عمران خان سے اہم شخصیات کی ملاقاتوں کی حقیقت کیا ہے؟

سینئر تجزیہ کار نجم سیٹھی نے دعویٰ کیا ہے کہ عمران خان سے اہم شخصیات کی ملاقاتوں سے متعلق جو باتیں پہلے محض افواہوں اور قیاس آرائیوں تک محدود تھیں، وہ اب آہستہ آہستہ خبر کی شکل اختیار کرتی جا رہی ہیں۔ ان کے مطابق پہلے صرف یہ اطلاعات گردش کر رہی تھیں کہ عمران خان سے کچھ اہم لوگوں کی ملاقاتیں ہوئی ہیں یا ہونے والی ہیں، تاہم بعد میں بعض بااثر حلقوں کی جانب سے بھی اس حوالے سے اشارے سامنے آئے، جس کے بعد ان قیاس آرائیوں کو مزید تقویت ملی ہے۔
دنیا نیوز کے پروگرام ’’آج کی بات سیٹھی کے ساتھ‘‘ میں گفتگو کرتے ہوئے نجم سیٹھی نے کہا کہ ایک ریٹائرڈ جنرل نے بھی اس معاملے پر یہ مؤقف اختیار کیا کہ انہیں صورتحال کا علم ہے لیکن وہ اس کی تفصیلات بیان نہیں کرسکتے۔ ان کے بقول بعض رپورٹرز بھی یہ دعویٰ کر رہے ہیں کہ اعلیٰ سطح کی ایک دو شخصیات عمران خان سے ملاقات کرچکی ہیں۔ نجم سیٹھی کے مطابق دوسری جانب بھی اس پیش رفت سے متعلق آگاہی پائی جاتی ہے اور فی الحال کسی جانب سے ان اطلاعات کی واضح تردید سامنے نہیں آئی۔
نجم سیٹھی نے کہا کہ حکومت اور تحریک انصاف کے درمیان رابطوں کے حوالے سے محسن نقوی کی کوششیں بھی سامنے آتی رہی ہیں، جبکہ بیرسٹر گوہر اور محسن نقوی کے درمیان رابطے اور گفتگو کی تصدیق خود بیرسٹر گوہر بھی کرچکے ہیں۔ یہی صورتحال اس بات کی ایک وجہ ہے کہ تحریک انصاف نے 27 ستمبر کے احتجاج کے بارے میں ابھی تک حتمی فیصلہ واضح طور پر سامنے نہیں رکھا۔ ان کے مطابق پارٹی عدالت کے فیصلے کا بھی انتظار کر رہی ہے، جس کے بعد احتجاج کی نوعیت اور حکمت عملی مزید واضح ہوسکتی ہے۔
سینئر تجزیہ کار کا کہنا تھا کہ ان کے خیال میں تحریک انصاف کو احتجاج کی اجازت تو مل سکتی ہے، تاہم عدالت کی جانب سے ڈی چوک پر احتجاج یا باقاعدہ لانگ مارچ کی اجازت ملنے کے امکانات کم ہیں۔ ان کے مطابق اگر تحریک انصاف اسلام آباد کی طرف پیش قدمی کرتی ہے تو حکومت کی جانب سے اسے شہر میں داخل ہونے سے روکنے کی کوشش کی جائے گی، جس کے نتیجے میں ایک مرتبہ پھر سیاسی کشیدگی بڑھ سکتی ہے۔
نجم سیٹھی نے یہ بھی تسلیم کیا کہ تحریک انصاف عمران خان کی صحت اور مبینہ قید تنہائی کے معاملے کو عالمی سطح پر اجاگر کرنے میں خاصی حد تک کامیاب رہی ہے۔ ان کے مطابق تحریک انصاف کی جانب سے بین الاقوامی سطح پر پیدا کیا جانے والا دباؤ ممکنہ طور پر بعض فیصلوں پر اثرانداز ہوا ہوگا۔ تاہم ان کا کہنا تھا کہ اس دباؤ کے باوجود اگر تحریک انصاف احتجاج کے لیے اسلام آباد آتی ہے تو اسے دارالحکومت میں داخل ہونے کی اجازت ملنا آسان نہیں ہوگا۔
دوسری جانب جماعت اسلامی کے احتجاج کا حوالہ دیتے ہوئے نجم سیٹھی نے کہا کہ جماعت اسلامی ایک عرصے سے پٹرولیم لیوی میں کمی اور مہنگائی کے خاتمے کے مطالبات کے ساتھ احتجاج کررہی ہے۔ ان کے مطابق یہ مطالبات اپنی جگہ اہم ہیں، تاہم موجودہ معاشی صورتحال اور عالمی مالیاتی ادارے کی شرائط کے باعث حکومت کے لیے ان مطالبات کو مکمل طور پر تسلیم کرنا آسان نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ جماعت اسلامی نے اس معاملے پر سیاسی طور پر ایک مؤثر حکمت عملی اختیار کی ہے اور وہ اپنا احتجاج تحریک انصاف کے ساتھ جوڑنے کے بجائے الگ جاری رکھے ہوئے ہے۔
نجم سیٹھی کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف کی جانب سے پٹرول پر ریلیف کا اعلان کیے جانے کے بعد حکومت جماعت اسلامی کو یہ مؤقف اختیار کرسکتی ہے کہ اس کے مطالبے پر عوام کو ریلیف فراہم کردیا گیا ہے۔ دوسری طرف جماعت اسلامی یہ کہہ سکتی ہے کہ اسے کم از کم کچھ پیش رفت ضرور حاصل ہوئی، لیکن اصل سوال یہ ہے کہ اعلان کردہ ریلیف سے عام آدمی کو کتنا حقیقی فائدہ پہنچتا ہے۔
موجودہ صورتحال میں عمران خان سے مبینہ ملاقاتوں کی خبریں، حکومت اور تحریک انصاف کے درمیان رابطوں کے اشارے، 27 ستمبر کے احتجاج پر غیر یقینی صورتحال اور جماعت اسلامی کی احتجاجی سیاست نے ملکی سیاسی منظرنامے کو مزید دلچسپ بنا دیا ہے۔ اگر واقعی اعلیٰ سطح پر رابطوں کا سلسلہ جاری ہے تو آنے والے دنوں میں یہ رابطے سیاسی کشیدگی کم کرنے یا کسی نئے سیاسی فارمولے کی بنیاد بننے کا سبب بن سکتے ہیں، تاہم فی الحال ان ملاقاتوں اور مذاکرات کے حوالے سے حتمی تصویر سامنے آنا باقی ہے۔
