جنسی استحصال کے خلاف آگاہی دینے پر پیمرا کو کیا تکلیف ہے؟

بچوں کے جنسی استحصال کے حوالے سے آگاہی پھیلانے والے ڈرامے اُڈاری پر پابندی لگانے کی ناکام کوشش کے بعد اب پیمرا نے سیکس ٹریفکنگ، جہیز کی لعنت اور بچوں کے جنسی استحصال کو ہدف تنقید بنانے والے ڈرامے دل ناامید تو نہیں کے خلاف ایکشن لیتے ہوئے اسکے مواد کو قابل اعتراض قرار دے کر نوٹس جاری کر دیا ہے جو کہ سوشل میڈیا پر شدید تنقید کی زد میں ہے۔
پیمرا سے نوٹس جاری ہونے پر ڈرامے کی مرکزی کردار اداکارہ یمنی زیدی نے کہا ہے کہ مجھے سمجھ نہیں آیا کہ پیمرا نے ایسا نوٹس کیسے جاری کر دیا جبکہ انکا ڈرامہ حساس ترین معاشرتی موضوعات پر آگاہی پھیلانے کے لیے بنایا گیا یے۔ انہوں نے کہا میں اس نکتے کو سمجھ نہیں پا رہی کہ ہمارے گاؤں، سرکاری اسکولوں، گلی محلوں میں جو مسئلے مسائل ہوتے ہیں، اگر ہم ان پر بات نہیں کریں گے تو ہم صرف خبریں دیکھیں گے، اور وہ حقیقی خبریں یہ ہوں گی کہ کسی بچے یا کسی بچی کے ساتھ یہ ہوگیا۔ مجھے دل ناامید تو نہیں پر جو رائے مل رہی ہے وہ اتنی اچھی ہے، میں توقع نہیں کر رہی تھی۔
دوسری جانب پیمرا نے ڈرامہ سیریل ’دل ناامید تو نہیں‘ کو نوٹس جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس میں معاشرے کی حقیقی تصویر پیش نہیں کی گئی۔ یاد رہے کہ اس ڈرامے میں انسانی اسمگلنگ اور بچوں کے جنسی استحصال پر بات کی گئی ہے جب کہ یمنیٰ زیدی نے ایک جسم فروش لڑکی کا کردار ادا کیا ہے۔ یمنیٰ زیدی کے کردار کی مناسبت سے انہیں پارٹیز میں شامل دکھایا گیا ہے جسے پیمرا کی جانب سے خاص طور پر ’غیر اخلاقی مواد‘ قرار دیا گیا ہے۔ ڈرامے کی قسط نمبر دو، تین اور چھ پر اعتراض کیا گیا ہے جن میں حرکات و سکنات، مواد اور مکالموں کو معیوب کہا گیا ہے۔ مگر اس ڈرامے میں مرکزی کردار نبھانے والی اداکارہ یمنیٰ زیدی پیمرا کے اس نوٹس سے نالاں دکھائی دیتی ہیں۔ ایک انٹرویو میں انہوں نے ڈرامے کے مواد اور اس پر جاری ہونے والے نوٹس کے حوالے سے بات کی اور سوال کیا کہ کیا ہمارے معاشرے میں جسم فروش لڑکیاں موجود نہیں اور کیا جسم فروشی کے خلاف آگاہی پھیلانا جرم ہے؟
یاد رہے کہ یمنیٰ زیدی کو سماجی موضوعات پر مبنی ڈراموں کےلیے جانا جاتا ہے اور ’پیار کے صدقے‘ اور ’ڈر سی جاتی ہے صلہ‘ کے بعد ان کا یہ تیسرا ڈرامہ ہے جس پر پیمرا نے اعتراض کیا ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ پیمرا کے نوٹی فکیشن میں سرکاری نشریاتی ادارے پی ٹی وی کا نام نہیں لیا گیا ہے جس کے چینل پی ٹی وی ہوم پر بھی یہ ڈرامہ نشر ہو رہا ہے۔ یمنیٰ زیدی کہتی ہیں کہ ’دل نا امید تو نہیں‘ صرف اُن کی کہانی نہیں ہے بلکہ اس کے ساتھ دو اور ٹریکس ہیں جو بہت ہی ضروری ہیں۔ پہلے بھی گزشتہ کچھ برسوں میں میرے پراجیکٹس پر نوٹسز آ چکے ہیں اور میں کبھی اس پر کوئی بیان جاری نہیں کرتی۔ لیکن دل ناامید تو نہیں بڑا خاص پراجیکٹ ہے اور جن پہلوؤں پر بات کی گئی ہے وہ بہت اہم ہیں۔ ان پر ہمیں بات کرنی چاہیے، ان پر ہمیں سوچنا چاہیے۔ پیمرا کے نوٹس کے حوالے سے وہ کہتی ہیں کہ جن مسائل پر ڈرامے میں بات کی گئی ہے، وہ ہمارے دیہات، سرکاری اسکولوں اور گلی محلوں میں عام ہیں۔ مجھے سمجھ نہیں آیا کہ پیمرا نے مواد پر نوٹس کیسے جاری کر دیا۔ میں اس نکتے کو سمجھ نہیں پا رہی کہ ہمارے گاؤں، سرکاری اسکولوں، گلی محلوں میں جو مسئلے مسائل ہوتے ہیں، اگر ہم ان پر بات نہیں کریں گے تو ہم صرف خبریں دیکھیں گے، اور وہ حقیقی خبریں یہ ہوں گی کہ کسی بچے یا کسی بچی کے ساتھ یہ ہوگیا۔ یمنیٰ کہتی ہیں کہ اگر وہ کسی چیز پر سوچنے پر مجبور کر رہے ہیں، اگر کوئی مواد بنایا ہے تو کم از کم اس کو نشر ہونے دینا چاہیے۔ مجھے دل ناامید تو نہیں پر جو رائے مل رہی ہے وہ اتنی اچھی ہے، میں توقع نہیں کر رہی تھی۔ مجھے بڑا افسوس ہوا کہ پیمرا نے اس ڈرامے ہر اعتراض کیا یے۔ وہ کہتی ہیں کہ پاکستانی انڈسٹری کے پاس پہلے ہی بہت کم وسائل ہوتے ہیں۔ اس پر اگر ہم بطور انڈسٹری کچھ کرنا چاہتے ہیں تو اسے نشر تو ہونے دیں۔ اس سوال پر کہ انہیں معاشرے کے اس حصے کے بارے میں کیا لگتا ہے جو اس طرح کا مواد ٹی وی پر نشر کیا جانا پسند نہیں کرتے، یمنیٰ زیدی کہتی ہیں کہ جو لوگ اس پر اعتراض کرتے ہیں ان کے بھی خاندان ہیں، بچے ہیں، ہزار قسم کے مسئلے مسائل ہوتے ہیں، آپ اسے کیسے چھوڑ سکتے ہیں؟۔
وہ کہتی ہیں کہ ہم صرف ساس بہو کے ڈرامے نہیں بنا سکتے، ہم رومانوی بھی بناتے ہیں، تو جب بہت ساری چیزوں کو جگہ دی جاتی ہے تو اسے بھی چھوٹی سے جگہ دینی چاہیے۔ انکا کہنا یے کہ ویسے تو اداکاروں کےلیے اپنے کسی ڈرامے کی شوٹنگ کے بعد اس کی ہر قسط دیکھنا ممکن نہیں ہوتا لیکن یہ ڈرامہ اُن کےلیے مختلف حیثیت رکھتا ہے۔ میں تو صرف اداکارہ ہوں، مجھے نہیں پتا اس پر بنانے والوں کا کیا ردِ عمل ہے، لیکن مجھے بہت تکلیف ہوئی۔ میں ذاتی طور پر اس پراجیکٹ کی ہر قسط دیکھتی ہوں، اور سوچتی ہوں کہ کتنا اچھا بنایا ہوا ہے، کتنی عمومی چیزوں پر بات کی گئی ہے جس سے ہم میں سے کوئی نہ کوئی گزرا ہے۔
یمنی نے کہا کہ پہلے بھی میرے کچھ پراجیکٹس کو پیمرا کے نوٹسز ملے ہیں مگر تازہ نوٹس پر مجھے بڑی تکلیف ہوئی کہ اسیا نہیں ہونا چاہیے۔ وہ کہتی ہیں کہ لوگ سوشل میڈیا پر اس حوالے سے بات کر رہے ہیں اور انہیں یہ دیکھ کر اچھا لگ رہا ہے۔ میں نے زیادہ تر یہ دیکھا کہ لوگ اس کی حمایت کر رہے ہیں اور وہ پیمرا کے نوٹس کی مخالفت کر رہے ہیں۔ اس چیز پر خود انہیں نظرِثانی کرنی چاہیے کہ انہوں نے اسے نوٹس کیوں جاری کیا ہے۔
کیا اس پراجیکٹ کی پیشکش پر سوچا تھا کہ اس طرح کا ردِعمل آ سکتا ہے؟ اس سوال پر وہ کہتی ہیں کہ انہیں نہیں پتا تھا کہ یہ ڈرامہ کون سے چینل پر چلے گا یا کیا ردِعمل ملے گا۔ میں نے تو ایک مقصد کےلیے کرنا چاہا تھا، تو اس مقصد کےلیے میں ابھی بھی اس پر بات کر رہی ہوں۔ بس مجھے ایسا لگتا ہے کہ میں خالی خالی کام نہ کروں۔ میرا دل چاہتا ہے کہ اگر میری تصویر کسی پراجیکٹ پر ہے تو اس کی کوئی روح، کوئی مقصد ہونا چاہیے۔ اور چیزیں تو بنتی رہتی ہیں، مگر میری ذاتی چوائس یہ ہوتی ہے۔ اسی لیے سکرپٹ کے انتخاب میں وقت لگتا ہے اور پریشانی بھی ہوتی ہے۔
ڈرامے میں جسم فروش لڑکی کا کردار ادا کرنے کے حوالے سے یمنی نے بتایا کہ انہوں نے اس کردار کو کافی قریب سے محسوس کیا ہے۔ بذاتِ خود میری شخصیت بہت سمٹی ہوئی ہے اور میں زیادہ گھلتی ملتی یا بات نہیں کرتی، تو جب ہم پارٹیوں کے مناظر شوٹ کر رہے تھے تو مجھے برا لگا، اور میں نے سوچا کہ جن لوگوں کی ساری زندگی ہی ایسی ہوتی ہے وہ اسے کیسے گزارتے ہوں گے۔ چنانچہ میں نے شکر ادا کیا کہ میری زندگی ایسی نہیں ہے۔ پیمرا کے نوٹس کے بعد سوشل میڈیا صارفین کی جانب سے عمومی طور پر ڈرامے کی حمایت میں تبصرے دیکھنے میں آ رہے ہیں جب کہ شاذ و نادر ہی کوئی تبصرہ اس ڈرامے کے خلاف دیکھنے میں آ رہا ہے۔
زیادہ تر پاکستانی انٹرٹینمنٹ صارفین ٹوئٹر پر اس جانب توجہ دلاتے ہوئے نظر آئے کہ جن چیزوں کی اس ڈرامے میں عکاسی کی گئی ہے، ان میں سے زیادہ تر رویے پاکستان میں پائے جاتے ہیں۔ عطیہ طارق نے کہا کہ یہ مضحکہ خیز ہے کہ کیسے پیمرا نے بچوں کے جنسی استحصال کے حوالے سے آگاہی پھیلانے والے ڈرامے اُڈاری پر پابندی لگانے کی کوشش کی اور اب سیکس ٹریفکنگ، جہیز، بچوں اور خواتین کے جنسی استحصال اور دیگر موضوعات پر کھلے انداز میں بات کرنے والے ڈرامے دل ناامید تو نہیں کے خلاف ایکشن لیا گیا ہے۔ ماریہ نواز نے لکھا کہ آج کل ٹی وی پر جو واحد ڈرامہ دیکھنے لائق ہے وہ ’دل ناامید تو نہیں‘ ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button