گیلانی کے گن گانے والے عمران نے ان کو کرپٹ کیوں قرار دے دیا؟

سینیٹ کے حالیہ الیکشن میں حکومتی امیدوار حفیظ شیخ کو شکست فاش دینے والے سابق وزیر اعظم سید یوسف رضا گیلانی کو ملک کا کرپٹ ترین سیاستدان قرار دینے والے وزیراعظم عمران خان ماضی میں ان کے گن گایا کرتے تھے۔ لیکن جب یوسف رضا گیلانی کی جیت سے عمران خان کی حکومت لڑکھڑائی اور انہیں اعتماد کا ووٹ لینا پڑا تو انہوں نے گیلانی پر کرپشن کا الزام عائد کر دیا حالانکہ ان کے خلاف قومی احتساب بیورو میں کسی قسم کا کوئی ریفرنس زیرالتوا نہیں ہے۔
سنیئر صحافی اور اینکر پرسن حامد میر اپنے تازہ ترین تجزیے میں ماضی کی یادیں تاز کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ وقت بہت تیزی سے گزرتا ہے اور وقت کے ساتھ ساتھ انسان بھی بدل جاتے ہیں۔ مارچ 2008 میں یوسف رضا گیلانی نے پاکستان کے 18ویں وزیراعظم کا حلف اٹھایا، ان کی کابینہ میں مسلم لیگ (ن) بھی شامل تھی۔ نواز لیگ کے وزرا نے اپنے بازوئوں پر کالی پٹیاں باندھ کر حلف اٹھایا تھا کیونکہ حلف لینے والا پرویز مشرف تھا۔ حامد میر بتاتے ہیں کہ گیلانی کے وزیراعظم بننے کے کچھ دن بعد تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان نے انہیں کہا کہ میانوالی میں نمل کالج کی تعمیر مکمل ہو گئی ہے اور اب اس کا افتتاح کرنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ شوکت خانم کینسر اسپتال کیلئے فنڈز اکٹھا کرنے کی مہم میں آپ نے ہمیشہ حصہ ڈالا ہے، اب ہم نمل کالج کیلئے بھی آپ سے ایک کام لینا چاہتے ہیں۔ میں نے بغیر کچھ پوچھے اپنی خدمات پیش کر دیں۔ خان صاحب نے کہا کہ ہم نمل کالج کی ایک بڑی افتتاحی تقریب کا اہتمام کریں گے اور چاہتے ہیں کہ آپ اس کی میزبانی کریں۔ میں فوراً راضی ہو گیا۔ لیکن بات یہیں ختم نہیں ہوئی، عمران خان نے کہا کہ احسن اقبال وفاقی وزیر تعلیم بن چکے ہیں، انہیں بھی اس تقریب میں بلانا ہے۔ میں نے کہا کہ احسن اقبال کو اِس تقریب میں لانا میری ذمہ داری ہے۔ یہ سن کر خان صاحب بہت خوش ہوئے، دوسرے ہی لمحے گویا ہوئے کہ وزیراعظم یوسف رضا گیلانی بھی نمل کالج کی افتتاحی تقریب میں آ جائیں تو اور بھی اچھا ہوگا۔ میں نے کچھ سوچا اور عمران خان سے کہا کہ اس مقصد کیلئے آپ کو ایک تحریری دعوت نامہ تیار کرنا ہو گا، جو میں وزیراعظم تک پہنچا دوں گا اور احسن اقبال سے بھی کہوں گا کہ وہ بھی گیلانی صاحب کو نمل کالج لانے کیلئے اپنا اثرورسوخ استعمال کریں۔
حامد میر کہتے ہیں عمران خان کے نمل کالج کی انتظامیہ نے ایک تحریری دعوت نامہ میرے حوالے کیا۔ احسن اقبال نے بھی وزیراعظم سے کہا کہ نمل کالج ایک اچھا تعلیمی منصوبہ ہے، اور آپ کو اس کے افتتاح کیلئے وقت ضرور نکالنا چاہئے۔ آخر کار وزیراعظم گیلانی نے ہاں کر دی۔ چنانچہ نمل کالج کے افتتاح کی تاریخ گیلانی صاحب کی مصروفیات کو سامنے رکھ کر طے کی گئی۔ 27 اپریل 2008کو نمل کالج کی افتتاحی تقریب منعقد ہوئی جس میں یوسف رضا گیلانی اور احسن اقبال خصوصی طور پر اسلام آباد سے تشریف لائے۔ حامد میر کے مطابق میں نے اس روز بطور میزبان دونوں کا بار بار شکریہ ادا کیا، عمران خان بھی عاجزی و انکساری کا ایک پیکر بنے ہوئے تھے اور بار بار یوسف رضا گیلانی کو کہتے پائے گے کہ میں آپکا یہ احسان ساری زندگی نہیں بھولوں گا۔ جواب میں گیلانی صاحب بھی سینے پر ہاتھ رکھ کر اور گردن جھکا کر یہ کہتے پائے گے کہ اس کالج کیلئے اور بھی کوئی خدمت ہو تو میں حاضر ہوں، دودری جانب میں ان دونوں کی عاجزی اور انکساری پر قربان ہوتا رہا۔
حامد میر لکھتے ہیں کہ آج مجھے تیرہ سال پرانی باتیں اس لئے یاد آ رہی ہیں کہ چھ مارچ 2021 کو وزیراعظم عمران خان نے قومی اسمبلی سے اعتماد کا ووٹ لینے خو بعد اپنی تقریر میں اسی یوسف رضا گیلانی کو پاکستانی تاریخ کا کرپٹ ترین انسان قرار دے دیا۔ عمران کے اعتماد کا ووٹ لینے کی وجہ یہ تھی کہ تین مارچ کو سینیٹ کے الیکشن میں ان کے امیدوار عبدالحفیظ شیخ کو گیلانی نے پانچ ووٹوں سے شکست دے دی تھی جس سے عمران بطور وزیراعظم قومی اسمبلی میں اکثریت کھو بیٹھے تھے۔ عمران اس شکست کو ہارس ٹریڈنگ کا نتیجہ قرار دے کر پہلے الیکشن کمیشن آف پاکستان پر سیخ پا ہوئے اور پھر چھ مارچ کو اعتماد کا ووٹ حاصل کر کے انہوں نے قومی اسمبلی میں ایک دھواں دھار تقریر کی۔ حامد میر حیرانی کا اظہار کرتے ہیں کہ نجانے عمران خان یہ کیوں بھول گئے کہ عبدالحفیظ شیخ بقول امکے اپنے اسی کرپٹ ترین انسان یعنی گیلانی کی کابینہ میں وزیر خزانہ تھے۔ اگر وزیراعظم کرپٹ تھا تو اس کا وزیر خزانہ ایماندار کیسے ہو گیا؟
حامد میر کہتے ہیں کہ آج کل عمران خان کی سیاست یہ ہے کہ جو انکے ساتھ ہے وہ ایمان دار ہے اور جو ان کے ساتھ نہیں وہ کرپٹ ہے۔ جب وہ قومی اسمبلی میں اعتماد کا ووٹ حاصل کر رہے تھے عین اسی وقت قومی اسمبلی کے باہر تحریک انصاف کے کارکن اور حامی اسی احسن اقبال پر جوتے برسا رہے تھے جو تیرہ سال قبل نمل کالج کی افتتاحی تقریب میں میرے توسط سے مدعو کئے گئے تھے۔ آج کی تحریک انصاف ایک برسر اقتدار پارٹی ہے۔اس پارٹی کو وہی مقام حاصل ہے جو جنرل ایوب خان کے زمانے میں مسلم لیگ کنونشن اور جنرل پرویز مشرف کے زمانے میں مسلم لیگ (ق) کو حاصل تھا۔ اس جماعت کے اکثر حامیوں کو یہ معلوم ہی نہیں کہ 2008 میں عمران خان پارلیمینٹ کے رکن نہیں تھے۔ یوسف رضا گیلانی یا احسن اقبال کو ان کے ووٹ کی کوئی ضرورت نہیں تھی لیکن یہ دونوں نیک نیتی سے نمل کالج کی افتتاحی تقریب میں شریک ہوئے۔ آج یہ دونوں کرپٹ ہیں کیونکہ عمران خان وزیراعظم ہے اور یہ دونوں اپوزیشن میں ہیں۔ تحریک انصاف والوں نے احسن اقبال کو جوتا مارا، مصدق ملک اور شاہد خاقان عباسی کو مکے اور ٹھڈے مارے اور مریم اورن گزیب کو دھکے دیے۔ لیکن میری رائے میں تحریک انصاف نے یہ جوتے، مکے، ٹھڈے اور دھکے اپوزیشن کو نہیں بلکہ خود کو مارے ہیں۔
حامد میر کہتے ہیں کہ عجیب بات یہ ہے کہ تحریک انصاف نے الیکشن کمیشن سے کہا کہ یوسف رضا گیلانی کی کامیابی کا نوٹیفیکیشن جاری نہ کیا جائے کیونکہ ایک وڈیو میں ان کا برخوردار علی حیدر گیلانی حکمران جماعت کے ارکانِ اسمبلی کو ووٹ ضائع کرنے کا طریقہ بتا رہا تھا۔ حکمران جماعت کے یہ چاروں ارکان خود اعتراف کر چکے کہ وہ علی حیدر گیلانی سے ووٹ ضائع کرنے کا طریقہ سیکھ رہے تھے۔ ان چاروں نے چھ مارچ کو عمران خان کو ووٹ دیا۔ووٹ دینے کے بعد یہ چاروں عمران خان کو ملے اور میڈیا کے سامنے مان بھی گئے، ہم علی حیدر گیلانی کو ملے تھے، لہازا اگر علی حیدر گیلانی غلط ہے تو یہ چاروں صحیح کیسے ہو گئے؟ ھامد میر کے مطابق عمران خان کہتے ہیں سینیٹ کے الیکشن میں انہیں ہارس ٹریڈنگ کا سامنا تھا۔ لیخن سوال یہ یے کہ ہارس ٹریڈنگ اگر اتنی بری ہے تو آپ نے صادق سنجرانی کو چیئرمین سینیٹ کا امیدوار کیوں بنایا؟ ان کے پاس تو موجودہ سینیٹ میں اکثریت نہیں ہے۔ اور اگر وہ چیئرمین بنیں گے تو صرف ہارس ٹریڈنگ سے بنیں گے۔ یعنی اگر ہارس ٹریڈنگ گیلانی کرے تو غلط اور اگر عمران خان کا حمایت یافتہ امیدوار کرے تو صحیح؟ سچی بات یہ ہے کہ اگر گیلانی ہارس ٹریڈنگ سے جیتے تو سنجرانی بھی ہارس ٹریڈنگ سے جیتیں گے اور اگر سنجرانی جیت گئے تو پھر گیلانی اور عمران خان میں کوئی فرق نہیں ہو گا۔
