شہبازحکومت کے لیے ایک طرف کھائی تو دوسری طرف کنواں

سیاسی اورمعاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ ملکی معیشت کو سیاست کی نذرکر دیا گیا ہےموجودہ حکومت کی اخلاقی کمزوری اس کو سخت معاشی فیصلے نہیں کرنے دے رہی ۔ عدم اعتماد کی تحریک کے ذریعے تحریک انصاف کی حکومت کو ہٹانے سے پہلے موجودہ حکومتی اتحاد کو معلوم تھا کہ معاشی حالات مشکل ہیں اور اس کے لیے سخت فیصلے لینے پڑیں گے اس لئے اب حکومت کے پاس ایسا کوئی جواز نہیں کہ وہ اس ساری صورتحال کا الزام سابقہ حکومت پر ڈالے ۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ حکومت کو اس وقت سب سے بڑا مسئلہ بیرونی ذرائع سے حاصل ہونے والی فنڈنگ کا ہے جو ابھی تک کسی ذریعے سے نہیں ملی۔ آئی ایم ایف نے پاکستان کے ساتھ قرضہ پروگرام کی بحالی کے لیے تیل و بجلی پر دی جانے والی سبسڈی کے خاتمے کی شرط رکھی ہے جب کہ سعودی عرب سے وزیر اعظم کے دورے کے باوجود کوئی فنڈنگ ابھی تک پاکستان کو نہیں ملی۔ پاکستان میں معیشت اور سیاست کے ماہرین اور تجزیہ کاروں کے مطابق حکومت سخت معاشی فیصلوں سے کترا رہی ہے جس کا مقصد عوام پر پڑنے والے بوجھ کی صورت میں عوامی غیض و غضب سے بچنا ہے تاہم ان کے مطابق اس کی وجہ سے ملک کو معاشی طور پر بے پناہ نقصان ہو رہا ہے۔موجودہ حکومت کو اقتدار منتقل ہوئے ایک ماہ سے زائد کا عرصہ ہو گیا ہے اور پہلے دن سے سب سے بڑا معاشی چیلنج تیل مصنوعات کی قیمتوں کا مسئلہ بنا ہوا ہے۔سابق وزیراعظم عمران خان نے 28 فروری 2022 کو ملک میں تیل و بجلی کی قیمتوں کو ایک خاص سطح پر منجمد کر دیا تھا اور ان کے اعلان کے مطابق اگلے مالی سال کے بجٹ تک تیل و بجلی کی قیمتیں اس خاص سطح تک برقرار رہیں گی۔
موجودہ حکومت کے برسراقتدار آنے کے بعد تیل کی قیمتوں پر نظرثانی کے تین مواقع پر قیمتوں کو تحریکِ انصاف کے دور کی سطح پر برقرار رکھنے کا فیصلہ ہوا تاہم اس فیصلے کی قیمت اربوں روپے کی سبسڈی کی صورت میں ادا کرنا پڑ رہی ہے۔ حکومتی اعداد و شمار کو دیکھا جائے تو مارچ کے مہینے میں 33 ارب سے زائد کی سبسڈی، اپریل میں 60 ارب اور مئی کے مہینے میں دی جانے والی سبسڈی کا تخمینہ 118 ارب لگایا گیا ہے۔
معاشی امور کے ماہر ڈاکٹر اشفاق تولہ نے کہا کہ اس وقت حکومت کو درپیش سب سے بڑا معاشی فیصلہ تیل کی قیمتوں کو بڑھانے کا ہے۔ انھوں نے کہا ’یہ فیصلہ (قیمتیں بڑھانے کا) لینا پڑے گا کیونکہ اس سے خسارہ بڑھ رہا ہے۔تولہ نے کہا حکومت اس سلسلے میں ڈائریکٹ سبسڈی دے اور اِن ڈائریکٹ سبسڈی کا سلسلہ بند کرے۔ انھوں نے اس کی وضاحت کرتے ہوئے بتایا کہ اگر تیل کی قیمتیں بڑھتی ہیں تو اس سے مہنگائی کی شرح میں اضافہ ہو گا تاہم اس کے لیے حکومت کاروباری اداروں کو اپنے ملازمین کی تنخواہوں میں اضافے کی صورت میں مداوا کر سکتی ہے انھوں نے کہا اسی طرح صوبوں خاص کر پنجاب اور سندھ سے این ایف سی ایوارڈ سے کم رقم لینے کا کہا جائے تاکہ اس خسارے کو کم کیاجا سکے۔ ماہر معیشت ڈاکٹر عالیہ نے بتایا کہ سخت فیصلے تو لینے ہوں گے لیکن لگتا ہے کہ یہ حکومت اس سلسلے میں غیر سنجیدہ ہے اور حالات کا سامنا کرنے سے کترا رہی ہے۔
ماہر معاشی امور ڈاکٹر حزیمہ بخاری نے اس سلسلے میں بتایا کہ سخت معاشی فیصلوں کا براہِ راست اثر عوام پر مہنگائی میں اضافے کی صورت میں پڑے گا۔ انھوں نے کہا کہ سخت فیصلے لینے سے مہنگائی کی شرح میں ایک سے دو فیصد اضافہ ہو سکتا ہے۔ ڈاکٹر حزیمہ نے کہا اصل مسئلہ پاکستان میں ادارہ جاتی اصلاحات کا ہے کہ جس کے بغیر معیشت نہیں سدھر سکتی۔نیئر صحافی اور تجزیہ کار مظہر عباس نے مخلوط حکومت کے مجوزہ سخت معاشی فیصلوں کے سیاسی اثرات پر بات کرتے ہوئے کہا کہ یہ ایک حقیقت ہے کہ ملکی معیشت کو سیاست کی نذر کر دیا گیا ہے اور کہیں خدا نخواستہ ملک دیوالیہ نہ ہو جائے۔
انھوں نے کہا اس وقت سب سے بڑا مسئلہ اخلاقی پوزیشن کا ہے۔ ’اگر حکومت سخت معاشی فیصلے کرتی ہے اور عوام سے قربانی دینے کا کہتی ہے تو عوام پوچھے گی کہ آپ کئی عشروں سے حکومت کر رہے ہیں اور آپ کی دولت میں اضافہ ہوا ہے جب کہ عوام کی حالت خراب ہوئی ہے۔انھوں نے دعویٰ کیا کہ حکومت کی یہی اخلاقی کمزوری اس کے معاشی فیصلوں میں رکاوٹ بن رہی ہے۔
مظہر عباس نے کہا کہ ان کی شروع دن سے رائے تھی کہ عمران خان کے خلاف عدم اعتماد تحریک کا عمران کو کم نقصان اور موجودہ حکومت میں شاملِ جماعتوں کو زیادہ ہو گا۔ تاہم ان جماعتوں کے بقول اگر عمران خان کو ایک سال مزید مل جاتا تو وہ ایسے قوانین پاس کروا لیتے جس میں وہ ان جماعتوں کے رہنماؤں کو جیل میں ڈال دیتے۔دوسری طرف وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل کا کہنا ہے کہ ’گزشتہ حکومت نے آئی ایم ایف سے معاہدہ کیا تھا کہ پٹرولیم مصنوعات پر سبسڈی ختم کی جائے گی۔‘
انھوں نے کہا کہ ’آئی ایم ایف سے اٹھارہ تاریخ کو قطر میں مذاکرات کا آغاز ہو رہا ہے۔ میں آئی ایم ایف سے بات کروں گا کہ کچھ بیچ کا راستہ نکالا جائے۔ ہم عوام پر بوجھ نہیں ڈالنا چاہتے۔‘ انھوں نے کہا کہ ’ہم جانتے ہیں کہ حالات کیا ہیں۔ ہم آئی ایم ایف سے مل کر معاملات خوش اسلوبی سے حل کریں گے۔‘ دوست ممالک سے امداد کے سوال پر انھوں نے جواب دیا تھا کسی نے منع نہیں کیا، بات چل رہی ہے، کچھ وقت لگتا ہے۔‘
مفتاح اسماعیل کے مطابق اگر تیل کی قیمتیں بڑھتی ہیں تو مہنگائی کی شرح میں دو سے تین فیصد اضافہ ہو سکتا ہے۔ انھوں نے وزیر اعظم شہباز شریف کو مشورہ دیا تھا کہ قیمتوں میں کچھ اضافہ کیا جائے لیکن انھوں نے انکار کر دیا۔ انھوں نے کہا کہ ’مستقبل میں اضافہ ہو سکتا ہے اگر بین الاقوامی منڈی میں قیمت کم نہیں ہوئی۔‘
