2017 کا دھرنا 11 روزکا لیکن 2020 کا دھرنا صرف ایک روز کا کیوں؟


2017 میں لیگی حکومت کے خلاف فیض آباد چوک میں گیارہ روز تک دھرنا دینے والی تحریک لبیک نے کپتان حکومت کے خلاف دھرنا ایک روز بعد ہی ختم کرنے کا اعلان کردیا حالانکہ معاملہ تب بھی ناموس رسالت کا تھا اور اب بھی ناموس رسالت کا ہی تھا۔ تب تحریک لبیک اور حکومت کے مابین کیے گئے تحریری معاہدے میں آئی ایس آئی کے فیض حمید نے بطور ضامن دستخط کیے تھے اور تب کے وزیر قانون زاہد حامد کو ان کے عہدے سے برخاست کیا گیا تھا۔ تاہم اس مرتبہ ضامن کوئی نہیں ہے اور علامہ خادم سے صرف وعدہ کیا گیا ہے کہ فرانس کے سفیر کو دو تین ماہ میں قانون سازی کے بعد پاکستان سے ملک بدر کر دیا جائے گا۔ تاہم لبیک والوں میں سے کسی نے یہ سوال بھی پوچھنے کی زحمت نہیں کی کہ کیا کسی ملک کو دوسرے ملک کا سفیر نکالنے کے لیے قانون سازی کی ضرورت ہوتی ہے۔ ظاہر ہے کہ جب نوکری کرنی ہے تو پھر نخرہ کیسا۔
یاد رہے کہ 2017 میں حکومت وقت کے خلاف 11 روزہ دھرنا ختم کرنے کے بعد علامہ خادم حسین رضوی نے انکشاف کیا تھا کہ انہوں نے دھرنا دینے اور پھر اسے ختم کرنے کا فیصلہ ایجنسیوں کے کہنے پر کیا۔ تجزیہ نگاروں کا خیال ہے کہ شاید اس مرتبہ فیض آباد دھرنا ایک ہی روز میں ختم کرنے کا فیصلہ اس لیے ہو گیا کہ علامہ خادم رضوی نے ایجنسیوں سے پوچھے بغیر دھرنا دے دیا تھا۔
یاد رہے کہ تحریک لبیک اور حکومت کے مابین پیر یعنی 16 نومبر کی رات ایک تحریری معاہدے کے بعد علامہ خادم حسین رضوی نے اپنی جماعت کا دھرنا ختم کرنے کا اعلان کیا۔ حکومتی ٹیم اور تحریک لبیک پاکستان کے درمیان مذاکرات کامیاب ہونے کے بعد رات گئے پہلے حکومتی ٹیم کی جانب سے اور پھر فیض آباد کے مقام پر لگے اسٹیج پر سے دھرنا ختم کرنے کا اعلان کیا گیا۔ بعد ازاں اسٹیج سے اعلانات کرتے ہوئے مذاکرات ختم کرنے کا بتایا گیا اور کہا گیا کہ فرانس کے سفیر کو ملک بدر کرنے کا مطالبہ منظور ہو چکا ہے۔ اسٹیج سے یہ اعلان بھی کیا گیا کہ حکومت پاکستان نے یہ مطالبہ بھی منظور کر لیا ہے کہ آئندہ حکومت فرانس میں پاکستانی سفیر تعینات نہیں کرے گی۔
تحریک لبیک قیادت نے اسٹیج سے اعلان کرتے ہوئے کہا کہ تمام گرفتار کارکنان کی رہائی کا حکم بھی جاری ہو چکا ہے جس پر عملدرآمد ہو رہا ہے۔ حسب توقع یہ اعکان بھی کیا گیا کہ موجودہ مارچ کے حوالے سے حکومت تحریک لبیک کے کسی بھی کارکن کے خلاف کسی قسم کا مقدمہ درج نہیں کرے گی۔
حکومتی مذاکراتی ٹیم کی سربراہی وفاقی وزیر مذہبی امور پیر نور الحق قادری نے کی جبکہ ٹیم میں وزیر داخلہ اعجاز شاہ ، کمشنر اسلام آباد عامر احمد اور مشیر داخلہ شہزاد اکبر بھی شامل تھے۔ مذاکرات میں تحریک لبیک کے سربراہ علامہ خادم حسین رضوی بھی موجود لیکن معاہدے پر ان کے نہیں بلکہ جماعت کے شوریٰ اراکین کے دستخط موجود ہیںں۔ خادم حسین رضوی مذاکرات سے کچھ دیر پہلے دھرنے کے مقام پر پہنچے۔ ‏ ان کی غیر موجودگی میں ان کے بڑے صاحبزادے ان کی نمائندگی کر رہے تھے۔ حکومتی ذرائع کا کہنا ہے کہ اسلام آباد پولیس نے جس طریقے سے دھرنے کے شرکاء کو چاروں طرف سے گھیرا ڈال لیا تھا اس کے بعد ان کے لیے دھرنے پر بیٹھے رہنا مزید ممکن نہیں رہا تھا۔ لہذا علامہ خادم رضوی کے پاس امن معاہدہ کر کے اٹھنے کے سوا اور کوئی باعزت راستہ باقی نہیں بچا تھا۔ یاد رہے کہ اس کے برعکس تحریک لبیک کے فیض آباد دھرنے کے شرکاء میں 2017 میں گھر واپس جانے کے لیے آئی ایس آئی کے باوردی لوگوں نے پیسے تقسیم کیے تھے جن کی ویڈیوز آج بھی سوشل میڈیا پر موجود ہیں۔
چنانچہ اس صورتحال پر تبصرہ کرتے ہوئے سینئر اینکر پرسن اور صحافی عاصمہ شیرازی نے یہ سوال اٹھایا ہے کہ ایسا کیوں ہے کہ ساری دُنیا میں وقت کا پہیہ آگے کی جانب چل رہا ہے جبکہ پاکستان میں پیچھے کی جانب۔ کیا وجہ یے کہ یہاں گھڑیال کی سوئیاں خود کو دھکیلتے ہوئے آگے کو پیش قدمی کرنا چاہتی ہیں مگر واپس لوٹ جاتی ہیں۔ کیا وجہ ہے کہ پاؤں آگے بڑھتے ہی نہیں اور پیچھے پلٹ جاتے ہیں۔ہم ایسے کیوں ہیں؟ ہم باقی دُنیا جیسے کیوں نہیں؟ وقت اور حالات نے نہ ہمیں کچھ سکھایا اور نہ ہی ہم کچھ سیکھنے کو تیار۔
عاصمہ شیرازی فیض آباد میں تحریک لبیک کے 2020 کے دھرنے کے بارے میں کہتی ہیں کہ وہی فیض آباد کا مقام اور وہی دروبام۔ وہی خادم و مخدوم کا قصہ۔ وہی دھرنا، وہی نام، وہی سلام اور وہی کام۔۔۔ وہی تیر، وہی کمان۔لیکن اس بار یہ سوال عام ہے کہ دھرنا کیوں ہوا؟ نہ سول ملٹری تناؤ، نہ پنڈی اسلام آباد میں کچھاؤ، منتوں مرادوں سے لائی گئی ایک صفحے کی حکومت، ایک بیانیہ اور ایک تحریر۔ پھر یہ دھرنا کیوں کر ہوا؟ تاہم چوبیس گھنٹوں بعد ہی فیض آباد دھرنا کے خاتمے سے عاصمہ شیرازی کے سوال کا جواب مل جاتا ہے۔ شاید سرکس ماسٹرز چیک کرنا چاہتے تھے کہ اگر مستقبل قریب میں ایک بڑے حکومت مخالف دھرنے کی ضرورت پڑ جائے تو ان کے لبیک کہنے والے شیروں میں کتنا دم خم موجود ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button