کیا ریفرنڈم کے ذریعے نئے صوبوں کا قیام ممکن ہے؟

ملک میں نئے صوبے یا نئے انتظامی یونٹس بنانے کی بحث ایک مرتبہ پھر سیاسی منظرنامے میں نمایاں ہوتی دکھائی دے رہی ہے، تاہم اس تحریک کو سب سے بڑا دھچکا سندھ اسمبلی کی اس قرارداد سے لگا ہے جس میں سندھ کی تقسیم کی مخالفت کی گئی۔ پیپلزپارٹی کی جانب سے واضح پوزیشن سامنے آنے کے بعد فی الحال نئے صوبوں کے قیام کی آئینی پیش رفت سیاسی طور پر مشکل دکھائی دیتی ہے، کیونکہ پارلیمان میں آئینی ترمیم کے لیے پیپلزپارٹی کی حمایت اہم سمجھی جا رہی ہے۔ اس کے باوجود نئے صوبوں کا مطالبہ ختم نہیں ہوا بلکہ سیاسی سطح پر اس کی شدت میں کمی کے باوجود یہ بحث بدستور موجود ہے۔

حکمران جماعت مسلم لیگ ن بھی اس معاملے پر فی الحال محتاط اور انتظار کرو کی پالیسی اختیار کیے ہوئے ہے۔ وزیراعظم کے سیاسی مشیر رانا ثناء اللہ نے واضح کیا ہے کہ پارٹی کے اندر اس معاملے پر مشاورت جاری ہے اور مسلم لیگ ن اپنا باقاعدہ پالیسی مؤقف پارلیمان میں پیش کرے گی۔ ان کے مطابق اب تک حکومتی وزراء یا رہنماؤں کی جانب سے نئے صوبوں کے حوالے سے سامنے آنے والی آراء کو پارٹی کا حتمی مؤقف قرار نہیں دیا جا سکتا۔ اس صورتحال نے اس اہم معاملے پر حکومتی پالیسی کو مزید غیر واضح بنا دیا ہے۔

اسی دوران نئے صوبوں کے معاملے پر ریفرنڈم کی بازگشت بھی سنائی دینے لگی ہے۔ سیاسی حلقوں میں یہ بات زیر بحث ہے کہ اگر براہ راست آئینی ترمیم کے ذریعے نئے صوبوں کا قیام مشکل ہے تو عوامی رائے جاننے کے لیے ریفرنڈم کا راستہ اختیار کیا جا سکتا ہے۔ آئین میں ریفرنڈم کی گنجائش موجود ہے، تاہم حکومت اپنی مرضی سے کسی بھی وقت کسی بھی معاملے پر ریفرنڈم نہیں کرا سکتی۔ اس کے لیے پارلیمان کے مشترکہ اجلاس سے منظوری اور ریفرنڈم کے سوال کی منظوری کا آئینی طریقہ کار اختیار کرنا ہوگا۔

اصل پیچیدگی یہاں سے شروع ہوتی ہے کہ اگر پیپلزپارٹی نئے صوبوں کے معاملے پر حکومت کا ساتھ نہیں دیتی تو کیا حکمران اتحاد اکیلا پارلیمان کے مشترکہ اجلاس میں ریفرنڈم کی قرارداد منظور کرا سکتا ہے؟ عددی اعتبار سے یہ معاملہ آسان دکھائی نہیں دیتا اور پیپلزپارٹی کے ووٹ اہم ہوسکتے ہیں۔ ایک ممکنہ راستہ تحریک انصاف کی حمایت ہوسکتا ہے، تاہم موجودہ سیاسی حالات میں تحریک انصاف کا حکومت کے ساتھ اس معاملے پر کھڑا ہونا بھی ایک بڑا سوال ہے۔ اسی طرح کسی ممکنہ فارورڈ بلاک کی باتیں بھی گردش میں ہیں، لیکن فی الحال ایسا کوئی واضح سیاسی دھڑا سامنے نہیں آیا۔

دوسری جانب مسلم لیگ ن اور پیپلزپارٹی کے درمیان حالیہ کشیدگی میں کمی نے بھی نئے صوبوں کے معاملے کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔ پیپلزپارٹی نے قانون سازی میں حکومت کے ساتھ تعاون سے متعلق اپنا بائیکاٹ ختم کردیا ہے اور پارلیمان میں حکومت کے ساتھ مل کر چلنے پر آمادگی ظاہر کی ہے۔ اس سے یہ تاثر مضبوط ہوتا ہے کہ پیپلزپارٹی فی الحال موجودہ سیاسی نظام کو کسی بڑے بحران سے دوچار کرنے کے موڈ میں نہیں اور حکومت کے ساتھ اپنے معاملات کو کسی ایسے مقام تک لے جانے سے گریز کررہی ہے جہاں واپسی مشکل ہوجائے۔ دوسری طرف پیپلزپارٹی اور تحریک انصاف کے درمیان بھی کسی بڑے سیاسی اشتراک کی واضح شکل ابھی سامنے نہیں آئی۔

قومی اسمبلی اور سینیٹ کے اجلاسوں کا ستمبر سے آگے بڑھ جانا بھی اس بحث کو مزید دلچسپ بنا رہا ہے۔ سیاسی حلقوں میں یہ قیاس آرائی کی جا رہی ہے کہ اکتوبر میں پارلیمان کے اجلاس بلائے جانے کی صورت میں نئے صوبوں کے معاملے پر بحث ہوسکتی ہے۔ بعض حلقوں کے مطابق نئے صوبوں کے حق میں سرگرم قوتیں یہ کوشش کررہی ہیں کہ پارلیمان کے مشترکہ اجلاس کے ذریعے ریفرنڈم کی منظوری کا راستہ ہموار کیا جائے، تاہم یہ فی الحال ایک سیاسی منصوبہ اور قیاس آرائی ہے، حتمی فیصلہ نہیں۔

سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ کیا پیپلزپارٹی ریفرنڈم کے لیے آمادہ ہوگی؟ موجودہ حالات میں یہ ایک مشکل سیاسی فیصلہ دکھائی دیتا ہے، کیونکہ سندھ اسمبلی سے سندھ کی تقسیم کے خلاف قرارداد منظور کرانے کے بعد قومی اسمبلی اور سینیٹ میں نئے صوبوں کے حق میں ریفرنڈم کی حمایت کرنا ایک واضح سیاسی تبدیلی تصور ہوگی۔ اسی طرح یہ سوال بھی اپنی جگہ موجود ہے کہ تحریک انصاف اس معاملے پر حکومت یا کسی مجوزہ ریفرنڈم کی حمایت کرے گی یا نہیں۔ ممکن ہے 27 ستمبر کے بعد ملک میں پیدا ہونے والا سیاسی منظرنامہ اس معاملے پر بھی نئی صف بندی کا باعث بنے۔

ریفرنڈم کے ممکنہ نتائج کے حوالے سے بھی سیاسی حلقوں میں مختلف آراء موجود ہیں۔ بعض لوگوں کا خیال ہے کہ اگر نئے صوبوں کے قیام پر ملک گیر ریفرنڈم ہوا تو عام شہریوں کی ایک بڑی تعداد انتظامی بنیادوں پر نئے صوبوں کے حق میں ووٹ دے سکتی ہے۔ اس رائے کے مطابق پنجاب، خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں نئے انتظامی یونٹس کے حق میں خاصی حمایت موجود ہوسکتی ہے، جبکہ شہری سندھ میں بھی سندھ کی تقسیم کے حق میں نمایاں ووٹ آنے کی توقع کی جا رہی ہے۔ تاہم دیہی سندھ کے بارے میں یہ تاثر درست نہیں کہ وہاں ہر شخص سندھ کی تقسیم کا مخالف ہے؛ وہاں بھی مختلف طبقات میں انتظامی تبدیلی کے حامی موجود ہوسکتے ہیں۔ بہرحال یہ سب سیاسی اندازے ہیں اور اصل عوامی رائے صرف کسی شفاف اور آزادانہ عمل کے ذریعے ہی سامنے آسکتی ہے۔

یہ تجویز بھی زیر بحث ہے کہ اگر ریفرنڈم کرایا جائے تو ہر صوبے کا نتیجہ الگ ظاہر کیا جائے تاکہ یہ معلوم ہوسکے کہ کس صوبے کے عوام نے نئے صوبوں کے حق میں اور کس نے مخالفت میں ووٹ دیا۔ بظاہر یہ طریقہ عوامی رائے کو زیادہ واضح انداز میں سامنے لا سکتا ہے، لیکن اس کے ساتھ ہی انتخابی شفافیت اور نتائج کی قبولیت کا سوال بھی انتہائی اہم ہوگا۔ پاکستان کی سیاسی تاریخ میں ریفرنڈم کے حوالے سے ماضی کے تجربات موجود ہیں اور جمہوری حکومت کے ذریعے کسی بڑے انتظامی یا آئینی مسئلے پر ریفرنڈم کی مثال نہ ہونے کے باعث اس عمل کی شفافیت اور سیاسی قبولیت ایک بڑا امتحان بن سکتی ہے۔

سب سے بنیادی آئینی سوال یہ ہے کہ اگر ریفرنڈم میں عوام نئے صوبوں کے حق میں فیصلہ دے دیں تو کیا اس کے نتیجے میں خود بخود نئے صوبے وجود میں آجائیں گے؟ اس حوالے سے آئین میں ایسی کوئی واضح شق موجود نہیں جو ریفرنڈم کے نتیجے کو پارلیمان سے بالاتر قرار دیتی ہو۔ چنانچہ یہ رائے زیادہ مضبوط دکھائی دیتی ہے کہ عوامی رائے سامنے آنے کے باوجود نئے صوبوں کے قیام کے لیے آئینی ترمیم کا مرحلہ بہرحال ضروری ہوگا۔ البتہ ریفرنڈم میں عوام کی واضح حمایت سیاسی جماعتوں کے لیے نئے صوبوں کی مخالفت کو مشکل ضرور بنا سکتی ہے اور اس کے بعد آئینی ترمیم کے لیے سیاسی ماحول نسبتاً سازگار ہونے کا امکان پیدا ہوسکتا ہے۔

یوں نئے صوبوں کا معاملہ محض انتظامی حدود کی تبدیلی کا مسئلہ نہیں رہا بلکہ یہ ایک بڑا آئینی، سیاسی اور عوامی معاملہ بنتا جا رہا ہے۔ پیپلزپارٹی کی سندھ اسمبلی میں قرارداد، مسلم لیگ ن کی محتاط پالیسی، تحریک انصاف کی غیر واضح پوزیشن اور ریفرنڈم کی ممکنہ بحث نے صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔ ابھی یہ کہنا قبل از وقت ہوگا کہ ریفرنڈم واقعی عملی شکل اختیار کرے گا یا یہ صرف سیاسی حلقوں کی سطح پر زیر گردش ایک منصوبہ ہے، لیکن اتنا ضرور ہے کہ نئے صوبوں کی بحث ایک مرتبہ پھر قومی سیاست کے اہم موضوعات میں شامل ہوچکی ہے۔ اب اصل فیصلہ سیاسی جماعتوں کے مؤقف، پارلیمان کی عددی طاقت، آئینی تقاضوں اور بالآخر عوامی رائے کے ممکنہ اظہار پر منحصر ہوگا۔

Back to top button