ہم سری لنکن شہری کو مرنے کے بعد بھی عزت کیوں نہ دے پائے؟

پاکستانی سوشل میڈیا صارفین کی جانب سے تحریک لبیک کے ہاتھوں قتل ہونے والے سری لنکن شہری کی میت کے تابوت کی ایک تصویر وائرل کی جا رہی ہے اور یہ سوال اٹھایا جا رہا ہے کہ اس بہیمانہ قتل کے واقعے کی بعد کیا پاکستانی حکومت سری لنکن شہری کی میت کو بھی باعزت طریقے سے واپس بھجوانے کی اہل نہیں تھی۔
سوشل میڈیا پر سری لنکن شہری پریا نتھا دیاودھنہ کے تابوت کی وائرل تصویر میں دیکھا جا سکتا تھا کہ لکڑی کا ایک تابوت زمین پر رکھا ہے جس پر لکھا تھا ‘سری لنکن شہری پریا نتھا دیاودھنہ کی انسانی باقیات۔’ سوشل میڈیا پر وائرل تصویر کے بارے میں بات کرتے ہوئے طاہر اشرفی کا کہنا تھا کہ ’یہ پروپیگنڈا کیا جا رہا ہے کہ ہم نے ایسے ہی تابوت میں انھیں روانہ کر دیا ہے۔ ایسی کوئی بات نہیں ہے یہ تصویر اس وقت لی گئی جب ائیر پورٹ پر ان کے تابوت کو کفن میں لپیٹا جا رہا تھا۔‘ سوشل میڈیا صارفین کی جانب سے ان کی میت کے تابوت کی تصویر پر لوگوں کا کہنا تھا کہ اس ظلمانہ واقعے کے بعد پریانتھا کو کم از کم عزت و احترام کے ساتھ سرکاری اعزاز کے ساتھ رخصت کیا جائے تاکہ ان کے اہل خانہ کو ہم یہ بتا سکیں کہ ہم بحیثیت قوم شرمندہ ہیں۔
بی بی سی نے یہ جاننے کی کوشش کی ہے کہ سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی تابوت کی تصویر کی حقیقت کیا ہے اور مقتول سری لنکن شہری کی میت کو کس انداز میں ان کے ملک واپس بھیجا گیا۔ اس بارے میں گفتگو کرتے ہوئے حکومت پنجاب کے اعلیٰ عہدے دار کا کہنا تھا کہ سری لنکن شہری کا پوست مارٹم سیالکوٹ میں ہی کیا گیا جس کے بعد ان کے جسم کی باقیاب کو تابوت میں ڈال کر مردہ خانے میں رکھا گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ‘سرد خانے میں میت کی شناخت کے لیے اس پر نام لکھا گیا۔ انھوں نے بتایا کہ تصویر میں نظر آنے والے تابوت کو اتوار کی رات لاہور ائیرپورٹ پر لایا گیا اور غالبا وہاں ہی یہ تصویر ائیرپورٹ عملے نے اتاری۔ انھوں نے مزيد بتایا کہ ‘سری لنکن شہری کی میت کے تابوت کو تبدیل نہیں کیا گیا جبکہ اسے ایک سفید چادر یعنی کفن میں لپیٹا گیا ہے۔
انھوں نے بتایا کہ ‘ہمارا ارادہ تھا کہ ہم اسے سری لنکن جھنڈے میں لپیٹ کر بھیجیں لیکن سری لنکن سفارتخانے کی جانب سے کہا گیا کہ ہمارے ہاں اس طرح نہیں ہوتا اس لیے آپ سفید چادر میں لپیٹ دیں۔’ انھوں نے سری لنکن شہر کی میت کے تابوت کو عزت و احترام سے بھجوائے جانے کے متعلق مزید بتایا کہ ‘ہم نے میت کی عزت تکریم کے لیے یہ اجازت بھی مانگی کہ کیا ہم تابوت پر گلاب کی پتیاں ڈال سکتے ہیں تو سفارتخانے کی جانب سے کہا گیا کہ لال گلاب مت ڈالیے گا کیونکہ وہ ہمارے ہاں شادیوں پر استعمال کیے جاتے ہیں، آپ پیلے رنگ کے پھول ڈال سکتے ہیں۔ جس کے بعد ہم نے اسی انداز میں سب کچھ کیا ہے۔’
وزیر اعظم کے نمائندہ خصوصی برائے مذہبی ہم آہنگی طاہر اشرفی نے بتایا کہ سری لنکن شہری کی میت کو پورے عزت اور احترام سے کولمبو روانہ کیا گیا اور اس موقع پر میں خود ائیرپورٹ پر موجود تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ سری لنکن شہری پریا نتھا دیاودھنہ کی میت کو اعزاز کے ساتھ روانہ کرنے کے لیے وزارت داخلہ کے افسران اور ڈپلومیٹ بھی موجود تھے۔ انھوں نے بتایا کہ ‘سری لنکن سفارتخانے کا عملہ بھی میرے ساتھ موجود تھا اور انھوں نے اس واقعے پر یہی کہا کہ یہ انتہائی افسوسناک واقعہ ہے اور جس طرح پاکستان کی عوام اور حکومت نے اس پر غم و غصے کا اظہار کیا وہ ہمارے لیے تسلی کا باعث ہے۔ انہوں نے اس امید کا اظہار بھی کیا کہ وزیر اعظم عمران خان اپنے وعدے کے مطابق اس واقعے میں ملوث لوگوں کے خلاف سخت کاروائی کریں گے۔’
تاہم سری لنکن شہری پریا نتھا دیاودھنہ کے تابوت کی تصویر شئیر کرتے ہوئے صارف طاہر عمران نے لکھا کہ یہ ہماری ریاست کی ستر سالہ پالیسوں کا جنازہ ہے۔ جبکہ ندرت خواجہ نے لکھا کہ آئندہ جب بھی میں کسی پیڈ بلاگر کو پاکستان کی مہمان نوازی اور سیاحت کی تعریف کرتے ہوئے دیکھوں گی تو میں جواب میں اس تصویر کو شیئر کروں گی۔ صحافی و اینکر اجمل جامی نے تصوير کو شئیر کرتے ہوئے لکھا کہ ‘وہ اسے کیسے وصول کریں گے ۔۔۔ ہم ٓآپ سے معافی چاہتے ہیں۔’ صحافی و اینکرپرسن غریدہ فاروقی نے لکھا کہ ‘شرمناک ہو گا اگر پاکستان اس طرح سے پریانتھا کمارا کی میت کو اس کے اہل خانہ کے حوالے کر رہا ہے۔ اس بےچارے کی جان کی حفاظت نہیں کر سکے، عزت کی موت چھین لی، اب کم از کم میت کو تو احترام سے روانہ کر سکیں۔ کچھ تو انسانیت باقی رہنے دیں اس دھرتی کی۔‘ ٹوئٹر صارف عمران بیگ نے لکھا کہ ایک ریاست دوسری ریاست کو ایک میت بھیج رہی ہے۔ افسوس، تابوت کا معیار بھی ریاستی اداروں کے معیار کے عین مطابق ہے۔ تابوت بہترین پولش شدہ لکڑی کے، اور سیل بند ہوتے ہیں۔ چہرے کی جگہ پر شیشہ نصب ہوتا ہے۔ اوپر کمپیوٹرائزڈ لکھائی میں کوائف درج ہوتے ہیں۔
