کیا عمران نے اسٹیبلشمنٹ اور عدلیہ کو دبا کر ساتھ ملا لیا ہے؟


سابق وزیراعظم عمران خان نے اقتدار سے نکلنے کے بعد اپنی دھمکی کے عین مطابق خود کو زیادہ خطرناک ثابت کرتے ہوئے جو اسٹیبلشمنٹ اور عدلیہ مخالف بیانیہ اپنایا تھا وہ بظایر کامیاب رہا ہے اور انہوں نے اسٹیبلشمنٹ اور عدلیہ دونوں کو اپنے ساتھ چلنے پر مجبور کر دیا ہے۔ سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اسی لیے ایک جانب اسٹیبلشمنٹ عمران کے فوری الیکشن کے مطالبے کی حمایت کر رہی ہے تو دوسری جانب عدلیہ نے سووموٹو نوٹس لیتے ہوئے کرہشن کیسز پر حکومت کی کھچائی شروع کر دی ہے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق عمران کی اقتدار سے چھٹی ان کے لیے ایک نعمت ثابت ہوئی ہے کیونکہ ان کی نا اہلی اور نالائقی کے نتیجے میں پاکستان جس سنگین معاشی بحران کا شکار ہو چکا ہے اس کی تمام تر ذمہ داری اب شہباز شریف حکومت پر پڑنے والی ہے۔ دوسری جانب عمران کی حکومت، فوج اور عدلیہ مخالف مہم کا دباؤ لیتے ہوئے یہ دونوں ادارے اب خود کو بیلنس ثابت کرنے کی کوشش میں مصروف ہیں اور ایسا کرنے کے لئے حکومت کا رگڑا نکال رہے ہیں۔ اس وقت ملک کو دو طرح کے شدید مسائل کا سامنا ہے، ایک سیاسی عدم استحکام اور دوسرا معاشی بحران۔ عمران کے خلاف تحریک عدم اعتماد کی کامیابی کے بعد اتحادی جماعتوں کی تشکیل پانے والی حکومت اور بعض سیاسی حلقوں کا خیال تھا کہ سیاسی معاملات ہموار طریقے سے آگے کی طرف بڑھیں گے، مگر ایسا ہوتا نظر نہیں آرہا ہے۔ کچھ سیاسی و سماجی حلقوں کے مطابق عمران کا یہ کہنا ’حکومت سے باہر آ کر زیادہ خطرناک ہو جاؤں گا‘، بظاہر درست ہوتا دکھائی دے رہا ہے اور اِن کے فوری انتخابات کے مطالبے کی بدولت سیاسی عدم استحکام پیدا ہوا ہے۔ سیاسی تجزیہ کار کہتے ہیں کہ فوری طور پر الیکشن کے انعقاد کا ایک مقصد موجودہ حکومت کو نئے آرمی چیف کا تقرر کرنے کا موقع نہ دینا بھی ہے۔

سیاسی عدم استحکام میں مزید شدت معاشی بحران نے پیدا کر دی ہے۔ اس وقت ڈالر اُونچی اُڑان میں ہے اور ڈالر کی قدر 200 روپے کو کراس کر چکی ہیں۔ اشیائے ضرورت کی قیمتوں میں بھی اضافہ دیکھا جا رہا ہے اور شہباز شریف کی حکومت سخت فیصلے لینے سے گھبرا رہی ہے۔ حالانکہ شہباز نے حکومت سنبھالتے ہی، لاہور میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے اس بات کا اظہارکیا تھا کہ ملک کو معاشی مشکلات کا سامنا ہے، اس کے لیے غیر معمولی فیصلے کرنا ہوں گے مگر شہباز شریف کی جانب سے اس طرح کے فیصلے تاحال نہیں ہوسکے ہیں۔
بعض تجزیہ نگاروں کا خیال ہے کہ موجودہ صورتِ حال میں سب سے زیادہ مشکلات کا سامنا مسلم لیگ ن کو ہے کیونکہ اسکا اسٹیک سب سے زیادہ ہے، اس لیے مسلم لیگ ن گھبراہٹ اور تذبذب کا شکار دکھائی دے رہی ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ فوجی اسٹیبلشمنٹ نے عمران خان کی مطالبے کی حمایت کرتے ہوئے شہباز حکومت سے 20 مئی تک الیکشن کی تاریخ کا اعلان کرنے کو کہا تھا لیکن اتحادیوں نے یہ مطالبہ مسترد کر دیا ہے۔ وجہ یہ ہے کہ اگر الیکشن جلدی ہو جاتے ہیں تو اتحادی حکومت میں شامل پیپلز پارٹی اور ایم کیو ایم و دیگر جماعتوں کو زیادہ خطرہ نہیں۔ پیپلز پارٹی سندھ میں اپنی پوزیشن برقرار رکھے گی اور اگر الیکشن شفاف ہوتے ہیں تو ایم کیو ایم بھی کراچی میں آٹھ نو سیٹیں نکال لے گی۔ تاہم اقتدار سے نکلنے کے بعد سے عمران نے جو عوامی رابطہ مہم چلائی ہے اس کا انھیں اچھا رسپانس مل رہا ہے جس سے اب نون لیگ خائف ہونا شروع ہو چکی ہے۔ بعض حلقوں کا خیال ہے کہ عمران کی حکومت کا جس انداز سے خاتمہ ہوا، اس سے عوام کے اندر ہمدردی کا عنصر پیدا ہوا اور عمران نے حکومت کے خاتمے کو اندرونی و بیرونی سازش قرار دے کر یہ آواز نیچے تک پہنچا دی، لہٰذا اگر اب جلد انتخابات ہوتے ہیں تو اس جماعت کو عوام کی تائید کی صورت سب سے زیادہ فائدہ ہوگا۔

ناقدین کا کہنا ہے کہ عمران جلد انتخابات کی صورت دوبارہ اپنی ’سلیکشن‘ چاہتے ہیں اور اسٹیبلشمنٹ پہلے ہی ان کے دباؤ میں آ چکی ہے۔ اس خدشے کا اظہار بلاول بھٹو بھی کر چکے ہیں۔ 15 مئی کو کراچی ایئرپورٹ پر استقبالی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے بلاول نے کہا تھا کہ سلیکٹڈ دوبارہ سلیکشن کے لیے فوری انتخابات چاہتا ہے۔

تحریکِ انصاف کے رہنما اسد عمر سے جب پوچھا گیا کہ تحریکِ انصاف فوری الیکشن محض اس لیے چاہتی ہے کہ اس کو عوام کی بھرپور تائید کا احساس ہوچکا ہے؟‘، تو اِن کا کہنا تھا کہ ’فوری انتخابات کے انعقاد کا ہمارا مطالبہ محض اس بنیاد پر نہیں کہ ہم جیت جائیں گے، بلکہ ہم فوری انتخابات اس لیے چاہتے ہیں کہ غیر جمہوری طریقے سے آئی حکومت کو تسلیم نہیں کرتے، اس لیے عوام میں جا کر عوامی فیصلہ چاہتے ہیں۔‘

جب اِن سے یہ پوچھا گیا کہ سیاسی جماعتیں موجودہ معاشی بحران کا حل نکالے بغیر اگلے انتخابات کی طرف بڑھتی ہیں تو معاشی بحران دوچند نہیں ہوجائے گا؟‘ تو تحریکِ انصاف کے رہنما کا کہنا تھا کہ اس وقت ساری فیصلہ سازی منجمد ہے اور حکومت سے پیٹرول کی قیمت کا فیصلہ تک نہیں ہو رہا۔ ’لہٰذا ہمارا خیال ہے کہ نگران حکومت، موجودہ غیر جمہوری حکومت سے زیادہ بہتر فیصلے کرسکے گی۔‘

سیاسی تجزیہ نگار ڈاکٹر رسول بخش رئیس کہتے ہیں ’اگر فوری انتخابات ہوتے ہیں تو تحریکِ انصاف بڑا معرکہ مار سکتی ہے اور میرا خیال ہے کہ دو تہائی اکثریت سے بھی زیادہ جیت کو ممکن بنا سکتی ہے۔‘ مسلم لیگ ن معاشی فیصلوں اور انتخابات کے مناسب وقت کے بیچ میں کہیں پھنسی ہوئی دکھائی دے رہی ہے۔ناگر یہ کچھ معاشی فیصلے ایسے کرتی ہے، جس سے عوام کی معیشت پر بُرے اثرات مرتب ہوتے ہیں تو سابق حکومت کی معاشی بدحالی کا ملبہ اِن کے اُوپر آجائے گا۔ یہی احساس پیٹرول کی قیمتیں بڑھانے سے تذبذب کا شکار کیے ہوئے ہے۔ ایسے ناگوار فیصلوں سے محفوظ رہنے کا ایک ہی طریقہ ہے کہ فوری انتخابات کی طرف بڑھا جائے، مگر اس ضمن میں بھی مسلم لیگ ن متذبذب ہے۔

گذشتہ دِنوں جب خواجہ آصف نے اپنے ایک انٹرویو میں یہ کہا تھا ’ممکن ہے کہ نئے آرمی چیف کی تعیناتی سے قبل ہی انتخابات کرا دیں‘ تو آصف زرداری نے پریس کانفرنس میں واضح طور پر کہا تھا ’میاں صاحب کو سمجھا دیا ہے کہ انتخابی اصلاحات کے بعد الیکشن میں جائیں گے۔‘ انتخابات کا انعقاد کب ہونا چاہیے،اس ضمن میں مسلم لیگ ن جماعتی سطح پر تقسیم کا شکار دکھائی دیتی ہے۔ شہباز شریف کے تاثر سے لگتا ہے کہ وہ معاشی سطح پر قدرے استحکام لا کر سال بھر بعد عوام کو یہ احساس دلانے میں کامیاب ہوجائیں گے کہ اِنکی حکومت نے آکر ملک کو معاشی بدحالی سے نکال دیا ہے، اس احساس کے ساتھ جب یہ الیکشن میں اُتریں گے تو عوامی سطح پر اِن کی جماعت کو پذیرائی ملے گی۔
جبکہ بعض مسلم لیگ ن کے رہنماؤں کا خیال ہے کہ جلد الیکشن کی طرف جانا چاہیے اور گذشتہ حکومت کا ملبہ اپنے سَر نہیں لینا چاہیے۔

تاہم پیپلز پارٹی، مسلم لیگ ن کی نسبت اپنے سیاسی مؤقف کے اظہار میں کسی نوع کے تذبذب سے پاک دکھائی دیتی ہے۔ نئے انتخابات کے انعقاد کے ضمن میں پیپلز پارٹی چاہتی ہے کہ پہلے اصلاحاتی عمل کو مکمل کیا جائے، اور بعد میں الیکشن کی جانب جایا جائے۔

Back to top button