اے آئی فلٹر کا ایک کلک آپ کو کتنا بڑا نقصان پہنچا سکتا ہے؟

سوشل میڈیا پر چند لمحوں میں پرانی یادوں، مختلف زمانوں یا خاص طور پر 1980 کی دہائی کے انداز میں اپنی تصاویر تبدیل کرنے کا مصنوعی ذہانت پر مبنی رجحان تیزی سے مقبول ہوا ہے۔ لاکھوں افراد تفریح اور تجسس کے لیے اپنی تصاویر مختلف اے آئی ایپس اور پلیٹ فارمز پر اپلوڈ کر رہے ہیں، لیکن بظاہر معمولی دکھائی دینے والے اس رجحان نے صارفین کی پرائیویسی اور بایومیٹرک ڈیٹا کے تحفظ کے حوالے سے ایک انتہائی اہم سوال کھڑا کردیا ہے: کیا چند سیکنڈ کی تفریح کے لیے اپنی ایسی شناختی معلومات کسی نامعلوم ڈیجیٹل پلیٹ فارم کے حوالے کرنا محفوظ ہے جو زندگی بھر ہمارے ساتھ رہتی ہیں؟
ماہرین کے مطابق اے آئی پر تصویر تبدیل کرنے کا عمل محض ایک عام فوٹو فلٹر لگانے تک محدود نہیں ہوتا۔ جدید مصنوعی ذہانت کے نظام تصویر میں موجود چہرے کی ساخت، آنکھوں کے درمیان فاصلے، ناک، ہونٹوں، جبڑے اور چہرے کی دوسری منفرد خصوصیات کا تجزیہ کرسکتے ہیں۔ یہی خصوصیات کسی فرد کی بایومیٹرک شناخت کا حصہ بن سکتی ہیں، اس لیے تصویر کسی ایسے پلیٹ فارم پر اپلوڈ کرتے وقت صارف کو یہ سمجھنا ضروری ہے کہ وہ صرف ایک تصویر شیئر نہیں کررہا بلکہ ممکنہ طور پر اپنے چہرے سے متعلق انتہائی حساس معلومات بھی فراہم کررہا ہے۔
اس معاملے کی سنگینی اس لیے بھی زیادہ ہے کہ پاس ورڈ تبدیل کیا جاسکتا ہے، موبائل نمبر تبدیل کیا جاسکتا ہے اور حتیٰ کہ ای میل اکاؤنٹ بھی تبدیل کیا جاسکتا ہے، لیکن چہرہ تبدیل کرنا ممکن نہیں۔ اگر کسی شخص کا بایومیٹرک ڈیٹا کسی غیر محفوظ نظام سے لیک ہوجائے یا غلط ہاتھوں میں پہنچ جائے تو اسے روایتی پاس ورڈ کی طرح واپس لے کر نیا بنانا ممکن نہیں ہوتا۔ یہی مستقل نوعیت بایومیٹرک معلومات کو عام ذاتی ڈیٹا کے مقابلے میں کہیں زیادہ حساس بناتی ہے۔
رپورٹس اور ماہرین کی تشویش کے مطابق صارف کی جانب سے اپلوڈ کی جانے والی تصاویر کے بارے میں یہ سوال اہم ہے کہ وہ کہاں محفوظ ہوتی ہیں، کتنے عرصے تک رکھی جاتی ہیں، کون ان تک رسائی حاصل کرسکتا ہے اور آیا انہیں کسی دوسرے مقصد کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ بعض پلیٹ فارمز کی شرائط میں صارف کے اپلوڈ کردہ مواد کو سروس بہتر بنانے یا مصنوعی ذہانت کے ماڈلز کی تربیت کے لیے استعمال کرنے کی اجازت شامل ہوسکتی ہے۔ اس لیے کسی بھی اے آئی ایپ کو تصویر دینے سے پہلے اس کی رازداری کی پالیسی پڑھنا انتہائی ضروری ہے۔
ایک اور تشویش یہ ہے کہ اگر تصاویر یا چہرے سے متعلق معلومات تیسرے فریق تک پہنچ جائیں تو ان کے استعمال کی نوعیت صارف کے اختیار سے باہر ہوسکتی ہے۔ ماہرین نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ حساس تصاویر یا بایومیٹرک معلومات مستقبل میں مصنوعی ذہانت کے ماڈلز کی تربیت، تجارتی مقاصد، ڈیٹا بروکرز، جعلی ویڈیوز اور ڈیپ فیک مواد کی تیاری جیسے مختلف استعمالات میں لائی جاسکتی ہیں۔ اگرچہ ہر اے آئی پلیٹ فارم کے بارے میں یہ کہنا درست نہیں کہ وہ لازماً صارف کا ڈیٹا غلط مقصد کے لیے استعمال کرتا ہے، لیکن غیر واضح یا غیر معروف پالیسی رکھنے والی ایپس کے معاملے میں احتیاط انتہائی ضروری ہے۔
مصنوعی ذہانت کی ایک خاص صلاحیت یہ بھی ہے کہ وہ معمولی دکھائی دینے والی معلومات کو ملا کر کسی فرد کے بارے میں تفصیلی ڈیجیٹل پروفائل تشکیل دے سکتی ہے۔ ایک تصویر کے ساتھ اگر نام، مقام، عمر، سوشل میڈیا اکاؤنٹ، دوستوں یا خاندان کے افراد کی معلومات بھی دستیاب ہوں تو اس ڈیٹا کی مجموعی قدر کہیں زیادہ بڑھ جاتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ماہرین صرف تصویر کی حفاظت پر نہیں بلکہ اس پورے ڈیجیٹل ماحول پر نظر رکھنے کا مشورہ دیتے ہیں جس میں وہ تصویر استعمال کی جارہی ہے۔
صارفین کے لیے سب سے اہم احتیاط یہ ہے کہ کسی بھی اے آئی ایپ پر تصویر اپلوڈ کرنے سے پہلے یہ دیکھا جائے کہ ایپ کس کمپنی کی ہے، اس کی رازداری کی پالیسی کیا کہتی ہے، تصویر کتنے عرصے تک محفوظ رکھی جاتی ہے، کیا اسے مصنوعی ذہانت کی تربیت کے لیے استعمال کیا جاسکتا ہے اور کیا اسے کسی تیسرے فریق کے ساتھ شیئر کرنے کی اجازت موجود ہے۔ اگر کسی ایپ کو کیمرا، مائیکروفون، رابطوں یا فائلوں تک رسائی کی ضرورت نہ ہو تو ایسی اجازت دینا بھی ضروری نہیں۔
بالخصوص بچوں، خاندان کے افراد، شناختی دستاویزات، ذاتی نوعیت کی تصاویر یا ایسی تصاویر جن میں گھر، گاڑی، مقام یا دیگر حساس معلومات واضح ہوں، انہیں غیر معروف اے آئی پلیٹ فارمز پر اپلوڈ کرنے سے گریز کرنا زیادہ محفوظ راستہ ہے۔ سوشل میڈیا پر مقبول ہونے والا ہر نیا ٹرینڈ محفوظ ہو، یہ ضروری نہیں، اور صرف اس وجہ سے کہ لاکھوں افراد کوئی ایپ استعمال کررہے ہیں، اس کی ڈیٹا پالیسی خود بخود قابلِ اعتماد نہیں ہوجاتی۔
مصنوعی ذہانت بلاشبہ تصویر سازی اور تخلیقی اظہار کے لیے حیرت انگیز امکانات فراہم کررہی ہے، لیکن اس سہولت کے ساتھ ڈیٹا کی قیمت بھی جڑی ہوئی ہے۔ چند سیکنڈ میں تبدیل ہونے والی ایک تصویر شاید تفریح کا ذریعہ ہو، مگر اس کے پیچھے موجود چہرے کی شناخت سے متعلق معلومات مستقل نوعیت رکھ سکتی ہیں۔ اس لیے اگلی مرتبہ کسی اے آئی ٹرینڈ میں شامل ہونے سے پہلے اصل سوال یہ ہونا چاہیے کہ ’’یہ تصویر مجھے کیا تفریح دے گی؟‘‘ کے ساتھ ’’اس تصویر کے بدلے میں میں اپنا کون سا ڈیٹا دے رہا ہوں؟‘‘
ڈیجیٹل دنیا میں احتیاط کا اصول بہت سادہ ہے: جو معلومات دوبارہ حاصل یا تبدیل نہیں کی جاسکتیں، انہیں شیئر کرنے سے پہلے سب سے زیادہ سوچنا چاہیے۔ اے آئی فلٹر چند لمحوں کی خوشی دے سکتا ہے، لیکن چہرے کا ڈیٹا زندگی بھر ہمارے ساتھ رہتا ہے۔
