سائفر چیف جسٹس کے پاس ریکارڈ میں موجود ہے

تحریک انصاف کے رہنما وسابق وفاقی وزیر فواد چوہدری نے کہا ہے کہ سائفر غائب نہیں ہوا بلکہ چیف جسٹس پاکستان کے پاس ریکارڈ میں موجود ہے۔
وفاقی دارالحکومت میں میڈیا سےغیر رسمی گفتگو میں فواد چوہدری کا کہنا تھا کہ مریم نواز ہمیشہ احمقانہ باتیں کردیتی ہیں اور جب اس پر ردعمل آتا ہے تو وہ بھاگ جاتی ہیں، مجھے امید ہے کہ آڈیو لیکس والے معاملے پر یہ لوگ نہیں بھاگیں گے، بلکہ اس کی مکمل تحقیقات ہوں گی، یہ لیکس سپریم کورٹ پہنچ گئی ہیں اب اس پر بھی عدالت کو میمو گیٹ کی طرح ایک کمیشن بنانا چاہئے۔
انکا کہنا تھا یہ ایک خوفناک بات ہے کہ پاکستان کے وزیراعظم کا دفتر محفوظ نہیں ہے، اس کا مطلب یہ ہے کہ پاکستان بھی محفوظ نہیں ہے، اور سپریم کورٹ اس معاملے کو ہلکا نہیں لے سکتی، ایسا نہیں ہوسکتا کہ معاملہ کسی جج کا ہو تو تحقیقات ہوں گی، بلکہ یہ ایک حساس معاملہ ہے جس پر سپریم کورٹ کو تحقیقات کرنی چاہئے۔
فواد چوہدری کا سائفر کے غائب ہونے کے حوالے سے بات کرتے ہوئے کہنا تھا کہ سائفر غائب نہیں ہوا، ہماری آخری کیبنٹ مینٹگ کے بعد وزیراعظم آفس والی سائفر کی کاپی اسپیکر کو بھجوائی گئی تھی اور اسپیکر نے وہ سائفر چیف جسٹس آف پاکستان کو بھیج دیا تھا۔
سابق وفاقی وزیر نے کہا ہماری کاپی چیف جسٹس پاکستان کے پاس ریکارڈ میں پڑی ہوئی ہے، ہمارا مطالبہ ہے کہ سائفر پرسپریم کورٹ کے زیر اہتمام کمیشن بنے اور عدالت عظمیٰ اس کی تحقیقات کرے، اس سے حکومت کیوں ڈر رہی ہے، ہماری تمام میٹنگز اب لانگ مارچ کے لئے ہورہی ہیں، سائفر اور آڈیو لیکس کے معاملے شرلیاں اور پٹاخے ہیں جو چلتے رہیں گے۔
پی ٹی آئی رہنما قوم لانگ مارچ کے لئے تیار ہو، اسی میں پاکستان کی حقیقی آزادی ہے، اگر عوام غلام حکومت کی غلام بن کر رہنا چاہتی ہے تو الگ بات ہے، اور اگر ایک آذاد مملکت چاہئے جس میں عوام کی حکمرانی ہوتو لانگ مارچ کی تیاری کریں۔
