لیڈی ڈیانا کے بعد انکے بیٹے اور بہو نے بھی ملکہ کو مانجا لگا دیا

برطانوی شاہی خاندان سے حال ہی میں بے دخل ہونے والے شہزادہ ہیری کی اہلیہ میگھن مارکل کی جانب سے اپنے شوہر کی دادی اور ملکہ برطانیہ پر شاہی محل میں نسلی تعصب برتنے کے سنگین الزامات کے بعد برطانیہ میں تہلکہ مچ گیا ہے اور شاہی محل کو شدید دباؤ کا سامنا ہے. اب یہ سوالات اٹھائے جا رہے ہیں کہ شاہی خاندان اور ملکہ برطانیہ پر لگنے والے نسلی تعصب کے الزامات کی تحقیقات کون کروائے گا۔ برطانوی میڈیا کی جانب سے یہ سوالات اٹھائے جانے کے باوجود وزیراعظم بورس جانسن جواب دینے سے گریز کر رہے ہیں۔
یاد رہے میگھن مارکل اور ان کے شوہر شہزادہ ہیری نے مارچ 2020 میں شاہی حیثیت چھوڑے جانے کے بعد پہلی بار امریکی معروف میزبان اوپرا ونفرے کو دیے گئے طویل انٹرویو میں نہ صرف شاہی حیثیت کو چھوڑنے کے اسباب بتائے بلکہ انہوں نے شاہی محل میں اپنے ساتھ ہونے والے ناروا اور نسلی امتیاز کے سلوک پر بھی کھل کر بات کی۔ انٹرویو کے دوران شاہی جوڑے کی جانب سے کئی انکشافات کیے جانے کے بعد برطانیہ اور امریکا میں تہلکہ مچ گیا ہے اور ایک بار پھر برطانوی شاہی محل کی طرز زندگی پر سوالات اٹھائے جانے لگے ہیں۔ میگھن مارکل اور شہزادہ ہیری کے ساتھ شاہی محل میں ناروا سلوک کی خبریں تو مئی 2018 میں اس وقت سے آنا شروع ہوئی تھیں جب دونوں نے شادی کی تھی۔ تاہم دونوں نے پہلی بار شاہی حیثیت چھوڑنے اور شاہی محل سے دوری اختیار کرنے کے بعد کھل کر وہاں کے ماحول کے بارے میں باتیں کی ہیں، جن سے عندیہ ملتا ہے کہ برطانوی شاہی محل سے متعلق جو افواہیں پھیلتی رہی ہیں، وہ کافی حد تک درست بھی ہوتی ہیں۔ یاد رہے کہ اس سے پہلے شہزادہ چارلس کی اہلیہ لیڈی ڈیانا نے بھی شاہی خاندان کے حوالے سے اسی طرح کے الزامات عائد کیے تھے۔
اپنے انٹرویو میں میگھن مارکل نے کھل کر اعتراف کیا کہ شاہی محل میں انہیں نسلی امتیاز کا سامنا رہا اور وہ خود کو غیر محفوظ تصور کر کے انہوں نے متعدد بار خودکشی کا بھی سوچا تھا۔ اپنی زندگی کو ختم کرنے کے حوالے سے بات کرتے ہوئے میگھن مارکل جذباتی ہوکر اشکبار ہوگئیں۔ انہوں نے بتایا کہ جب وہ پہلے بچے کی امید سے تھیں تو شاہی محل کے لوگ ان کے ہونے والے بچے کی رنگت سے متعلق ’فکرمند‘ تھے اور یہ باتیں کرتے سنائی دیتے تھے کہ جانے ان کے بچے کا رنگ کیسا ہوگا؟ انٹرویو کے دوران شہزادہ ہیری نے بتایا کہ انہیں اپنے ہی خاندان کے ایک فرد نے ان کے بیٹے کی رنگت کا طعنہ دیا تاہم دونوں نے اس فرد کا نام نہیں لیا اور بتایا کہ نام لینا ان کے لیے تکلیف دہ اور نقصان دہ ہوگا۔ میگھن مارکل کے مطابق انہیں شاہی خاندان کی روایات سے متعلق زیادہ علم نہیں تھا لیکن جب وہ پہلی بار ملکہ سے ملیں تو انہیں ملاقات کے دوران جھکنا پڑا۔ انہوں نے ملکہ برطانیہ کی تعریف کرتے ہوئے شاہی محل میں خود کو پیش آنے والے مسائل پر بات کی اور کہا کہ جب انہیں مشکلات کا سامنا ہوا تو انہوں نے شاہی محل کے مدد کرنے والے محکمے سے مدد طلب کی مگر ادارے نے ان کی مدد کرنے سے معذرت کر لی، تب انہیں خیال آیا کہ انہیں اپنی زندگی ختم کرلینی چاہیے۔
میگھن مارکل نے اعتراف کیا کہ اگر وہ خود کو پیش آنے والی مشکلات کا ذکر شہزادہ ہیری سے نہ کرتیں تو شاید وہ خودکشی کرلیتیں۔ انہوں نے یہ بھی انکشاف کیا شاہی محل کی زندگی نے ان کے شوہر کو بھی تکلیف دی۔
میگھن مارکل کے مطابق انہیں اس بات پر بھی بہت صدمہ ہوا کہ شاہی محل نے ان کے بیٹے ’آرچی‘ کو شہزادے کا لقب نہیں دیا اور اسی وجہ سے ہی وہ ان میں غیر محفوظ ہونے کا خیال بڑھا۔ شہزادہ ہیری نے بھی انٹرویو کے دوران کئی انکشافات کیے اور بتایا کہ انہوں نے اپنے بڑوں کے رویوں کی وجہ سے شاہی حیثیت سے دستبردار ہونے کا فیصلہ کیا تھا اور اس اعلا کے بعد ہی شاہی محل نے ان کی مالی معاونت ختم کردی تھی۔ ڈیانا کے بیٹے شہزادہ ہیری نے بتایا کہ ان کے پاس والدہ کی چھوڑی ہوئی کچھ دولت تھی، جس کے سہارے انہوں نے زندگی کو آگے بڑھایا، مگر انہیں اپنے خاندان کے مستقبل کے تحفظ کے لیے ’نیٹ فلیکس‘ کے لیے فلمیں اور ’اسپاٹی فائے‘ کے لیے پوڈکاسٹ شو کرنے کے معاہدے کرنے پڑے۔
انہوں نے بتایا کہ جب وہ شاہی محل چھوڑ کر پہلے کینیڈا اور پھر وہاں سے امریکا گئے تو ایک ارب پتی امریکی کاروباری شخص نے انہیں گھر اور سکیورٹی فراہم کی۔
انٹرویو کے دوران میگھن مارکل نے ان خبروں کو مسترد کیا کہ ان کے اور کیٹ مڈلٹن کے درمیان کوئی اختلافات ہیں۔ تاہم انہوں نے بتایا کہ ابتدائی طور پر کچھ معاملات میں ان کے اور کیٹ مڈلٹن کے درمیان اختلافات ہوئے تھے مگر بعد ازاں کیٹ مڈلٹن نے ان سے اپنے رویے پر معافی مانگ کر تعلقات بحال کرلیے تھے۔ شہزادہ ہیری نے کہا کہ انہیں احساس ہے کہ شاہی محل میں جو تکالیف انہوں نے برداشت کیں، اتنی ہی تکلیف ان کے بھائی اور والد نے بھی برداشت کی ہوگی۔ ہیری کا کہنا تھا کہ شاہی خاندان کے ساتھ اختلافات کی بنیاد پر وہ اپنی والدہ کی تکلیف کا بھی اندازہ کر سکتے ہیں اور یہ سب سوچ کر انکا دل ٹرپتا ہے کیوں کہ وہ اور میگھن مرکل تو ایک ساتھ ہیں جب کہ شہزادی ڈیانا اس طرح کی صورت حال میں تنہا تھیں۔ انہوں نے بتایا کہ ہم نے شاہی خاندان میں رہنے کی ہر ممکن کوشش کی لیکن انہیں اپنے والد شہزادہ چارلس کی حمایت نہیں ملی۔ ہیری نے کہا کہ برطانوی شاہی خاندان نے ان کی اہلیہ میگھن کے ساتھ جس طرح کا سلوک کیا اس سے ان کی والدہ شہزادی ڈیانا سخت پریشان ہوتیں۔
