2پوسٹ مارٹم اور قبر کشائی، میر رضا کیس کے حل میں اصل رکاوٹ کیا؟

میر رضا کیس میں پہلے اور دوسرے پوسٹ مارٹم کے بعد بھی کئی ایسے اہم سوالات موجود ہیں جن کے واضح جوابات تاحال سامنے نہیں آسکے۔ فارنزک ماہرین کے مطابق اس کیس میں میڈیکو لیگل آفس، پولیس سرجن اور پہلے پوسٹ مارٹم کی رپورٹ سے متعلق متعدد پہلوؤں کی مزید وضاحت ضروری ہے، کیونکہ معمولی نظر آنے والی تکنیکی خامیاں بھی کسی حساس قتل کیس کی تفتیش اور عدالتی کارروائی پر گہرے اثرات مرتب کرسکتی ہیں۔
معلومات کے مطابق پولیس سرجن ڈاکٹر سمعیہ سید کے ابتدائی اعتراضات پہلے پوسٹ مارٹم کی رپورٹ اور دستیاب تصاویر کی بنیاد پر سامنے آئے تھے، جبکہ پہلے پوسٹ مارٹم کے وقت انہوں نے لاش کا ذاتی طور پر معائنہ نہیں کیا تھا۔ بعد میں انہوں نے قبر کشائی کے لیے تشکیل دیے گئے آٹھ رکنی میڈیکل بورڈ کی سربراہی کی۔ یہاں بنیادی سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ڈاکٹر سمعیہ کو پہلے پوسٹ مارٹم کی رپورٹ کے مندرجات کا علم کب ہوا اور انہوں نے پہلی مرتبہ کب یہ رائے قائم کی کہ پوسٹ مارٹم کے معائنے یا اس کی دستاویزات میں خامیاں موجود ہیں؟
فارنزک ماہرین کے مطابق ایک اہم سوال یہ بھی ہے کہ تحریری اعتراضات ریکارڈ کرنے سے پہلے کیا پولیس سرجن نے پہلے پوسٹ مارٹم کرنے والے ڈاکٹر اسامہ شیخ سے رابطہ کرکے رپورٹ میں موجود مبینہ تضادات یا خامیوں کی وضاحت طلب کی تھی۔ اگر ایسا کیا گیا تو ڈاکٹر اسامہ کی جانب سے کیا وضاحت پیش کی گئی؟ یہ پہلو اس لیے اہم ہے کہ کسی طبی یا فارنزک رپورٹ میں کسی کمی کو حتمی اعتراض قرار دینے سے قبل متعلقہ ڈاکٹر کو وضاحت کا موقع دیا جانا معاملے کی مکمل تصویر سامنے لانے میں مدد دے سکتا ہے۔
ڈاکٹر سمعیہ اور ڈاکٹر اسامہ شیخ 29 جولائی، یعنی پہلے پوسٹ مارٹم کے روز سے ایک دوسرے سے رابطے میں تھے۔ اس تناظر میں یہ سوال بھی اہم ہے کہ 29 جولائی سے پوسٹ مارٹم رپورٹ جمع ہونے تک کیا ڈاکٹر سمعیہ نے کسی مرحلے پر ڈاکٹر اسامہ کو بتایا تھا کہ وہ رپورٹ کے کسی نتیجے، تشریح، الفاظ کے انتخاب، کمی یا ممکنہ غلطی سے مطمئن نہیں ہیں۔ اگر اس دوران کوئی اعتراض سامنے آیا تھا تو اس کا ریکارڈ کیا تھا اور اسے کس انداز میں حل کیا گیا؟
ڈاکٹر اسامہ شیخ کے مطابق پوسٹ مارٹم رپورٹ ان کے اور ڈاکٹر سمعیہ کے پاس رہی اور اسے کسی تیسرے شخص کے حوالے نہیں کیا گیا۔ ڈاکٹر اسامہ نے یہ بھی کہا کہ انہوں نے مکمل پوسٹ مارٹم رپورٹ متعلقہ پولیس افسران کو نہیں بھیجی تھی۔ اس بیان کے بعد ایک اور اہم سوال سامنے آتا ہے کہ کیا ڈاکٹر سمعیہ نے کسی مرحلے پر یہ رپورٹ پولیس کو منتقل کی، اسے آگے بھیجا یا پولیس تک پہنچانے میں کوئی کردار ادا کیا؟ اگر رپورٹ براہِ راست پولیس کو منتقل نہیں کی گئی تو پھر یہ دستاویز بالآخر پولیس تک کب، کس کے ذریعے اور کس سرکاری طریقہ کار کے تحت پہنچی؟
کیس میں پوسٹ مارٹم کے ایک اہم طبی نکتے پر بھی سوالات اٹھ رہے ہیں۔ پہلے پوسٹ مارٹم میں سینے کے زخم کو داخل ہونے کا زخم قرار دیا گیا، جبکہ دوسرے پوسٹ مارٹم میں اسی زخم کو خارج ہونے کا زخم قرار دیے جانے کی بات سامنے آئی۔ اگر یہ تفریق درست طور پر رپورٹ ہوئی ہے تو اس کی وجہ واضح کرنا انتہائی اہم ہے، کیونکہ گولی کے داخلے اور اخراج کے زخم کی درست شناخت فائرنگ کی سمت، فاصلے اور واقعے کی ممکنہ ترتیب سمجھنے میں اہم کردار ادا کرسکتی ہے۔
قبر کشائی کے دوران پچھلے زخم کے نیچے چھٹی پسلی کے فریکچر کی فارنزک تصدیق بھی ایک اہم پیش رفت کے طور پر سامنے آئی ہے۔ تاہم اس کے ساتھ یہ سوال بھی اٹھایا گیا ہے کہ تقریباً بارہ روز تک دفن رہنے والی لاش کے ہاتھوں سے جی ایس آر یعنی گن شاٹ ریزیڈیو کے نمونے حاصل کرنے کا فارنزک اعتبار سے کتنا فائدہ ہوسکتا تھا۔ دفن شدہ لاش سے حاصل کیے گئے ایسے نمونوں کی سائنسی افادیت اور قابلِ اعتماد ہونے کے حوالے سے ماہرین کی رائے اس کیس کی تفتیش میں اہمیت رکھتی ہے۔
ایک اور حساس سوال یہ ہے کہ اگر پولیس سرجن کو پہلے پوسٹ مارٹم کی رپورٹ یا اس میں موجود کسی خامی پر اعتراض تھا تو کیا ان اعتراضات کو پہلے متعلقہ میڈیکو لیگل نظام کے اندر اٹھا کر رپورٹ کی اصلاح، وضاحت یا تکمیل کی کوشش کی گئی؟ ماہرین کے مطابق کسی بھی طبی یا فارنزک اختلاف کو ادارہ جاتی طریقہ کار کے تحت حل کرنا زیادہ مناسب سمجھا جاتا ہے، خصوصاً ایسے کیس میں جہاں پوسٹ مارٹم رپورٹ براہِ راست تفتیش اور عدالت میں پیش ہونے والے شواہد سے جڑی ہو۔
یہ سوال بھی اپنی جگہ موجود ہے کہ اگر پولیس سرجن پہلے پوسٹ مارٹم کے نتائج سے مطمئن نہیں تھیں تو پھر رپورٹ کو باقاعدہ درست، مکمل یا واضح کیے بغیر میڈیکو لیگل نظام کے تحت آگے بڑھنے کی اجازت کیوں دی گئی؟ اسی طرح اگر رپورٹ میں کسی اہم تکنیکی خامی کی نشاندہی بعد میں ہوئی تو اس کی بروقت اصلاح کیوں نہ ہوسکی؟ ان سوالات کے جوابات نہ صرف میر رضا کیس کی تفتیش بلکہ پورے میڈیکو لیگل نظام کے طریقہ کار کو سمجھنے کے لیے اہم ہیں۔
معلومات کے مطابق ڈاکٹر سمعیہ نے پیر 3 اگست کو ڈاکٹر اسامہ شیخ سے پوسٹ مارٹم رپورٹ میں اصلاحات کے حوالے سے رابطہ بھی کیا تھا۔ اس رابطے کی نوعیت کیا تھی، رپورٹ میں کن نکات پر اصلاح کی ضرورت محسوس کی گئی اور اس کے بعد کیا پیش رفت ہوئی، یہ تمام تفصیلات کیس کی مکمل تصویر سامنے لانے میں اہم کردار ادا کرسکتی ہیں۔
میر رضا کیس میں اصل ضرورت کسی ایک فریق کو فوری طور پر درست یا غلط قرار دینے کے بجائے تمام طبی، فارنزک اور انتظامی مراحل کی شفاف جانچ کی ہے۔ پہلے پوسٹ مارٹم سے لے کر قبر کشائی، دوسرے پوسٹ مارٹم، زخموں کی تشریح، جی ایس آر نمونوں اور رپورٹ کی ترسیل تک ہر مرحلے کا ریکارڈ سامنے آنا چاہیے تاکہ یہ واضح ہوسکے کہ اختلاف کہاں پیدا ہوا، کس مرحلے پر پیدا ہوا اور اس کی وجہ کیا تھی۔
کیس کی حساسیت اس بات کی متقاضی ہے کہ ہر سوال کا جواب شواہد، فارنزک اصولوں اور دستاویزی ریکارڈ کی بنیاد پر دیا جائے۔ جب تک پہلے اور دوسرے پوسٹ مارٹم کے درمیان موجود مبینہ تضادات، پولیس سرجن کے اعتراضات اور میڈیکو لیگل طریقہ کار سے متعلق سوالات واضح نہیں ہوتے، میر رضا کیس کے کئی اہم پہلو بدستور تشنۂ جواب رہیں گے۔
