20 سالہ جنگ کے بعد بھی امریکہ کو القاعدہ سے خطرہ کیوں؟

امریکہ نے 2021 میں اسامہ بن لادن اور اسکی القاعدہ تنظیم کو ختم کرنے کی خاطر افغانستان پر قبضہ کیا تھا لیکن طالبان کے ہاتھوں 20 برس طویل جنگ میں راہ فرار اختیار کرنے کے باوجود امریکہ کو آج بھی یہ خدشات ستا رہے ہیں کہ القاعدہ مکمل طور پر ختم نہیں ہوئی اور افغانستان میں اپنے ہمدردوں کی حکومت آجانے کے بعد وہ اسکی سلامتی کے لیے دوبارہ سے ایک خطرہ بن سکتی ہے۔
یہ ایک حقیقت ہے کہ القاعدہ نے دنیا کو ایک الگ نوعیت کے خطرے سے دو چار کیا ہے۔ القاعدہ ایک ایسا نیٹ ورک ہے جو 2011 میں امریکی نیوی سیلز کے ہاتھوں اسامہ بن لادن کے قتل کے بعد بھی فعال ہے اور اسامہ کی جگہ اسکے سربراہ بننے والے ڈاکٹر ایمن الظواہری آج دن تک مفرور ہیں۔ یہ بھی سچ ہے کہ دنیا میں داعش جیسے دیگر کئی جہادی گروہ بھی القاعدہ ہی کے ماڈل کی پیروی کرتے ہوئے سامنے آئے ہیں۔ عربی زبان کے لفظ ‘القاعدہ’ کے معنی ‘بنیاد’ کے ہیں۔ یہ تنظیم سوویت یونین کے افغانستان کے انخلا کے دنوں میں منظم ہوئی تھی۔ افغانستان میں عرب ممالک سے افغانستان میں جنگجوؤں کی بھرتی اور مالی معاونت کے لیے فلسطینی شدت پسند رہنما عبداللہ یوسف عزام نے ‘مکتب الخدمت’ نامی تنظیم کی بنیاد رکھی تھی۔ اسے افغان سروس بیورو بھی کہا جاتا تھا۔ عزام 1989 میں پشاور میں ایک کار بم حملے میں مارے گئے تھے۔ تب مصر سے تعلق رکھنے والے ایمن الظواہری بھی اس بیورو کی بنیاد رکھنے والوں میں شامل تھے اور عزام کے ساتھی تھے۔ انہوں نے ہی اسامہ بن لادن کو عزام کی مکتب الخدمت تنظیم کا حصہ بنایا تھا۔ عزام کی موت کے بعد اسامہ بن لادن نے اسکی قیادت سنبھال لی اور اسے ‘القاعدہ’ کا نام دے دیا۔
اسامہ کا تعلق سعودی عرب کے ایک متمول گھرانے سے تھا اور ان کے والد سعودی عرب کی بڑی کاروباری شخصیت تھے۔ عراق صدر صدام حسین نے جب 1991 میں کویت پر حملہ کیا تو اسی دور میں امریکہ کی تین لاکھ فوج نے سعودی عرب کی سرزمین پر قدم رکھا۔ اسامہ کا مطالبہ تھا کہ امریکی فوج کو فوری سعودی عرب سے نکالا جائے کیوں کہ وہ اس کی سعودی عرب میں موجودگی کو مقدس سرزمین یا ‘حرم’ کے تقدس کے خلاف تصور کرتے تھے۔ رد عمل میں سعودی حکام نے اسامہ کی شہریت منسوخ کر کے انہیں ملک بدر کردیا۔ اسامہ نے 1996 میں امریکہ کے خلاف باقاعدہ جنگ کا فتویٰ جاری کیا جس کے بعد سات اگست 1998 کو کینیا کے دارالحکومت نیروبی اور تنزانیہ کے شہر دار الاسلام میں امریکی سفارت خانوں کے باہر بم حملے کیے گئے جس میں 200 سے زائد افراد ہلاک ہوئے۔ القاعدہ نے 2000 میں یمن کے شہر عدن کی بندرگاہ پر امریکی بحریہ کے جہاز پر خودکُش حملہ کیا جس میں 17 افراد ہلاک ہوئے۔ اس کے بعد القاعدہ نے 11 ستمبر 2001 کو امریکہ میں حملے کیے جس نے دنیا کا منظر نامہ بدل کر رکھ دیا۔
نائن الیون کے بعد امریکہ نے جب افغانستان پر حملہ کیا تو اسامہ روپوش رہے اور پھر ستمبر 2011 میں پاکستان کے شہر ایبٹ آباد میں امریکہ نے ایک آپریشن میں انہیں ہلاک کر دیا۔ ایبٹ آباد میں اسامہ بن لادن کی ہلاکت کے بعد ایمن الظواہری نے القاعدہ کی قیادت سنبھالی لیکن وہ اسامہ کی طرح فعال ثابت نہیں ہوئے۔
نائن الیون کے بعد جس طرح القاعدہ مشرقِ وسطی میں نمایاں ہو کر سامنے آئی تھی۔ اس کے مقابلے میں رفتہ رفتہ عراق اور شام میں داعش اپنی سفاکی اور خونریز کارروائیوں کی وجہ سے شدت پسند تنظیموں میں زیادہ نمایاں ہو گئی ہے۔ عالمی شدت پسندی پر نظر رکھنے والوں کا کہنا ہے کہ افغانستان اور پاکستان کے سرحدی قبائلی علاقوں میں القاعدہ کے مرکزی ٹھکانے تھے لیکن اس تنظیم کا اب بظاہر ویسا وجود نہیں رہا جو نائن الیون کے بعد کے چند برسوں تک تھا۔ اگرچہ امریکہ یا مغرب میں القاعدہ کے نائن الیون جیسے طرز کے حملے کے خطرات کو روکا گیا مگر بعض تجزیہ کاروں کے مطابق القاعدہ نے نائن الیون کے بعد بڑی کامیابی سے جہادی عسکریت پسندی کو دنیا کے دیگر خطوں تک پھیلا دیا ہے۔آج القاعدہ کے مستقبل کے حوالے سے دو متضاد بیانیے پائے جاتے ہیں۔ ایک حلقہ سمجھتا ہے کہ اسامہ کی ہلاکت کے بعد سے مسلسل رونما ہونے والے واقعات اور بالخصوص رہنماؤں کی ہلاکتوں سے القاعدہ تنظیمی طور پر اتنی کمزور ہو چکی ہے کہ امریکہ کے افغانستان سے جانے کے بعد پھر کسی تباہی کا سبب نہیں بن سکتی۔
دوسرا حلقہ سمجھتا ہے کہ القاعدہ کی حالیہ خاموشی اور خود کو کمزور ظاہر کرنا دراصل اس کی ممکنہ حکمتِ عملی کا حصہ بھی ہو سکتا ہے جس سے شاید مستقبل میں وہ دوبارہ خطے اور عالمی سطح پر خطرہ بن سکتی ہے۔ ویسے بھی افغانستان میں طالبان کے دوبارہ اقتدار میں آ جانے کے بعد القاعدہ کے از سر نو سر اٹھانے کے خدشات مزید بڑھ گئے ہیں۔ حالانکہ امریکہ کے ساتھ دوحہ معاہدے کے وقت افغان طالبان کی قیادت نے اسے القاعدہ سے قطع تعلقی کا یقین دلایا تھا لیکن یہ دیکھنا ابھی باقی ہے کہ اس معاہدے پر کتنا عمل ہوتا ہے۔
مبصرین القاعدہ سے رشتے توڑنے سے متعلق وعدوں کی پاس داری کو طالبان کے لیے بڑا امتحان قرار دیتے ہیں۔
