بائیکاٹ مہم کے باوجود برائلر چکن اتنا مہنگا کیوں ہوگیا؟

ملک بھر میں برائلر چکن کی قیمتوں میں بے پناہ اضافے کے بعد سوشل میڈیا پر چکن کا بائیکاٹ کرنے کے پیغامات کا سلسلہ شروع ہے تاہم اس کے باوجود مرغی کے گوشت کی قیمت نیچے نہیں آ سکی اور بڑھتی چلی جا رہی ہے۔ پولٹری ایسوسی ایشن والے اسکی وجہ طلب و رسد کے بڑے فرق اور شادی بیاہ پر گوشت کی زیادہ کھپت کو قرار دیتے ہیں جبکہ عام تاثر یہ ہے کہ آٹا، چینی اور ادویات مافیا کے بعد پولٹری مافیا بھی ناجائز منافع خوری کے لئے مصنوعی قلت پیدا کرکے مرغی مہنگی بیچ رہا ہے۔

گذشتہ چند روز سے سوشل میڈیا پر بائیکاٹ برائلر چکن کی مہم نے زور پکڑا ہے اور لوگوں کو ترغیب دی جا رہی ہے کہ وہ زیادہ نہیں تو صرف دس دن کے لیے برائلر خریدنا بند کر دیں تو اس کی قیمتیں نیچے آ جائیں گی۔ تاہم پولٹری فارمرز پر یہ مہم ابھی تک اثر انداز نہیں ہوی اور چکن کی ڈیمانڈ اور گرانی ابھی تک برقرار ہے۔ صارفین حکومتی کمزوری کو بھی برائلر کی قیمتوں میں اضافے کے لیے مورد الزام ٹھہراتے ہیں۔ ان کا کہا ہے کہ صرف سرکاری نرخ جاری کر دینا انتظامی مشینری کا کام نہیں ہے بلکہ اس پر عملدرآمد کرانا ان کی اصل ذمہ داری ہے جو انتظامیہ ادا نہیں کر رہی۔ واضح رہے سرکاری ادارے محکمہ شماریات نے بھی اپنے تازہ ترین ہفتہ وار اعداد و شمار میں چکن کی قیمتوں میں اضافے کے بارے میں بتایا جو کہ ہفتہ وار بنیاد پر پانچ فیصد سے زیادہ بڑھیں۔

ملک کے مختلف شہروں میں اس کی قیمتوں کے بارے اعداد و شمار کا جائزہ لیا جائے تو زندہ برائلر مرغی کی ملک میں اوسطاً قیمت پونے تین سو اور تین سو درمیان ظاہر کی گئی ہیں۔ تاہم ملک کے بڑے شہروں میں زندہ مرغی فی کلو چار سو روپے سے زائد میں بک رہی ہے۔ برائلر مرغی کا گوشت چار سو اسی اور پانچ سو روپے فی کلو کے درمیان بک رہا ہے۔ ملک میں پولٹری کے شعبے میں چکن کی پیداوار کے سلسلے میں پاکستان پولٹری ایسوسی ایشن کے ترجمان معروف صدیقی نے بتایا کہ ملک میں روزانہ کی بنیادوں پر نوے لاکھ سے ایک کروڑ برائلر مرغی کی سپلائی ہوتی ہے جو گوشت کی صورت میں ایک کروڑ بیس لاکھ سے تیس لاکھ کلو گرام بنتا ہے۔انھوں نے بتایا کہ چکن کی ستر فیصد کھپت کمرشل شعبے میں ہوتی ہے اور تیس فیصد لوگ گھروں میں استعمال کرتے ہیں۔ انھوں نے کہا ان دنوں چکن کی قیمتوں میں اضافے کی وجہ یہی ہے کہ برائلر کی ڈیمانڈ تو اپنی جگہ موجود ہے لیکن اس وقت روزانہ کی بنیادوں پر ستر سے اسی لاکھ زندہ مرغی سپلائی ہو رہی ہے۔

پاکستان میں پولٹری میٹ کی سالانہ فی کس کھپت 9 کلو گرام ہے۔ ترقی یافتہ ملکوں میں گوشت کی فی کس کھپت بہت زیادہ ہے جو امریکہ میں فی کس 48 کلو گرام تو برطانیہ اور آسٹریلیا میں 44 کلو گرام ہے۔ چکن کی قمیتوں میں اضافے کے بارے میں پولٹری کے شعبے سے وابستہ افراد اسے رسد و طلب کے نظام سے جوڑتے ہیں۔ ان کے بقول اس وقت سپلائی سائیڈ پر کچھ مسائل ہیں جس کی وجہ سے اس کی قیمتوں میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ اس کے ساتھ وہ پولٹری کے شعبے میں کاروباری لاگت کو بھی اضافے کا سبب بتاتے ہیں۔ دوسری جانب صارفین کے حقوق کے لیے کام کرنے والے ادارے پاکستان کنزیومر ایسوسی ایشن کے مطابق پولٹری کا شعبہ ناجائز منافع خوری کے لیے اس کی قیمتوں کو بڑھا رہا ہے۔ عوامی سطح پر یہ تاثر پایا جاتا ہے کہ آٹا، چینی اور ادویات مافیا کے بعد پولٹری مافیا بھی ناجائز منافع خوری کے لئے مصنوعی قلت پیدا کرکے مرغی مہنگی بیچ رہا ہے اور کوئی انہیں پوچھنے والا نہیں۔

پاکستان کنزیومر ایسوسی ایشن نے اس سلسلے میں سوشل میڈیا پر ایک مہم بھی شروع کی ہے جس میں صارفین سے دس روز کے لیے چکن خریدنے اور کھانے کے لیے اپیل کی گئی ہے۔ چکن کی قیمت میں بے تحاشا اضافے کی وجہ سے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر ‘بائیکاٹ چکن‘ کا ہیش ٹیگ پاکستان میں ٹاپ ٹرینڈز میں شامل رہا جس میں لوگوں کو چکن نہ خریدنے کی ترغیب دی گئی ہے۔
پاکستان پولٹری ایسوسی ایشن کے مطابق یہ اضافہ رسد اور طلب کی وجہ سے ہوا ہے۔ ان کے مطابق اس وقت سپلائی کم ہے اور اس کی طلب زیادہ ہے جو اس کے اضافے کا سبب بنی ہے۔ ان کے مطابق پاکستان میں کورونا وائرس کی وجہ سے بہت سارے پولٹری فارمز بند ہو گئے تھے اور جب کورونا وائرس میں کمی کے بعد لاک ڈاون اٹھا تو طلب میں اضافہ دیکھنے میں آیا۔ ایسوی ایشن کے ترجمان معروف صدیقی کہتے ہیں کہ پاکستان میں رجب اور شعبان کے مہینے شادیوں کے مہینے ہوتے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ حالیہ ہفتوں میں شادی کی بے پناہ تقریبات منعقد ہوئی ہیں اور ابھی تک جاری ہیں۔ انھوں نے کہا اس کا ثبوت رات کے علاوہ دن کے اوقات میں بھی ولیمے کے تقریبات سے لگایا جا سکتا ہے۔ ’ان تقریبات کی وجہ سے چکن کی طلب میں بہت زیادہ اضافہ دیکھنے میں آیا اور طلب تو زیادہ ہوئی لیکن کورونا وائرس کے لاک ڈاون میں بند ہو جانے والے پولٹری فارمز کی وجہ سے رسد اس طلب کو پورا نہیں کر پا رہا۔رسد و طلب میں گیپ کے علاوہ پولٹری کے شعبے کی کاروباری لاگت میں اضافے کو بھی قیمتوں میں اضافے کا سبب قرار دیا۔ ان کے مطابق چکن فیڈ کی قیمت میں دو ڈھائی سال کے دوران بہت زیادہ اضافہ ہوا ہے۔ ‘پچاس کلو گرام چکن فیڈ جو دو ڈھائی سال پہلے سترہ سو روپے کا آتا تھا اب 3700 روپے کا ہو رہا ہے۔ اسی طرح مرغیوں کی دوائیں بھی بہت مہنگی ہو چکی ہیں۔

پاکستان کنزیومر ایسوسی ایشن کے چیئرمین کوکب اقبال چکن کی قیمتوں میں اضافے کو طلب و رسد میں فرق کے تاثر کو مسترد کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ یہ جواز اس شعبے کے افراد نے اپنی ناجائز منافع خوری کو چھپانے کے لیے گھڑا ہے۔ان کے مطابق طلب و رسد میں انتا بڑا فرق کیسے آگیا کہ کچھ دنوں میں چکن کی قیمتیں آسمان سے باتیں کرنے لگی ہیں۔ ان کے مطابق یہ اس شعبے کے افراد کی ملی بھگت ہے اور ان کی زیادہ سے زیادہ منافع کمانے کی کوشش ہے۔ کوکب اقبال نے کہا کہ ملک میں ہر دوسرے شعبے کی طرح پولٹری میں بھی ایک مافیا کام کر رہا ہے جو اپنی مرضی سے قیمتیں بڑھا دیتا ہے اور پھر اسے طلب و رسد میں فرق سے جوڑتا ہے۔ لیکن حکومت اس مافیا کے خلاف ایکشن لینے سے گریزاں ہے جس کا خمیازہ پاکستانی عوام بھگت رہے ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button