سانحہ مری، اسسٹنٹ کمشنر سمیت 15 افسران معطل

وزیراعلیٰ پنجاب نے سانحہ مری کی تحقیقاتی رپورٹ کی روشنی میں 15 افسران کو معطل کر کے انضباطی کارروائی کا حکم دے دیا۔
سانحہ مری کی تحقیقاتی کمیٹی نے سردار عثمان بزدار کو رپورٹ پیش کر دی، جس میں انتظامیہ غلفت اور کوتاہیوں کی نشاندہی کی گئی، اس موقع پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے عثمان بزدار کا کہنا تھا کہ سانحہ مری پر 15 افسران کو معطل کر کے انضباطی کارروائی کا حکم دیا۔
کمشنر راولپنڈی کو عہدے سے ہٹانے کی سفارش بھی کی جبکہ اسسٹنٹ کمشنر مری کو عہدے سے ہٹایا گیا، وزیراعلیٰ نے کہا کہ قوم سے سانحہ مری کی شفاف تحقیقات کا وعدہ پورا کر دیا ہے، متعلقہ افسران کی غفلت کے باعث اتنا بڑا واقعہ پیش آیا۔
تحقیقاتی رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ متعلقہ محکموں کے افسران واٹس ایپ کے ذریعے ایک دوسرے کو صورت حال سے آگاہ کرتے رہے اور کوئی اقدامات نہیں کیے، افسران صورت حال کو سمجھ ہی نہیں سکے اور نہ ہی صورت حال کو سنجیدگی سے لیا۔
جسٹس فائزکی اہلیہ کا حکومتی وزرا کیخلاف کارروائی کیلئے نیب کو خط
کئی افسران نے واٹس ایپ میسجز بھی تاخیر سے دیکھے، سی سی پی او، سی ٹی او، کمشنر، ڈپٹی کمشنر اور اسسٹنٹ کمشنر نے غیر ذمہ داری کا مظاہرہ کیا جبکہ محکمہ جنگلات سمیت ریسکیو 1122 کے مقامی دفتر نے بھی کوئی اقدامات نہیں کیے۔
