ہماری سیاسی جماعتیں فوجی اسٹیبلشمنٹ کے تابع کیوں؟

آمریت کے خلاف جدوجہد اور عوامی سیاست کی دعویدار ملک کی دونوں بڑی سیاسی جماعتوں نے فوجی سربراہ کی مدت ملازمت میں توسیع کے لیے اسٹیبلشمنٹ نواز تحریک انصاف کی حمایت کا اعلان کرکے ثابت کردیا ہے کہ سیاسی جماعتیں اپوزیشن میں ہوں یا حکومت میں، یہ سب فوج کے تابع ہیں اور ان کی سیاست کا محور و مرکز اسٹیبلشمنٹ کی خوشنودی حاصل کرنا ہے۔ ظاہر ہے آج یہ تحریک انصاف کی طرح بوٹ پالش کریں گی تو کل کو ان کا بھی اقتدار میں آنے کا چانس بنے گا یعنی اب پاکستان میں ایک بات طے ہوچکی کہ کوئی بھی سیاسی جماعت اقتدار میں عوام کے ووٹوں کے زور پر نہیں بلکہ اچھے بوٹ پالش کرنے کی بنا پر آئے گی۔
پی پی پی اور ن لیگ کی طرف سے فوج کے سربراہ کی مدت ملازمت میں توسیع سے متعلقہ قانون سازی کی حمایت کے اعلانات نے عوامی حلقوں میں یہ بحث چھیڑ دی ہے کہ ہماری نام نہاد سیاسی پارٹیاں اپنے سیاسی بیانیے کے خلاف جا کر توسیع کی تائید کرنے پر کیوں مجبور ہوئیں۔ سادہ ترین جواب یہ ہے کہ اصولی موقف اپنانے پر ان کے پر جلتے ہیں۔ دونوں جماعتوں کی مرکزی قیادت اسٹیبلشمنٹ کے ہاتھوں احتساب کے ڈنڈے سے جتنا نقصان اٹھا چکی ہے اس کے بعد اب ان میں مزید ہمت نہیں کہ وہ اصولی بیانیہ لے کر ملکی سیاست میں آگے چل سکیں۔
پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو نے اپنے اصولی موقف سے ہٹنے کی بھونڈی وضاحت کرتے ہوئےکہا کہ اگر ہم بل کی حمایت نہ بھی کریں تو حکومت ہر صورت میں بل پاس کروا لے گی۔ ہمارے پاس تو قومی اسمبلی میں تھوڑے سے ووٹ ہیں۔ ہم کر ہی کیا سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں قومی اسمبلی میں زیادہ ووٹ رکھنے والی مسلم لیگ نے بل کی غیر مشروط حمایت کے فیصلے سے آگاہ بھی نہیں کیا۔ ہمارے قومی اسمبلی میں 52 ووٹ ہیں۔ پیپلز پارٹی اتنے ووٹوں کے ساتھ اس بل میں ایک بھی فل سٹاپ یا کاما تبدیل نہیں کر سکتی ہے۔ میں بل کو روک نہیں سکتا تھا۔ لیکن اب بلاول کو کون سمجھائے کہ اگر اصولوں کی خاطر اسمبلی میں کھڑے ہونا ہو تو ایک ووٹ بھی کافی ہوتا ہے۔
اس سے قبل پاکستان مسلم لیگ نواز کے رہنما خواجہ آصف کہہ چکے ہیں کہ انھیں پارٹی کی سینیئر قیادت نے ہدایت کی ہے کہ آرمی چیف کے حوالے سے ہونے والی قانون سازی کی مخالفت نہ کی جائے اور یہ کہ مسلم لیگ اپنی قیادت کی ہدایت پر عمل پیرا ہو گی۔ یاد رہے کہ یہ وہی خواجہ آصف ہے جنہوں نے قومی اسمبلی کے فلور پر اپنے والد خواجہ محمد صفدر کی جانب سے جنرل ضیاالحق کی مجلس شوریٰ کا چیئرمین بننے پر پوری قوم سے معافی مانگی تھی اور یہ عزم کیا تھا کہ آئندہ وہ کوئی ایسی حرکت نہیں کریں گے جو پاکستان میں جمہوریت کے ماتھے کا داغ بنے۔
لیکن سچ تو یہ ہے کہ جب میاں نواز شریف نے ہی جوتے مارنے والوں کے بوٹ پالش کرنے کا فیصلہ کرلیا تو خواجہ آصف کیا کرسکتا ہے۔ کچھ تجزیہ کار اسے مسلم لیگ نواز کی اقتدار پرستی اور سیاسی چال قرار دے رہے ہیں جبکہ دیگر کئی اسے مجبوری اور مفاد پرستی سے تعبیر کر رہے ہیں۔ نون لیگ کے کچھ رہنما تو یہ چورن بیچ کر میاں نواز شریف کے فیصلے کو ٹھیک ثابت کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ جنرل قمر باجوہ نے توسیع کے بعد اس حکومت سے قوم کی جان چھڑوا دینی ہے اس لیے ہم ان کا ساتھ دے رہے ہیں۔ یعنی اس ملک میں حکومت کس کی ہوگی یہ فیصلہ عوام نے نہیں بلکہ جرنیلوں نے ہی کرنا ہے۔
سینئیر صحافی اور تجزیہ کار سہیل وڑائچ کہتے ہیں کہ پاکستان میں سیاسی پارٹیاں اپنے اصولوں پر کہاں چلتی ہیں؟ ’یہ سب جماعتیں اقتدار پرست ہیں اور میرے خیال میں ان کو ایسا ہونا بھی چاہیے۔‘ ان کے خیال میں نون لیگ آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع سے متعلق آرمی ایکٹ میں ترمیم کی ’مکمل اور غیر مشروط‘ حمایت کے ذریعے فوج کو عمران خان سے دور اور اپنےقریب دیکھنا چاہتی ہے۔
سینیئر صحافی عارف نظامی کا کہنا ہے کہ مسلم لیگ نون کی سیاست ہمیشہ موقع پرستانہ اور مفاد پرستانہ رہی ہے۔ جب ان کو سوٹ کرتا تھا تو جی ٹی روڈ کا روٹ لے لیتے ہیں، ووٹ کو عزت دو کا نعرہ لگاتے ہیں اور چل پڑتے ہیں۔ عارف نظامی کہتے ہیں کہ درحقیقت یہ شہباز شریف کے بیانیے کی جیت ہے۔
سینئیر صحافی عاصمہ شیرازی کا کہنا ہے کہ اس وقت ایسی جمہوریت ہے جس میں کوئی اختلافی آواز نکل ہی نہیں رہی لیکن یہ بھی سچ ہے کہ اس وقت مسلم لیگ ن بکھری ہوئی ہے۔ جماعت کے سیکریٹری جنرل احسن اقبال اور شہباز شریف کے بیٹے حمزہ شہباز حراست میں ہیں جبکہ مریم خاموش ہیں اورانھوں نے عملی طور پر سیاست سے کنارا کشی اختیار کر لی ہے۔ ان حالات میں پاکستان میں موجود مسلم لیگ کی قیادت تو وہی کچھ کرے گی جو اسے کرنے کو کہا جائے گا۔
