2008 کے ممبئی حملوں بارے سابق ڈی جی ایف آئی اے کے ہوشربا انکشافات

ممبئی میں 2008 میں ہونے والے دہشت گرد حملوں کو 12 برس گزر گئے لیکن نہ تو 174 افراد کی جان لینے والی اس خونی واردات کے ماسٹر مائنڈ سامنے آ سکے اور نہ ہی کیس میں نامزد ملزمان کو گرفتار کیا جا سکا۔ تاہم اس کیس کی تحقیقات کرنے والے سابق ڈی جی ایف آئی اے طارق کھوسہ کے مطابق ممبئی حملوں میں زندہ گرفتار ہونے والا دہشت گرد اجمل قصاب ایک پاکستانی تھا جس کی رہائش اور سکول جانے اور پھر شدت پسند تنظیم لشکر طیبہ میں شامل ہونے کا تفتیش کاروں نے پتا چلا لیا تھا۔
یاد رہے کہ بھارت نے اس حملے کا الزام پاکستان پر عائد کیا تھا لیکن پاکستان نے یہ الزام سختی سے رد کر دیا تھا۔ ممبئی حملوں کے بارہ برس بعد ایف آئی اے کی ریڈ بک میں شامل ممبئی اس واردات کے 19 ملزمان تاحال مفرور ہیں اور پاکستانی تفتیش کار یا ادارے انھیں ایک بار بھی پکڑنے سے قاصر رہے ہیں۔
بی بی سی کی ایک رپورٹ کے مطابق 21 نومبر 2008 کی شام ڈھلتے ہی 10 نوجوانوں کو عزیز آباد کراچی سے 100 میل کے فاصلے پر ضلع ٹھٹہ میں واقع کیٹی بندرپورٹ کے قریب ایک گھر میں لایا گیا جہاں انھیں مبینہ ’مشن‘ کی تفصیل سے آگاہ کیا گیا۔ یہ نوجوان کئی ماہ کی مبینہ ٹرینگ کے بعد اب ‘مشن’ کی تکمیل کے لیے تیار تھے۔ ممبئی حملوں میں زندہ بچ جانے والے حملہ آور اجمل قصاب، جسے بعد میں پھانسی دے دی گئی تھی، کے اعترافی بیان کے مطابق اگلے ہی روز یعنی 22 نومبر کو ان نوجوانوں کو مختلف اہداف کے نقشے اور اُن کے متعلق آخری بریفنگ دی گئی اور اسی روز شام سات بجے انھیں کیٹی بندر پر موجود ایک بڑی کشتی میں پہنچایا گیا جہاں سے ان کا ممبئی کا وہ سفر شروع ہوا جس سے وہ کبھی واپس نہ لوٹے۔
پاکستانی سائیڈ سے ممبئی حملوں کی تحقیقات کرنے والے سابق ڈائریکٹر جنرل ایف آئی اے طارق کھوسہ نے ڈان اخبار میں مارچ 2015 میں چھپنے والے اپنے ایک آرٹیکل میں لکھا کہ ٹھٹہ ہی وہ مقام تھا جہاں ممبئی جانے والوں حملہ آوروں کو تربیت دی گئی اور یہیں سے انھیں مشن کے لیے روانہ کیا گیا۔ دوسری طرف ان دس حملہ آوروں کی شناخت ابھی تک متنازع رہی ہے کہ آیا وہ پاکستانی تھے بھی یا نہیں کیونکہ پاکستان اجمل قصاب کے اعترافی بیان کو درست تسلیم نہیں کرتا۔ پاکستان کے دعوے کے مطابق پاکستانی تفتیش کاروں کو کبھی بھی اجمل قصاب تک رسائی نہیں دی گئی جس سے اس کے اعترافی بیان کی حقیقت معلوم ہو سکتی۔ اس کے ساتھ ساتھ پاکستان کا یہ موقف بھی ہے کہ انڈیا نے مرنے والے دیگر نو حملہ آوروں کی تفصیلات بھی کبھی پاکستان کو فراہم نہیں کیں جس کے بعد نادرا اور دیگر ذرائع سے ان کے پاکستانی ہونے کے دعوے کی تصدیق ہو پاتی۔
لیکن اس وقت کے وزیر داخلہ رحمٰن ملک نے 12 فروری 2009 کو اسلام آباد میں ایک پریس کانفرنس میں بتایا تھا کہ ممبئی دھماکوں میں ملوث حملہ آور پاکستان سے ہی انڈیا گئے تھے لیکن ان کے پاس ان کی شناخت اور خاندان کی تفصیلات دستیاب نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ حملہ آور کراچی سے ایک کشتی پر روانہ ہوئے تھے جو بلوچستان سے منگوائی گئی تھی۔انھوں نے کہا کہ ابتدائی تحقیقات میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ حملہ آور ٹھٹہ، سندھ سے سمندر کے راستے انڈیا گئے لیکن اس کی ابھی تفتیش ہونی ہے کہ وہ ممبئی تک کیسے پہنچ گئے۔ پاکستان کے انتہائی مطلوب دہشت گردوں کے متعلق حال ہی میں چھپنے والی ایف آئی اے کی ریڈ بک میں ان ملزمان کی مکمل تفصیل موجود ہے جو 2008 میں ہونے والے ممبئی حملہ کیس میں مطلوب ہیں۔۔ یہ ملزمان ممبئی حملہ کیس میں مجرمانہ سازش، دہشت گردوں کی مالی اور لاجسٹک مدد اور اعانت جرم جیسے الزامات میں مطلوب ہیں اور پچھلی ایک دہائی سے مطلوب دہشت گردوں کی اس فہرست میں شامل کیا گیا ہے لیکن آج تک پاکستان کے تفتیش کار یا ادارے انھیں ایک بار بھی پکڑنے سے قاصر رہے ہیں۔ انڈیا نے دعویٰ کیا تھا کہ اجمل قصاب سے تفتیش کے بعد پتا چلا کہ یہ حملہ آور پاکستان سے آئے تھے اور ان کا تعلق کالعدم تنظیم لشکر طیبہ سے تھا۔ انڈیا نے الزام لگایا تھا کہ ان حملوں کی منصوبہ بندی لشکر طیبہ کے امیر حافظ سعید نے کی جسے انجام تک ان کی جماعت کے لوگوں نے پہنچایا ہے۔
انڈیا نے حافظ سعید اور ذکی لکھوی سمیت لشکر طیبہ کے متعدد لوگوں کے ناموں پر مشتمل 35 افراد کی لسٹ تیار کی اور پاکستان کو کہا کہ ان ملزمان کو انڈیا کے حوالے کیا جائے تاکہ ان کا ٹرائل کیا جا سکے۔ پاکستان کو انڈیا سے شدید تنقید کا سامنا تھا جس کی وجہ سے دو ایٹمی طاقتوں کے درمیان ایک جنگ کا ماحول بن رہا تھا۔ دوسری طرف پاکستان ابتدا میں انڈیا کے تمام الزامات کو مسترد کرتا رہا اور کہتا رہا کہ الزامات کی بجائے ایسے تمام شواہد مہیا کیے جائیں جن سے ثابت ہو کہ ان حملوں میں پاکستانی ملوث ہیں یا ان کی منصوبہ بندی پاکستان میں ہوئی ہے تاکہ ان لوگوں کے خلاف یہاں کارروائی کی جا سکے۔ اسی دوران الزامات کی تحقیقات کے لیے پاکستان نے ایف آئی اے کی ٹیم پر مشتمل ایک جے آئی ٹی بنائی جس کی سربراہی سینیئر افسر خالد قریشی کو دی گئی جبکہ اس تفتیش کو سپروائز کرنے کی ذمہ داری اس وقت کے ڈی جی ایف آئی اے طارق کھوسہ کو سونپی گئی۔ دسمبر 2008 میں مغربی اتحادیوں اور انڈیا کی طرف سے دی جانے والی معلومات کے نتیجے میں ایف آئی اے نے ٹھٹہ میں لشکر طیبہ کے مبینہ ٹرینگ کیمپ پر چھاپہ مارا اور شواہد اپنے قبضے میں لیے۔
ممبئی حملوں کے اڑھائی ماہ بعد یعنی 12 فروری 2009 کو اس وقت کے وزیر داخلہ رحمٰن ملک نے اسلام آباد میں ایک پریس کانفرس کرتے ہوئے بتایا کہ ممبئی حملوں کی سازش کا کچھ حصہ پاکستان میں تیار ہوا تاہم اس کے کچھ سرے امریکہ، آسڑیا، سپین، اٹلی اور روس جیسے ممالک میں بھی ملے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ابتدائی تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق انٹرنیٹ کے ذریعے بات کرنے کے لیے جو ڈومین استعمال کیا گیا وہ ہوسٹن امریکہ میں رجسٹرڈ تھا جبکہ اسے حاصل کرنے کے لیے 238 ڈالر سپین سے منتقل کیے گئے۔ انھوں نے کہا کہ جو دوسرا ڈومین استعمال کیا گیا وہ روس میں رجسٹرڈ تھا جبکہ ایک سیٹلائٹ فون مشرق وسطیٰ کے ایک ملک میں رجسٹرڈ تھا۔ رحمٰن ملک نے بتایا کہ اجمل قصاب کے بیان اور انڈیا کی طرف سے شیئر کی گئی معلومات کی روشنی میں ایک ایف آئی آر درج کی گئی ہے اور اس میں نو ملزمان کو نامزد کیا ہے جن میں اجمل قصاب عرف ابو مجاہد، ذکی الرحمٰن لکھوی، ابو حمزہ، ضرار شاہ، محمد امجد خان، شاہد جمیل، حماد امین صادق اور دیگر شامل ہیں۔ رحمٰن ملک نے بتایا کہ نامزد ملزمان میں سے پانچ کو گرفتار کر لیا گیا ہے جن میں ممبئی حملہ کے مبینہ ماسٹر مائنڈ ذکی الرحمٰن لکھوی بھی شامل ہے۔
سابق ڈی جی ایف آئی اے اور اس کیس کے سپروائزری افسر طارق کھوسہ نے 2015 میں ڈان اخبار میں چھپنے والے اپنے آرٹیکل میں اس کیس کی تفتیش کے حوالے سے بڑا تفصیل سے لکھا اور متعدد اہم پہلوؤں پر روشنی بھی ڈالی تھی۔ طارق کھوسہ کے مطابق اجمل قصاب ایک پاکستانی تھا جس کی رہائش اور سکول جانے اور پھر شدت پسند تنظیم لشکر طیبہ میں شامل ہونے کا تفتیش کاروں نے پتا چلا لیا تھا۔ انکے مطابق لشکر طیبہ کے دہشت گردوں کو ٹھٹہ، سندھ کے قریب ٹرینگ دی گئی اور بعد میں وہیں سے انھیں سمندری راستے سے بھیجا گیا۔ اس ٹریننگ کیمپ کا سراغ تفتیش کاروں نے لگا لیا تھا۔اسی طرح ممبئی حملوں میں استعمال ہونے والے دھماکہ خیز مواد کے سانچے ناصرف اس ٹریننگ کیمپ سے برآمد بھی کیے گئے بلکہ وہ میچ بھی کر گئے۔ کھوسہ کے مطابق مچھلیاں پکڑنے والی کشتی الحسینی جسے شدت پسندوں نے انڈین کشتی کو اغوا کرنے کے لیے استعمال کیا اور بعد میں ممبئی روانہ ہوئے تھے اسے واپس بندرگاہ پر لا کر پینٹ کر کے چھپا دیا گیا تھا۔ وہ بھی برآمد کر لی گئی تھی جو ملزمان کو اس کیس سے جوڑتی ہے۔ پھر ممبئی بندرگاہ کے قریب شدت پسندوں کی جانب سے چھوڑی گئی چھوٹی کشتی کے انجن میں ایک پیٹنٹ نمبر موجود تھا جس کے ذریعے تفتیش کاروں نے اس کی جاپان سے لاہور درآمد کا پتہ لگایا جو وہاں سے کراچی کی ایک کھیلوں کی دکان میں پہنچایا گیا جہاں سے لشکر طیبہ سے منسلک ایک شدست پسند نے اسے چھوٹی کشتی کے ساتھ خریدا تھا۔ اسکے علاوہ منی ٹریل کی پیروی کی گئی جس سے اس ملزم کا پتہ چلا کر اسے گرفتار کیا گیا۔
سابق ڈی جی ایف آئی اے طارق کھوسہ کے مطابق کراچی میں آپریشن روم جہاں سے ممبئی آپریشن کی ہدایت کی گئی تھی، کو بھی تفتیش کاروں نے ڈھونڈ کر مخفوظ کر لیا اور وائس اوور انٹرنیٹ پروٹوکول کے ذریعے ہونے والی بات چیت کا بھی سراغ لگا لیا۔ پھر ممبئی آپریشن کے انچارج یعنی لشکر طیبہ کے چیف آپریشنل کمانڈر ذکی الرحمن لکھوی اور اس کے نایئبین کی نشاندہی کر کے انھیں گرفتار کر لیا گیا۔ اپنے آرٹیکل میں طارق کھوسہ نے مزید لکھا کہ انڈیا نے اجمل قصاب کو زندہ پکڑ کے اس کے اعتراف جرم سے اس کیس کو منطقی انجام تک پہنچا دیا لیکن مختلف جگہوں پر ہوئی سازش ایک گھمبیر کام ہے جس کو ثابت کرنے کے لیے ٹھوس شواہد کی ضرورت ہوتی ہے۔
ممبئی حملے کیس کی ایف آئی آر ایف آئی اے کے سپیشل انویسٹیگیشن یونٹ میں 12 فروری 2009 کو درج ہوئی۔ تب سے اب تک تقریبا 12 سال کا عرصہ گزر چکا ہے لیکن مختلف وجوہات کی بنیاد پر اس کیس کا ٹرائل ابھی تک مکمل نہیں ہو سکا۔ اس عرصے کے دوران انسداد دہشت گردی کی عدالت کے کم از کم چھ ججز اور متعدد پراسیکیوٹرز تبدیل ہوئے۔ اس کیس کے پہلے پراسیکیوٹر چوہدری ذوالفقار علی کو مئی 2013 میں راوالپنڈی میں نامعلوم افراد نے گولیاں مار کر قتل کر دیا تھا جس کے بعد ایڈووکیٹ رب نواز کو اس کیس کا پراسیکیوٹر تعینات کیا گیا۔ رب نواز کی اچانک موت کے بعد ایڈووکیٹ اظہر چوہدری کو ان کی جگہ پراسیکیوٹر تعینات کیا گیا تھا لیکن 2018 میں انھیں بھی اچانک تبدیل کر دیا گیا جس کے بعد اب کیس میں ایڈووکیٹ اکرم قریشی کو پراسیکیوٹر تعینات کیا گیا ہے۔ قریشی کا کہنا ہے کیس کا ٹرائل ان کیمرہ ہو رہا ہے اور عدالت نے انھیں بات کرنے سے منع کیا ہوا ہے اس لیے وہ بات نہیں کرنا چاہتے۔ یاد ریے کہ اس کیس کے مرکزی ملزم ذکی الرحمٰن لکھوی کے علاوہ باقی ملزمان جوڈیشل ریمانڈ پر جیل میں ہیں جبکہ لکھوی کئی برس سے ضمانت پر ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button