۔

پاکستان کی تاریخ اور موجودہ سیاسی تناظر میں نجات دہندہ یا انقلابی سے زیادہ جمہوری نظام میں تسلسل کی ضرورت ہے۔ اس نظام میں خامیوں سے انکار نہیں مگر چلے گا تو ادراک اور تصحیح کا مرحلہ آئے گا۔

Back to top button