11 کروڑ پاکستانیوں کی ذاتی معلومات ڈارک ویب پر فروخت کیلئے پیش

11 کروڑ 50 لاکھ پاکستانی موبائل صارفین کی ذاتی معلومات ڈارک ویب پر فروخت کیلئے پیش کرنے انکشاف ہوا ہے جس سے کئی لوگوں کے اے ٹی ایم کارڈز، بنک اکاونٹس، موبائل فون حتی کے کمپیوٹرز اور لیپ ٹاپس بھی غیر محفوظ ہو گئے ہیں۔ پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی کے ترجمان نے موبائل صارفین کے ڈیٹا کی آن لائن فروخت کی خبروں کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ تحقیقات کا آغاز کر دیا گیا ہے۔
یاد رہے کہ ایک نجی سائبر سکیورٹی کمپنی نے گذشتہ ہفتے یہ انکشاف کیا تھا کہ گیارہ کروڑ پچاس لاکھ پاکستانی موبائل فون صارفین کی چوری شدہ معلومات ڈارک ویب پر فروخت کے لیے پیش کی گئی ہیں۔ کمپنی کے مطابق ڈارک ویب پر موجود یہ معلومات 10اپریل 2020 کے روزاپ لوڈ کی گئیں اور ان کی ابتدائی بولی 300 بٹ کوائنز یا اکیس لاکھ امریکی ڈالر لگائی گئی ہے۔ مبینہ طور پر فروخت کے لیے پیش کی جانے والی چوری شدہ معلومات میں موبائل صارفین کے ناموں اور نمبروں کے علاوہ، ٹیکس نمبر، قومی شناختی کارڈ نمبر اور مکمل پتے بھی موجود ہیں۔ موبائل فون صارفین کی معلومات کی ڈارک ویب پر مبینہ فروخت کی پیشکش سے متعلق اطلاع دینے والی سائبر سکیورٹی کمپنی نے اپنی ویب سائٹ پر بیچنے والے کی جانب سے دئیے گئے کچھ سکرین شاٹس بھی لگائے ہیں۔ ان میں سے ایک سکرین شاٹ میں موبائل فون صارفین کی فہرست موجود ہے۔ جسے جگہ جگہ سے دھندلا کر کے دکھایا گیا ہے۔ چوری شدہ معلومات فروخت کے لیے پیش کرنے والے نے ڈارک ویب سائٹ پر لکھا ہے کہ مواد ابھی ابھی ہیک کیا گیا ہے اور اسے اپ ڈیٹ کیے جانے کا عمل بھی جاری ہے۔
اس حوالے سے پاکستان میں موبائل فون اور انٹرنیٹ کی دیکھ بھال کے ذمہ دار ادارے پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی یعنی پی ٓٹی اے نے دس کروڑ سے زیادہ پاکستانی موبائل فون صارفین کی معلومات کی مبینہ آن لائن فروخت سے متعلق چھان بین شروع کر دی ہے۔ پی ٹی اے کے ترجمان خرم علی مہران کے مطابق چوری شدہ معلومات کی چھان بین ابھی بالکل ابتدائی مراحل میں ہے جس میں اس دعوے کی سچائی کو جانچا جا رہا ہے۔ تاہم پی ٹی اے کے ترجمان خرم علی مہران کا کہنا تھا کہ ‘دیے گئے سکرین شاٹس سے ایسا معلوم ہو رہا ہے جیسے یہ موبائل فون نمبر کچھ برس پرانے ہیں کیونکہ اکثر نمبروں کے آگے 2014 کی تاریخ درج ہے۔ جس سے ان کی ایکٹیویشن کی تاریخ کا کسی حد تک اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔ خرم نے مزید کہا کہ ‘اگر یہ معلومات واقعی اتنی ہی پرانی ہیں تو اب تک ان میں کافی تبدیلی آچکی ہو گی۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ابھی موبائل کمپنیوں کو الرٹ نہیں کیا گیا، تصدیق کے بغیر ایسا کرنے سے موبائل صارفین میں خوف و ہراس پیدا ہو سکتا ہے۔
دوسری طرف سافٹ وئیر انجنئیر عباس حیدر کا کہنا ہے کہ ڈارک ویب پر اس طرح کی معلومات کا فروخت کے لیے پیش کیا جانا بالکل ممکن ہے۔ عباس حیدر کے خیال میں اگر یہ معلومات درست ہیں تو پھر یہ بہت ہی خطرناک بات ہے۔ انہوں نے وضاحت کرتے ہوئے بتایا: اگر کسی کے ہاتھ یہ ساری معلومات لگ گئیں اور اسے طریقہ آتا ہے تو ان تمام موبائل صارفین کے بنک اکاونٹ خالی کیے جا سکتے ہیں۔ان کے اے ٹی ایم، بنک اکاونٹ، موبائل فون اور حتی کے کمپیوٹر اور لیپ ٹاپ بھی غیر محفوظ ہو جائیں گے کیونکہ ان معلومات کو کئی طریقوں سے استعمال کیا جا سکتا ہے۔’
ڈارک ویب پر پیش کیے گئے ڈیٹا کے پرانے ہونے سے متعلق سوال پر انہوں نے کہا کہ سکرین شاٹس میں دکھائے گئے کچھ موبائل نمبر 2014 میں حاصل کیے گئے تھے۔تاہم ایسا صرف چند ایک نمبروں کے حوالے سے ہے۔ سب کے لیے نہیں۔ جبکہ 2014 میں لیے گئے موبائل فون نمبر کا ابھی تک استعمال میں ہونا کوئی غیر معمولی بات نہیں ہے۔ کئی صارفین ایک نمبر کئی برس تک استعمال کرتے ہیں۔ واضح رہے کہ ڈارک ویب انٹرنیٹ پر موجود کچھ ایسی ویب سائٹس ہیں جنھیں عام سرچ انجنز جیسے کہ گوگل وغیرہ پر تلاش نہیں کیا جا سکتا۔ ڈارک ویب میں شامل ویب ساٹس ایسے ہیکرز بناتے ہیں جو ہیکنگ کو غیر قانونی اور غیر اخلاقی مقاصد کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ڈارک ویب میں شامل ویب سائٹس تک رسائی حاصل کرنا کافی مشکل کام ہے۔ جبکہ ایسی ویب سائٹس بنانا بھی کوئی اتنا آسان کام نہیں ہوتا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button