ابصار عالم پر حملہ کرنے والوں کو کس ایجنسی نے ٹاسک دیا؟

عمران خان کے دور حکومت میں نامعلوم افراد کی فائرنگ سے زخمی ہو کر معجزانہ طور پر بچ جانے والے سینئر صحافی ابصار عالم نے کہا ہے کہ ان پر حملے کے ملزمان اتفاقیہ پولیس کے ہاتھوں گرفتار ہوئے ہیں لیکن انہیں یقین ہے کہ اس واردات کے پس پردہ کسی بڑی طاقت کا ہاتھ تھا۔ انہوں نے کہا کہ میں اب تک کی پولیس تفتیش سے مطمئن ہوں لیکن حتمی نتائج سامنے آنے تک کسی پر الزام عائد نہیں کروں گا۔
یاد رہے کہ ابصارعالم پر حملے سے دو روز قبل انہوں نے ایک ٹویٹ میں الزام عائد کیا تھا کہ 2017 میں بطور پیمرا سربراہ آئی ایس آئی نے ان پر دباؤ ڈالا تھا کہ وہ مسلم لیگ ن کی حکومت کے خلاف تحریک لبیک کے مظاہروں کی میڈیا کوریج کو یقینی بنائیں۔ اس وقت تحریک لبیک کو فیض حمید ہینڈل کر رہے تھے اور انہوں نے ہی بعدازاں اس جماعت کے ساتھ ایک امن معاہدے پر دستخط کئے تھے۔ فیض تب آئی ایس آئی میں ایک اعلیٰ افسر تھے، جو بعد میں اس کے سربراہ بنے تھے۔
یاد رہے کہ ابصار عالم پر 20 اپریل 2021 کو اسلام آباد میں تب فائرنگ کی گئی تھی جب وہ ایف الیون پارک میں چہل قدمی کر رہے تھے۔ تاہم وہ معجزانہ طور پر زخمی ہونے کے باوجود بچ گئے تھے۔
پیرس میں موجود ڈی ڈبلیو کے نمائندے یونس خان کی ایک خصوصی رپورٹ کے مطابق ابصار عالم پر حملے کے آٹھ میں سے چھ ملزمان پہلے ہی زیر حراست ہیں۔ حملے کی ہدایات جرمنی سے دی گئی تھیں جبکہ کرائے کے قاتل کو پندرہ لاکھ روپے رقم کی ادائیگی دو قسطوں میں لاہور اور راولپنڈی میں کی گئی۔ ابصار عالم نے ڈی ڈبلیو کو بتایا کہ جو ملزمان گرفتار ہوئے ہیں، وہ اتفاقاﹰ پولیس کے ہاتھ آئے جو شیخوپورہ میں ہونے والی ایک ڈکیتی کی تفتیش کر رہی تھی۔ انہوں نے بتایا کہ ملزمان سے حاصل کردہ موبائل نمبروں کا سائنسی بنیادوں پر تجزیہ کیا گیا اور اسلام آباد پولیس نے بہت محنت سے اس کیس پر کام کیا، ‘ابصار نے کہا کہ میں اب تک کی پولیس تفتیش سے مطمئن ہوں اور ہماری نظریں اس وقت عدالت کی جانب ہیں کہ وہ کب اس کیس کو منطقی انجام تک پہنچاتی ہے؟ انہوں نے بتایا کہ ان پر حملے کے منصوبے میں ٹوٹل آٹھ ملزمان شامل تھے، جن میں سے چھ گرفتار ہوئے جن میں سے چار افراد کی ضمانت بھیبہو چکی ہے، دو مرکزی ملزمان ابھی تک زیر حراست ہیں لیکن عدلیہ میں جس تیزی سے ان کے ضمانتوں کے حوالے سے کام ہو رہا ہے اس سے لگتا ہے کہ پس پردہ کوئی بڑی طاقت ہے، جو ملزمان کو سپورٹ کر رہی ہے۔
ابصار عالم کے بقول چونکہ ابھی پولیس کیس کی تفتیش کر رہی ہے لہٰذا عدالتوں کو مجرمان کی ضمانتیں منظور کرنے کے حوالے سے اتنی تیزی نہیں دکھانی چاہیے تا کہ بہتر طریقے سے تفتیش مکمل ہو اور اصل ملزمان قانون کے گرفت میں آ سکیں، اب تک کی تفتیش منی ٹریل اور ٹیلی فون رابطے پکڑے جا چکے ہیں اور یہ بھی پتہ چل گیا ہے کہ بیرون ملک بیٹھ کر حملے کی منصوبہ بندی کرنے والے زین نامی شخص تمام تر احکامات پاکستان سے مل رہے تھے۔ پولیس تفتیش کے مطابق جرمنی میں زین اور فرانس میں ملزم شاہ نواز چٹھہ اس کیس کے مرکزی ملزمان ہیں۔ ابصار عالم کے بقول ان دونوں نے حملے کی منصوبہ بندی کی اور بیرون ملک سے ملنے والے احکامات پر عمل کیا۔ انہوں نے کہا کہ جرمنی اور فرانس کے حکام کو بھی اس حوالے سے سخت اقدامات کرنا چاہییں۔ انہوں نے سوال کیا کہ کیا فرانس اور جرمنی کی کوئی ذمہ داری نہیں جہاں سے پاکستان میں رہنے والے صحافیوں پر حملے کروائے جاتے ہیں لیکن مجرم وہاں سکون سے رہتے ہیں؟ تفتیش کے مطابق اس کام کی ذمہ داری 32 سالہ زین غیاث کو دی گئی تھی جو اس حملے کا ماسٹر مائنڈ تھا۔ اس نے یہ کام 23 سالہ حماد سلیمان کے ذمہ لگایا۔ زین اپنے آبائی ضلع گجرات میں ایک اشہتاری مجرم ہے اور کئی مرتبہ گرفتار ہونے کے باوجود جرمنی بھی جا چکا ہے۔
ابصار عالم کا کہنا تھا کہ وہ ان ملزمان کو ذاتی طور پر نہیں جانتے لیکن ان پر حملہ باقاعدہ منصوبہ بندی کے تحت ہوا، انہوں نے کہا کہ میں کسی پر الزام نہیں لگاؤں گا کیوں کہ ابھی اس حوالے سے تفتیش ہو رہی ہے کہ ان افراد کے پیچھے کون سے لوگ یا گروپ ہیں۔ پاکستان پولیس اور تفتیشی اداروں کے لیے یہ کیس ایک چیلنج ہے اور ان خطوط پر تفتیش ہونا چاہیے کہ وہ کون سے گروہ ہیں، جو بین الاقوامی گروپ یا گینگ بناتے ہیں اور ایسی بزدلانہ کارروائیاں کرتے ہیں۔
دوسری جانب پولیس تفتیش کے دوران حملہ آوروں کی جانب سے فرانس میں مقیم شاہ نواز چٹھہ نام کے ایک پاکستانی سے ٹیلی فونک رابطے کا انکشاف بھی ہوا لیکن پولیس ابھی تک اسے شامل تفتیش نہیں کر پائی۔ جب پیرس میں مقیم سینئر صحافی یونس خان نے شاہ نواز سے فیس بک میسنجر کے ذریعے رابطہ کیا، تو ان کا کہنا تھا کہ وہ پچھلے تین سال سے ملک سے باہر ہیں۔ ان کا اس کیس سے کوئی تعلق نہیں اور نہ ہی ان کا اپنے کزن حماد سلیمان سے کوئی رابطہ ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ میرے گھر پولیس آئی تھی، جسے میں نے تفصیلی طور پر اپنے موقف سے آگاہ کر دیا ہے۔ شاہنواز نے مزید سوالوں کا جواب دینے یا ملنے سے انکار کر دیا۔
یاد رہے کہ مشتبہ ملزم شاہ نواز چٹھہ گوجرانوالہ کے علاقے علی پور چٹھہ سے تعلق رکھتے ہیں۔ اس وقت وہ فرانس کے شہر پیرس میں موجود ہیں۔ شاہ نواز کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ غیر قانونی طور پر 2020 میں ایران سے ترکی، بوسنیا، سلووینیا اور پھر یونان میں بھی رہے، جس کے بعد اٹلی آئے اور وہاں کچھ عرصہ قیام کیا۔ اٹلی میں انہوں نے سیاسی پناہ کے لیے بھی درخواست جمع کرائی، جس پر ابھی تک کوئی فیصلہ نہیں ہوا۔
