نواز شریف نے ووٹ کی عزت تار تار کر دی

ماضی قریب میں انقلابی اور اینٹی اسٹیبلشمنٹ بیانیے کے تحت ووٹ کو عزت دو کا نعرہ لگانے والے نواز شریف نے بالآخر وہی کیا جو ایک بزنس مین کرتا ہے اور جو وہ ماضی میں بھی کرتے چلے آئے ہیں یعنی لین دین۔ ملک سے باہر جانے کی اجازت اور اپنے کرپشن کیسوں میں رعایت لینے کے بدلے میں میاں صاحب نے ووٹ کو عزت دو کا نعرہ ایک کاغذ پر لکھ کر لندن کے ایک ٹوائلٹ میں فلش کر دیا اور بوٹ کو عزت دینے کا فیصلہ کیا۔
جمہوری اصولوں کی پاسداری اور پارلیمنٹ کی بالادستی کے بلند و بانگ دعوے کرنے والی ن لیگ کی جانب سے نہایت بے شرمی کے ساتھ آرمی ایکٹ کی غیر مشروط حمایت کے اعلان نے جہاں ملکی سیاست میں ہلچل مچادی ہے وہیں یہ سوال بھی کیا جا رہا ہے کہ کیا ووٹ کی عزت کا جنازہ نکالنے والے میاں صاحب کی جانب سے اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ جوتے پالش کرنے کی ڈیل کے نتیجے میں اب ان کی صاحبزادی مریم نواز کو بھی بیرون ملک جانے کی اجازت مل جائے گی۔ غیر سیاسی حلقے تو یہی دعویٰ کر رہے ہیں۔
مسلم لیگ ن کی جانب سے ووٹ کو عزت دینے کی بجائے بوٹ کی عزت کرنے کے اچانک فیصلے نے سوچنے اور سوال کرنے والے لوگوں کو ششدر کردیا ہے۔ یاد رہے کہ یہ وہی بوٹ ہیں جنہوں نے میاں نواز شریف کے اقتدار کو روندتے ہوئے الیکشن 2018 میں عمران خان کو وزارت عظمیٰ کے منصب پر فائز کیا تھا۔ جواب میں میاں نواز شریف نے یہ عزم کیا تھا کہ وہ مر جائیں گے لیکن غاصبوں کے سامنے جھکیں گے نہیں۔ سچ تو یہ ہے کہ وہ اپنے وعدے پر قائم رہے اور انھوں نے جھکنے سے انکار کرتے ہوئے بھاگ جانے کو بہتر سمجھا۔
سینئر صحافی انصار عباسی کا کہنا ہے کہ ن لیگ کے اس ایک یو ٹرن نے تحریک انصاف کے تمام یو ٹرنز کو پیچھے چھوڑ دیا ہے۔ سینئر کالم نگار سلیم صافی کا کہنا کہ ن لیگی قیادت چوہدری نثار علی خان کے گھر جا کر ان سے معافی مانگے کیونکہ جوتے پالش کرنے کا مشورہ تو انہوں نے میاں صاحب کو آج سے دو سال پہلے بھی دیا تھا جسے مسترد کرکے حکومت گنوا دی گئی۔ انہوں نے کہا کہ سب قائدین مریم نواز کی قیادت میں جا کر چودھری نثار سے معافی مانگیں، اگر چوہدری نثار کی بات مانی جاتی تو نہ حکومت جاتی، جیلیں دیکھنی پڑتیں اور نہ جوتے چمکانے کی وہ سیاست کرنی پڑتی جو اب کی جارہی ہے۔
اس چیز کا اعتراف تو خواجہ محمد آصف نے بھی کیا ہے کہ جوتے پالش کرنے کا فیصلہ دراصل میاں نواز شریف نے لیا ہے۔ گویا یہ اعتراف کرلیا گیا کہ شہبازشریف اور چوہدری نثار کا بیانیہ درست اور مریم نواز وغیرہ کا غلط تھا۔ سلیم صافی نے سوال کیا کہ کیا ن لیگ کے وہ خوشامدی اب معافی مانگیں گے جنہوں نے باپ بیٹی کو پنگے لینے پر اکسایا؟
اخلاقیات کا تقاضہ یہی ہے کہ ماضی میں قسمیں اٹھا کر یہ دعوے کرنے والے کہ ہم نے اللہ تعالی سے ڈیل کر لی ہے اور کسی بندے سے ڈیل نہیں کریں گے، اب اپنے سپورٹرز اور ورکرز سے بوٹ پالش کرنے کے فیصلے پر معافی مانگیں۔
سینئر صحافی و تجزیہ کار طلعت حسین کا بوٹ پالش کرنے کے فیصلے پر کہنا ہے کہ اگر آخر میں یہی کھچ مارنی تھی تو اتنے بلند و بانگ دعوے کرنے کی کیا ضرورت تھی۔
تجزیہ کار ثناء بچہ کا کہنا ہے کہ ’میرا خیال ہے مناسب وقت دیکھ کر اگلے سال اپریل یا اکتوبر میں اس پارلیمان کی پاسنگ آؤٹ پریڈ بھی کروا دینی چاہئے۔ عاصمہ شیرازی نے ن لیگ کے بیانیے پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ’سویلین بالادستی کا نظریہ آج دفن ہو گیا‘۔
