اے بے یارو مدد گار معصوم مزدوروں کی لاشو، میں شرمندہ ہوں

ان کا یہ بیان وزیراعظم کے ہزارہ برادری والوں کو بلیک میلر کہنے کے بعد آیا، وزیراعظم نے شرط رکھی آپ تدفین کریں پھر آؤں گا۔ ترجمان وزیراعظم کا ردعمل
وزیراعظم کے ترجمان ندیم افضل چن نے کہا ہے کہ اے بے یارو مدد گار معصوم مزدوروں کی لاشو، میں شرمندہ ہوں، ان کا یہ بیان وزیراعظم کے ہزارہ برادری والوں کو بلیک میلر کہنے کے بعد آیا، وزیراعظم نے شرط رکھی آپ تدفین کریں پھر آؤں گا۔ انہوں نے ٹویٹر پر اپنے انتہائی مختصر ردعمل میں دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے لکھا کہ اے بے یارو مدد گار معصوم مزدوروں کی لاشو، میں شرمندہ ہوں۔
ان الفاظ میں ندیم افضل چن کی بےبسی کو محسوس کیا جاسکتا ہے کہ وزیراعظم عمران خان نے انتہائی غیرمناسب بیان دیا کہ کسی بھی وزیراعظم کو اس طرح بلیک میل نہیں کیا جاتا کہ آپ آئیں گے تو ہم تدفین کریں گے۔
اسلام آباد میں اسپیشل اکنامک زونز اتھارٹی کی لانچنگ کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ شاید سب سے زیادہ ظلم ہزارہ برادری کے لوگوں پر ہواہو، خاص طور پر گزشتہ 20 برسوں میں 11 ستمبر 2001 کے بعد ان کے اوپر دہشت گردی اور قتل وغارت جیسے مظالم وہ کسی اور برادری پر نہیں ہوئے. انہوں نے کہا کہ جب بڑے بڑے سانحات ہوئے تو میں وہاں گیا اور میں نے ان کا خوف دیکھا، جب یہ مچھ کا واقعہ ہوا جہاں 11 ہزارہ برادری کے مزدوروں کو بے دردی سے قتل کیا گیا۔
یہ اس سازش کا حصہ ہے جس کا میں نے گزشتہ مارچ میں کابینہ کو بتایا تھا اور عوامی بیانات دیے تھے کہ بھارت پوری طرح پاکستان میں انتشار پھیلانے کی کوشش کر رہا ہے اور ایک جگہ ہے فرقہ وارانہ فسادات، جہاں بھارت کا منصوبہ ہے کہ شیعہ، سنی علما کو قتل کرنا. تاہم انہوں نے کہا کہ میں ملک کی خفیہ ایجنسی کو خراج تحسین پیش کرتا ہوں کہ 4 بڑے دہشت گردی کے واقعات ہمارے اداروں کی وجہ سے نہیں ہوئے لیکن اس کے باوجود کراچی میں ایک ہائی پروفائل سنی عالم کا قتل کیا گیا، جس پر بڑی مشکل سے ہم نے آگ بجھائی جس پر فرقہ وارانہ تقسیم ہونے والی تھی. انہوں نے کہا کہ مچھ میں جو ہوا ہے، ہمیں پہلے سے اندازہ تو تھا، اس واقعے کے بعد میں نے سب سے پہلے وزیر داخلہ کو بھیجا، جنہوں نے بات کی اور اس کے بعد 2 وفاقی وزرا کو وہاں بھیجا یہ بتانے کے لیے کہ یہ حکومت ان کے ساتھ کھڑی ہے.
انہوں نے کہاکہ ان لواحقین کے گھروں میں کمانے والوں کو مار دیا گیا، میں نے انہیں یقین دہانی کرائی کہ ہم ان کا پوری طرح خیال رکھیں گے، انہوں نے ہم سے جو بھی مطالبات کیے ہم نے تمام مان لیے تاہم ان کا یہ مطالبہ ہے کہ وزیراعظم آئیں گے تو ہم لاشوں کو دفنائیں گے لیکن میں نے انہیں پیغام پہنچایا ہے کہ جب آپ کے تمام مطالبات مان لیے ہیں تو یہ مطالبہ کرنا کہ جب تک وزیراعظم آئیں گے نہیں ہم تدفین نہیں کریں گے، مناسب نہیں. عمران خان نے کہا کہ کسی بھی ملک کے وزیراعظم کو اس طرح بلیک میل نہیں کرتے ورنہ ہر کوئی بلیک میل کرے گا، سب سے پہلے ڈاکوﺅں کا ٹولہ کہے گا کہ ہمارے سارے کرپشن کے کیسز معاف کرو نہیں تو ہم حکومت گرادیں گے، یہ بھی اڑھائی سال سے بلیک میلنگ چل رہی ہے. انہوں نے کہا کہ میں نے کہا ہے کہ جیسے ہی تدفین کریں گے میں لواحقین سے ملوں گا، میں آج پھر کہہ رہا ہوں کہ اگر آپ آج تدفین کرتے ہیں تو میں آج کوئٹہ جاتا ہوں اور لواحقین سے ملتا ہوں، لہٰذا یہ واضح ہونا چاہیے کہ آپ کے سارے مطالبات مان لیے ہیں لیکن یہ شرط لگانا کہ وزیراعظم آئیں گے تو تدفین ہوگی مناسب نہیں ہے۔
