جسٹس جاوید اقبال انسان کے روپ میں ایک شیطان

سابق نیب چیئرمین جسٹس ریٹائرڈ جاوید اقبال کے شیطانی چہرے کو بے نقاب کرنے والی خاتون طیبہ گل نے انکشاف کیا ہے کہ سابق وزیراعظم عمران خان نے ان سے ایک ملاقات میں جنسی ہراسانی کے ثبوت حاصل کرنے کے بعد نیب چیئرمین کو بلیک میل کیا تاکہ اپوزیشن قیادت کا رگڑا نکالا جا سکے۔ طیبہ گل نے یہ انکشاف بھی کیا کہ عمران کے حکم پر جاوید اقبال کی نازیبا ویڈیوز ایک ٹی وی چینل پر چلا دی گئیں جس کے بعد انہیں انکے شوہر سمیت 45 دن تک وزیر اعظم ہاؤس میں بند رکھا گیا اور بیرونی دنیا سے رابطہ کاٹنے کے لئے ان کے موبائل فون بھی چھین لیے گے۔
جیو نیوز کے پروگرام ”آج شاہزیب خانزادہ میں سنسنی خیز انٹرویو دیتے ہوئے طیبہ کا کہنا تھا کہ شیطان صفت جاوید اقبال نے مجھے اپنے ڈیفنس لاہور میں واقع فلیٹ پر بلایا، لیکن جب میں نے جانے سے انکار کیا تو اگلے ہی روز میرے خلاف انتقامی کارروائی شروع کروا دی گئی اور ایک ہی دن میں میرے خلاف تین جھوٹے مقدمات درج کروا دیے گئے۔
طیبہ گل کا کہنا تھا کہ سابق وزیراعظم عمران خان نے بھی مجھ سے ملاقات کرکے کہا کہ آپ مدینے کی ریاست میں ہیں، لہذا آپ کو انصاف ملے گا، مگر جب میں نے جسٹس جاوید اقبال کے خلاف جنسی ہراسانی کے ویڈیو اور آڈیو ثبوت عمران خان کے حوالے کردیئے تو انہوں نے نیب چیئرمین کے خلاف کارروائی کرنے کی بجائے انہیں بلیک میل کرنے کا فیصلہ کیا۔ انہوں نے میری ویڈیوز کی مدد سے جاوید اقبال کو بلیک میل کیا اور اپوزیشن قیادت کے خلاف جھوٹے مقدمات درج کروانے پر مجبور کیا۔ اس کے علاوہ انہوں نے اپنے اور اپنے کئی ساتھیوں کے خلاف نیب میں درج کیسز بھی اسی طریقے سے ختم کروائے۔ طیبہ گل نے انکشاف کیا کہ مجھے اور میرے شوہر کو ڈیڑھ مہینہ وزیراعظم ہائوس میں رکھا گیا۔ ہمارے موبائل لے لیے گئے۔ میری ویڈیوز سامنے آنے کے بعد پی ٹی آئی کا کوئی رہنما گرفتار نہیں ہوا اور تمام کیسز بند ہو گئے۔
خاتون نے مزید کہا کہ میں نے سابق چیئرمین نیب کی کوئی ویڈیو یا آڈیو خود لیک نہیں کی بلکہ یہ کام عمران خان کے حکم پر ان کے ساتھیوں نے کیا۔ انہوں نے یہ انکشاف بھی کیا کہ موجودہ ڈی جی نیب پنجاب سلیم شہزاد نے مجھے اور میرے شوہر کو آفر کی کہ آپ میرے ساتھ مل کر پریس کانفرنس کریں اور ان ویڈیوز کو میڈیا کے سامنے لے آئیں لیکن ہم نے صاف انکار کر دیا تھا۔ جب ہماتی کہیں سے شنوائی نہیں ہوئی تو ہم نے وزیر اعظم کی سٹیزن پورٹل کا سہارا لیا۔ چنانچہ وزیراعظم ہاؤس سے میرے ساتھ رابطہ کیا گیا لیکن اس کے بعد جو کچھ ہوا وہ سب کے سامنے ہے۔
خیال رہے کہ اس سے قبل 7 جولائی کو طیبہ گل پبلک اکائونٹس کمیٹی کے روبرو پیش ہوئیں اور بتایا کہ میرے خلاف نیب کی جانب سے جاوید اقبال کے ایما پر جھوٹا ریفرنس بنایا گیا۔ انکا کہنا تھا کہ انکی جسٹس جاوید اقبال سے پہلی ملاقات مسنگ پرسنز کمیشن میں ہوئی۔ جب میں نے جاوید اقبال کو بار بار فون کرنے سے منع کیا تو وہ ناراض ہوگئے۔ مسنگ پرسن کی درخواست پر میرا نمبر درج تھا۔ اس پر کال کرکے وہ مجھے وقتاً فوقتاً بلاتے رہے۔ وہ کہتے تھے کہ آپ کو لازمی آنا ہو گا ورنہ آپ کے دائر کردہ کیس کی سماعت نہیں ہوگی۔
خاتون نے کہا کہ میں نے جاوید اقبال کی گفتگو کی ویڈیو اس لئے بنائی کہ وہ ایک طاقتور عہدیدار تھا جو اپنے عہدے کا استعمال کرتے ہوئے مجھے بلیک میل کر رہا تھا لہذا اسے بے نقاب کرنا ضروری تھا۔ میں چاہتی تھی کہ اس شخص کی حقیقت سب کے سامنے آئے۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ مسنگ پرسنز کمیشن میں جاوید اقبال کا پرسنل سٹاف افسر راشد وانی اس کا سہولت کار ہے۔ انہوں نے کہا کہ میں نے اپنے ساتھ ہونے والی زیادتی کے خلاف کئی مرتبہ کیس درج کروانے کی کوشش کی لیکن آج تک میری کوئی ایف آئی آر درج نہیں ہوئی اور نہ ہی کسی عدالت نے میری بات سنی۔
ان کا کہنا تھا کہ جب سابق چیئرمین نیب نے مجھے اور میرے شوہر کو گرفتار کروایا تو مرد ہر کاروں کو استعمال کیا گیا جنہوں نے ڈی جی نیب پنجاب شہزاد سلیم کی موجودگی میں میرے کپڑے اتارے اور میری وڈیو بنائی جسے بعد میں میرے شوہر کو دکھا کر بلیک میل کیا جاتا رہا۔ انہوں نے کہا کہ میرے ساتھ جو درندگی کی گئی، وہ میں بیان نہیں کر سکتی۔ مجھے ٹرانزٹ ریمانڈ کے بغیر لاہور لے جایا گیا۔ مجھے سلیم شہزاد کے پاس لے جایا گیا تو میرے کپڑے پھٹے ہوئے تھے۔ میرے جسم پر نیل پڑے ہوئے تھے۔ لیکن اس کے حکم پر تلاشی کے دوران میرے کپڑے تک اتار دیے گئے اور ویڈیو بھی بنائی جاتی رہی۔
دوسری جانب سے جسٹس ریٹائرڈ جاوید اقبال نے طیبہ گل کی جانب سے لگائے گئے الزامات کو سختی سے رد کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان کا مقصد ان کی ساکھ کو خراب کرنا ہے۔ انہوں نے اپنے کارندوں کے ذریعے طیبہ گل کی ایک میڈیکل رپورٹ بھی سوشل میڈیا پر شیئر کی ہے اور دعویٰ کیا ہے کہ اس میں تشدد یا ہراسانی کا کوئی ذکر نہیں ہے۔ لیکن جب نیب ترجمان سے رابطہ کرکے جسٹس جاوید اقبال کی لیک ہونے والی نازیبا آڈیوز اور ویڈیوز بارے موقف پوچھا گیا تو اس نے جواب دینے سے معذرت کر لی۔
