9/11 کے 25 سال بعد افغانستان میں القاعدہ پھر سرگرم،تربیتی کیمپ بھی بنا لئے

نائن الیون کے 25 برس مکمل ہونے پر افغانستان ایک مرتبہ پھر عالمی توجہ کا مرکز بن گیا ہے۔ امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ کی ایک حالیہ تحقیقی رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ 2021 میں افغانستان سے امریکی افواج کے انخلا اور طالبان کی دوبارہ اقتدار میں واپسی کے بعد القاعدہ اور اس سے وابستہ گروہوں نے ملک میں اپنی پہلے سے معطل سرگرمیوں اور تنظیمی ڈھانچے کو بتدریج دوبارہ منظم کرنا شروع کردیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق آج کی القاعدہ 2001 والی تنظیم نہیں، اس کی طاقت اور عالمی سطح پر کارروائی کی صلاحیت ماضی کے مقابلے میں کہیں کم ہے، تاہم افغانستان میں پیدا ہونے والے حالات اسے دوبارہ قدم جمانے کے لیے ایک نسبتاً سازگار ماحول فراہم کررہے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق گزشتہ تین برسوں کے دوران افغانستان میں القاعدہ اور اس سے منسلک گروہوں کی جانب سے کم از کم آٹھ نئے تربیتی مراکز قائم کیے جانے کا دعویٰ سامنے آیا ہے۔ یہ مراکز مبینہ طور پر کسی فوری بڑے بین الاقوامی حملے کی تیاری کے بجائے جنگجوؤں کی تربیت، نئی بھرتیوں اور مستقبل کے لیے تنظیمی صلاحیت برقرار رکھنے کے لیے استعمال ہورہے ہیں۔ تجربہ کار عسکریت پسند نئی نسل کے جنگجوؤں کو تربیت دے کر انہیں مستقبل کے کمانڈرز اور آپریٹو کے طور پر تیار کررہے ہیں، جو طویل مدت میں خطے کے لیے ایک نیا سکیورٹی چیلنج بن سکتا ہے۔
افغان طالبان کی جانب سے مسلسل یہ مؤقف اختیار کیا جاتا ہے کہ ان کی سرزمین کسی دوسرے ملک کے خلاف دہشت گردی کے لیے استعمال نہیں ہونے دی جائے گی، لیکن واشنگٹن پوسٹ کی رپورٹ کے مطابق زمینی صورتحال اس سے کہیں زیادہ پیچیدہ دکھائی دیتی ہے۔ طالبان نے افغانستان میں مجموعی طور پر تشدد اور بدامنی میں کمی ضرور لائی ہے، لیکن امریکی اور مغربی انٹیلی جنس اداروں کی بڑی تعداد کے انخلا کے بعد افغانستان میں عسکریت پسند گروہوں کی سرگرمیوں پر نظر رکھنا پہلے کے مقابلے میں انتہائی مشکل ہوگیا ہے۔ یہی انٹیلی جنس خلا اس بات کا تعین بھی مشکل بنا رہا ہے کہ کون سے گروہ کہاں موجود ہیں، ان کی تعداد کتنی ہے اور ان کی سرگرمیوں کا اصل دائرہ کیا ہے۔
آج کی القاعدہ اس تنظیم سے خاصی مختلف ہے جو اسامہ بن لادن اور بعد ازاں ایمن الظواہری کی قیادت میں عالمی سطح پر سرگرم تھی۔ اسامہ بن لادن کی ہلاکت کے بعد ایمن الظواہری بھی 2022 میں کابل میں امریکی ڈرون حملے میں مارے گئے۔ ان اہم قیادتوں کے خاتمے کے بعد القاعدہ کی بین الاقوامی آپریشنل صلاحیت کو شدید نقصان پہنچا، تاہم تنظیم مکمل طور پر ختم نہیں ہوئی۔ اس کے پاس اب بھی تجربہ کار جنگجو، نظریاتی اثر و رسوخ، علاقائی روابط اور طویل عرصے میں حاصل کیا گیا تنظیمی تجربہ موجود ہے۔
ماہرین کے مطابق کسی عسکریت پسند تنظیم کے لیے صرف تعداد ہی خطرے کا پیمانہ نہیں ہوتی۔ اگر کسی نسبتاً چھوٹے گروہ کو محفوظ پناہ گاہ، تربیت کا بنیادی ڈھانچہ، مالی و تنظیمی روابط اور دیگر عسکریت پسند گروہوں کے ساتھ تعاون میسر ہو تو وہ اپنی تعداد سے کہیں زیادہ بڑا خطرہ پیدا کرسکتا ہے۔ یہی وہ پہلو ہے جس کی وجہ سے افغانستان میں القاعدہ کی مبینہ سرگرمیوں پر دوبارہ تشویش پیدا ہورہی ہے۔
طالبان اور القاعدہ کے تعلقات بھی اس پورے معاملے کا سب سے حساس پہلو ہیں۔ 2001 میں نائن الیون کے حملوں کے بعد طالبان کی حکومت کا خاتمہ ہوا اور افغانستان میں دو دہائیوں تک جنگ جاری رہی۔ طالبان کے لیے یہ تجربہ اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ افغان سرزمین سے ہونے والا کوئی بڑا بین الاقوامی دہشت گرد حملہ ان کے اپنے اقتدار کے لیے بھی تباہ کن نتائج لا سکتا ہے۔ اس کے باوجود طالبان اور القاعدہ کے درمیان کئی دہائیوں پر محیط نظریاتی، شخصی اور تاریخی روابط موجود رہے ہیں۔ اسی لیے اصل سوال یہ نہیں کہ طالبان القاعدہ کو کھلے عام کسی بڑے حملے کی اجازت دیتے ہیں یا نہیں، بلکہ یہ ہے کہ ان کی پالیسی، نگرانی اور کارروائی کی سطح القاعدہ کے لیے کس حد تک جگہ پیدا کرتی ہے۔
اس صورتحال کا سب سے براہِ راست اثر پاکستان پر پڑنے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔ رپورٹ کے مطابق القاعدہ نے تحریک طالبان پاکستان کے ساتھ اپنے نظریاتی اور عملی روابط برقرار رکھے ہیں۔ اگر افغانستان میں القاعدہ کو محفوظ ماحول اور ٹی ٹی پی کو پاکستانی حدود کے خلاف کارروائیوں کے لیے سہولت میسر رہتی ہے تو یہ صورتحال خطے میں ایک پیچیدہ سکیورٹی چیلنج پیدا کرسکتی ہے۔ افغان طالبان، القاعدہ اور ٹی ٹی پی کے باہمی روابط اسی لیے پاکستان کے لیے خصوصی تشویش کا باعث بن سکتے ہیں، کیونکہ افغانستان میں موجود عسکریت پسند سرگرمیوں کے اثرات براہ راست پاکستان کی داخلی سلامتی تک پہنچ سکتے ہیں۔
دوسری جانب داعش خراسان کا معاملہ طالبان اور القاعدہ کے تعلقات سے مختلف ہے۔ طالبان اور داعش خراسان ایک دوسرے کے سخت مخالف ہیں اور افغانستان میں دونوں کے درمیان مسلسل کشیدگی اور مسلح کارروائیوں کا سلسلہ جاری رہا ہے۔ طالبان نے داعش کے خلاف متعدد کارروائیاں بھی کی ہیں۔ تاہم ماہرین کے مطابق داعش کے خلاف طالبان کی کارروائیوں کو اس بات کا ثبوت نہیں سمجھا جاسکتا کہ افغانستان سے ہر قسم کی عسکریت پسندی کا خاتمہ ہوچکا ہے۔ ایک شدت پسند گروہ کے خلاف کارروائی اور دوسرے گروہ کے لیے نسبتاً نرم ماحول کا برقرار رہنا دو مختلف معاملات ہوسکتے ہیں۔
واشنگٹن پوسٹ کی رپورٹ میں مغربی انٹیلی جنس کے موجودہ خلا کو بھی ایک اہم مسئلے کے طور پر پیش کیا گیا ہے۔ 2021 سے پہلے امریکہ اور اس کے اتحادی افغانستان میں وسیع زمینی، فضائی اور انٹیلی جنس نگرانی کی صلاحیت رکھتے تھے، لیکن امریکی انخلا کے بعد یہ نظام بڑی حد تک ختم ہوگیا۔ نتیجتاً مغربی حکومتوں کے لیے یہ جاننا زیادہ مشکل ہوگیا ہے کہ عسکریت پسند رہنما کہاں موجود ہیں، مختلف گروہوں میں کتنے جنگجو ہیں، کون کس کو تربیت دے رہا ہے اور کیا بیرون ملک سے نئے جنگجو افغانستان پہنچ رہے ہیں۔
یہ صورتحال نائن الیون کے بعد امریکی پالیسی کے بنیادی مقصد کے حوالے سے بھی ایک بڑا سوال اٹھاتی ہے۔ امریکہ اور اس کے اتحادیوں کی دو دہائیوں پر محیط جنگ کا ایک بنیادی مقصد افغانستان کو عالمی دہشت گرد تنظیموں کے لیے محفوظ پناہ گاہ بننے سے روکنا تھا۔ اب اگر واقعی افغانستان میں القاعدہ کے تربیتی مراکز دوبارہ قائم ہورہے ہیں اور عسکریت پسند تنظیمیں اپنی سرگرمیوں کو منظم کررہی ہیں تو یہ اس پالیسی کے لیے ایک اہم سٹریٹجک سوال بن جاتا ہے۔
تاہم موجودہ القاعدہ کو 2001 کی القاعدہ سمجھنا بھی درست نہیں ہوگا۔ آج تنظیم کے پاس نہ وہ وسیع عالمی نیٹ ورک ہے، نہ وہ مالی وسائل اور نہ ہی وہ مرکزی کمانڈ اسٹرکچر جو نائن الیون سے پہلے موجود تھا۔ اصل خطرہ شاید اس کی فوری حملہ کرنے کی صلاحیت سے زیادہ اس ماحول میں پوشیدہ ہے جس میں ایک کمزور مگر تجربہ کار تنظیم خاموشی سے اپنی افرادی قوت، تربیتی صلاحیت اور علاقائی روابط دوبارہ استوار کرسکتی ہے۔
نائن الیون کے 25 برس بعد افغانستان میں سامنے آنے والی یہ صورتحال ایک بار پھر یہ سوال اٹھا رہی ہے کہ کیا عسکریت پسند تنظیموں کے خلاف جنگ صرف بڑے فوجی آپریشنز سے جیتی جاسکتی ہے یا اس کے لیے مسلسل انٹیلی جنس، سرحدی نگرانی، سیاسی دباؤ اور علاقائی تعاون بھی ضروری ہے۔ اگر افغانستان میں القاعدہ واقعی دوبارہ منظم ہورہی ہے تو اس کے اثرات صرف افغانستان تک محدود رہنے کا امکان نہیں، بلکہ پاکستان سمیت پورا خطہ اس کے ممکنہ نتائج سے متاثر ہوسکتا ہے۔ آنے والے برسوں میں اصل امتحان یہی ہوگا کہ افغانستان ایک مرتبہ پھر عالمی عسکریت پسند نیٹ ورکس کے لیے خاموش پناہ گاہ بنتا ہے یا افغان طالبان اپنے وعدوں کے مطابق اپنی سرزمین کو کسی بھی ملک کے خلاف دہشت گردی کے لیے استعمال ہونے سے مؤثر طور پر روک پاتے ہیں۔
