ہزارہ دھرنا: شرکا اس غضبناک سردی میں اپنے شب و روز کیسے گزار رہے ہیں؟

کوئٹہ آج کل جس غضبناک سردی کی لپیٹ میں ہے اس میں کسی بھی شخص کے لیے گھر سے باہر بیٹھنا ممکن نہیں لیکن ایسے میں سینکڑوں خواتین، مرد اور بچے کھلے آسمان تلے بیٹھے ہیں ۔
یہ لوگ شہر کے ایک ایسے مقام پر بیٹھے ہیں جہاں بلندی کے باعث سردی کی شدت بہت زیادہ ہوتی ہے۔پہلے کے مقابلے میں گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران سردی کی شدت میں بھی مزید اضافہ ہوا لیکن اس کے باوجود ان لوگوں کے عزم میں کوئی کمی نہیں آئی اور شرکا کی تعداد میں گزشتہ پانچ روز کے مقابلے میں اضافہ ہوا۔
یہ ہزارہ قبیلے سے تعلق رکھنے والے افراد ہیں جو کہ کان کنوں کے قتل کے خلاف تین جنوری سے میتوں کے ہمراہ دھرنا دیے بیٹھے ہیں۔ان کان کنوں کو دو اور تین جنوری کی درمیانی شب ضلع کچھی میں درہ بولان کے علاقے مچھ میں قتل کیا گیا تھا۔
کوئٹہ شہر میں دھرنا مغربی بائی پاس کے علاقے میں ہزارہ ٹاؤن کے قریب دیا جا رہا ہے۔ مغربی بائی پاس کوئٹہ کی اہم شاہراہ ہے جہاں سے بہت بڑی ٹریفک گزرتی ہے۔ اس دھرنے کی وجہ سے اس شاہراہ پر تین جنوری سے گاڑیوں کی آمدوروفت بند ہے۔اس علاقے میں یہ پہلا دھرنا نہیں بلکہ اس سے قبل بھی ہزارہ قبیلے سے تعلق رکھنے والے افراد اس شاہراہ پر دھرنا دیتے رہے ہیں۔دھرنے کے لیے قناعتیں لگائی گئی ہیں جس کے پہلے حصے میں مرد جبکہ پچھلے حصے میں خواتین کے بیٹھنے کا انتظام ہے۔
قناعتوں کے اندر ہی قتل کیے جانے والے کان کنوں کی میتیں بھی رکھی گئی ہیں۔ تین جنوری کو ہی کان کنوں کی لاشوں کو مغربی بائی پاس پر دھرنے کی جگہ پر منتقل کیا گیا تھا۔ لاشوں کو خراب ہونے سے بچانے کے لیے کسی بھی قسم کے کیمیکلز کا استعمال نہیں کیا جا رہا ہے بلکہ صرف برف کا استعمال کیا جاتا ہے۔کوئٹہ میں اس وقت درجہ حرارت نقطہ انجماد سے نیچے ہے۔’ایسے میں میتوں کو محفوظ بنانے کے لیے برف کی بھی ضرورت نہیں ہوتی تاہم احتیاطاً ان کا استعمال کیا جا رہا ہے۔‘ قتل کیے جانے والے کان کنوں کے لواحقین کا مطالبہ ہے کہ عمران خان آئے تو میتوں کو دفنایا جائے گا تاہم اگر وہ فوری طور پر نہیں آتے تو وہ طویل عرصے تک میتوں کو نہیں دفنائیں گے اور ان کو محفوظ بنانے کے لیے اقدامات کریں گے۔
دھرنے کے شرکا کے لیے کھانے پینے کا انتظام دھرنے کے مقام پر ہی کیا گیا ہے۔ جہاں صبح کے ناشتے کے علاوہ شرکا کو دو وقت کا کھانا بھی فراہم کیا جاتا ہے۔کھانے پینے کی اشیا اپنی مدد آپ کے تحت فراہم کی جارہی ہیں۔شرکا کو کھانے میں سب سے زیادہ فراہم کیا جانے والا آئیٹم چاول ہے۔زیادہ تر شرکا کو چکن بریانی فراہم کی جاتی ہے۔چاول چھولے کے علاوہ ان کو چھولے اور روٹی بھی فراہم کی جاتی ہے۔ ناشتے میں چائے کے ساتھ روٹی کے علاوہ انڈا بھی دیا جاتا ہے۔
شدید سردی کی وجہ سے چونکہ چائے کا استعمال زیادہ ہوتا ہے اس لیے چائے کی فراہمی کے لیے دھرنے میں تین سے چار مقامات پر انتظامات ہیں جہاں بڑے بڑے دیگوں میں چائے بنائی جاتی ہے۔شرکا میں سے کسی کو بھی چائے کی طلب ہو تو وہ جتنی بار چاہے چائے کے لیے لگے سٹالز پر مفت چائے پی سکتا ہے۔دھرنے کے شرکا کے لیے سبز چائے بھی دستیاب ہے لیکن منتظمین کی جانب سے زیادہ تر قہوہ فراہم کیا جاتا ہے۔چونکہ سردی کی شدت بہت زیادہ ہے اس لیے چکن سوپ بھی دستیاب ہے۔ کھانے پینے کی اشیاء لوگ نیاز کے طور پر دیتے ہیں جنھیں وہ دھرنے کی شرکا کی خدمت میں پیش کرتے ہیں۔
کھانے پینے کی اشیا کی فراہمی کے علاوہ دھرنے کی جگہ پر لوگوں کو وضو اور منہ ہاتھ دھونے کے لیے گرم پانی کا انتظام بھی ہے۔
خدمت کے فرائض ہزارہ سکاؤٹس اور دیگر رضا کار سرانجام دیتے ہیں۔دھرنے کے شرکا کو ابتدائی طبی امداد کی فراہمی کے لیے میڈیکل کیمپ بھی قائم کیا گیا ہے۔ کیمپ میں موجود رضاکار ضرورت پڑنے پر نہ صرف شرکا کو ابتدائی طبی امداد فراہم کرتے ہیں بلکہ وہاں ایمبولینس بھی موجود ہیں جن کے ذریعے لوگوں کو ہسپتال بھی پہنچایا جاتا ہے۔سردی سے بچنے کے لیے خاطر خواہ انتظام نہیں
شدید سردی میں منتظمین کی جانب سے دھرنے کے شرکا کو کھانے پینے کی فراہمی کے لیے ہر ممکن انتظامات کیے گئے ہیں لیکن غضبناک سردی سے بچنے کے لیے کوئی مناسب انتظام نہیں۔دھرنے کے لیے لگی قناعتوں سے باہر مرد حضرات لکڑیاں جلا کر کسی حد تک اپنے آپ کو گرم رکھنے کا انتظام کرتے ہیں لیکن قناعتوں کے اندر ایسا کوئی انتظام نہیں۔قناعتوں کے اندر جو لوگ بیٹھے ہیں ان کا انحصار گرم لباس پر ہوتا ہے جبکہ بعض لوگوں کے پاس کمبل بھی ہوتے ہیں۔
بلوچستان بالخصوص کوئٹہ میں فرقہ وارانہ واقعات میں جہاں ہزارہ قبیلے سے تعلق رکھنے والے افراد کو نشانہ بنایا جاتا رہا ہے وہیں انھوں نے اس کے خلاف شدت سے احتجاج بھی کیا۔لاشوں کے ہمراہ کئی روز تک پر امن احتجاج کی روایت انھوں نے ہی قائم کی۔
2008 کے عام انتخابات کے نتیجے میں پیپلز پارٹی کے تیسری دور حکومت میں جب علمدار روڈ پر واقع سنوکر کلب میں یکے بعد دیگردو خود کش حملے ہوئے تو اس کے بعد بھی لاشوں کے ساتھ طویل دھرنا دیا گیا جس پر ان کے مطالبے پر نواب اسلم رئیسانی کی حکومت کو کچھ عرصے کے لیے معطل کر کے بلوچستان میں گورنر راج نافذ کیا گیا تھا۔اس وقت سابق وزیراعظم راجہ پرویز اشرف کو دھرنے کے شرکا کے پاس آنا پڑا تھا ۔
دو سال قبل کوئٹہ شہر میں ہزارہ قبیلے سے تعلق رکھنے والے افراد کو نشانہ بنایا گیا تو شہر کے مختلف علاقوں میں دھرنوں کے علاوہ قبیلے سے تعلق رکھنے والی معروف سماجی کارکن جلیلہ حیدر ایڈووکیٹ نے تادم مرگ بھوک ہڑتال شروع کی۔اس وقت یہ شرط رکھی گئی تھی کہ فوج کے سربراہ جب آئیں گے تو احتجاجی دھرنوں کو ختم کرنے کے علاوہ تادم مرگ بھوک ہڑتال کو ختم کیا جائے گا جس پر فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ کوئٹہ تو آئے تھے لیکن وہ دھرنے کے شرکا کے پاس نہیں آئے تھے بلکہ شرکا اور جلیلہ حیدر کو ان سے بات چیت کے لیے کوئٹہ کینٹ لے جایا گیا تھا۔
