کیا شہباز حکومت معاشی بحران کے ہاتھوں ڈوبنے والی ہے؟


ملک میں ڈالر کی تیزی سے بڑھتی ہوئی قیمت اور روپے کی مسلسل بے قدری کے پیش نظر اس خدشے کا اظہار کیا جا رہا ہے کہ شاید شہباز حکومت اس معاشی بحران کے ہاتھوں خاتمے کا شکار ہو جائے۔ عمران خان کی سابقہ حکومت نے آئی ایم ایف کے ساتھ جو معاہدے کیے تھے ان کی روشنی میں اب پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں بڑھانا ناگزیر ہوچکا ہے لیکن شہباز حکومت ایسا کرنے سے ابھی تک پرہیز کرتی نظر آتی ہے کیوں کہ اس سے مہنگائی کی ایک بڑی لہر آئے گی جس کے نتیجے میں سخت عوامی ردعمل آ سکتا ہے۔ چنانچہ لندن میں شہباز شریف اور دیگر حکومتی اکابرین کی نواز شریف سے ملاقاتوں کے باوجود ابھی تک پیٹرول کی قیمت بڑھانے یا حکومت چھوڑ کر الیکشن کروانے کے حوالے سے کوئی اعلان نہیں ہو پایا۔ وزیراعظم اتحادی جماعتوں کو اعتماد میں لے رہے ہیں۔ تاہم ابھی تک کسی حکومتی رہنما نے واضح طور پرنہیں بتایا کہ آیا لندن میں فوری انتخاب کا فیصلہ ہوا ہے یا موجودہ حکومت اپنی بقیہ ایک برس سے زائد مدت پوری کرے گی۔

اس حوالے سے حکومتی اتحادیوں کے بھی متضاد بیانات سامنے آئے جن سے بھی واضح ہو رہا ہے کہ ابھی تک اس معاملے پر کوئی حتمی فیصلہ سامنے نہیں آ سکا ہے۔ حکمراں اتحاد میں شامل اہم جماعت ایم کیو ایم نے جلد انتخابات پر آمادگی ظاہر کی ہے۔ ایم کیو ایم کے رہنما خالد مقبول صدیقی نے کہا کہ انتخابات کے ذریعے نیا مینڈیٹ لیا جائے تو مسائل حل ہو سکتے ہیں۔ صدیقی نے اس سے قبل وزیراعظم شہباز شریف سے ملاقات کی تھی۔ ایم کیو رہنما کا کہنا تھا کہ ایم کیو ایم پیٹرولیم کی قیمتوں میں اضافے کی مخالف ہے۔ انہوں نے کہا کہ فریش مینڈیٹ لیا جائے، دیر کی گئی تو بدنصیبی ہوگی۔خالد مقبول صدیقی کا کہنا تھا کہ مشکل حالات ہیں ہمیں ریاست کو دیکھنا ہے۔ سیاست کو نہیں۔ ریاست کو بچانے کی خاطر مشکل فیصلے لینے چاہئیں، سیاست کی قربانی دینا ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ آرمی چیف کی مدت ملازمت اور توسیع سے متعلق قانون سازی کر لینی چاہے تاکہ بحث ہی نہ ہو۔ ایک سوال پر ان کا کہنا تھا کہ پی ڈی ایم کے ساتھ معاہدوں پر عمل درآمد نہ ہوا تو اپوزیشن میں بیٹھنے کا آپشن کھلا ہے۔

دوسری جانب حکومتی اتحادی جماعت جمعیت علماء اسلام نے بھی فوری انتخابات کی تجویز پر رضامندی کا عندیہ دیا ہے۔جے یو آئی کے ترجمان اسلم غوری کا کہنا تھا کہ ان کی جماعت وہی فیصلہ کرے گی جس پر اتحادی رضامند ہوں گے، تاہم ان کی رائے ہے کہ انتخابی اصلاحات کے بغیر الیکشن کی وہی حیثیت ہو گی جو 2018 کے انتخابات کی تھی۔’ہم تو پہلے دن سے کہتے تھے کہ الیکشن کراؤ کیونکہ پہلے سے علم ہے کہ معاشی حالات بہت خراب ہیں کیونکہ سابق حکومت ملک کا بیڑا غرق کر کے گئی ہے۔‘ ان کا کہنا تھا کہ انتخابی اصلاحات 15 دن کا کام ہے۔ اگر حکومت چاہے تو جلدی الیکشن کروا سکتی ہے تاہم ان کی جماعت اتحادیوں کے مشترکہ فیصلے کا احترام کرے گی۔

دوسری جانب حکومت کی دوسری بڑی اتحادی جماعت پیپلز پارٹی نے واضح طور پر موقف اختیار کر رکھا ہے کہ مکمل انتخابی اور معاشی اصلاحات کرکے ہی الیکشن کی طرف جانا چاہیے۔اس حوالے سے پارٹی کے چیئرمین اور سابق صدر آصف زرداری ایک پریس کانفرنس میں کہہ چکے ہیں کہ جلد انتخابات کے حوالے سے فیصلہ پارلیمنٹ نے کرنا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس حوالے سے ان کی نواز شریف سے بات ہو چکی ہے۔ لیکن سب سے بڑی اتحادی جماعت مسلم لیگ ن میں فوری انتخابات یا اسمبلی کی مدت پوری کرنے کے حوالے سے بظاہر متضاد آرا سامنے آ رہی ہیں۔

مسلم لیگ ن سے تعلق رکھنے والے وزیرخزانہ مفتاح اسماعیل نے ایک پریس کانفرنس میں پیٹرول کی قیمت نہ بڑھانے کا اعلان کرکے عندیہ دیا کہ شاید حکومت جلد انتخابات کی طرف ہی جانا چاہتی ہے کیونکہ پیٹرول کی سبسڈی ختم کیے بغیر آئی ایم ایف کے ساتھ معاہدہ بحال نہیں ہو گا اور حکومت کی معاشی مشکلات برقرار رہیں گی۔ماہرین کے مطابق اگر حکومت مدت مکمل کرنا چاہتی ہے تو اسے ملک کو دیوالیہ ہونے سے بچانے کے لیے یقینا ًآئی ایم ایف کی شرائط مان کر پیٹرول کی قیمت بڑھانا ہو گی۔ وزیراعظم شہباز شریف نے ابھی تک فوری انتخابات یا مدت پوری کرنے کے حوالے سے کھل کر اپنی پوزیشن واضح نہیں کی۔ انہوں نے اس حوالے سے تمام اتحادی جماعتوں کا اجلاس بلانے کا فیصلہ کیا ہے جس میں حتمی فیصلہ سامنے آنے کی توقع ہے۔

Back to top button