2019میں کراچی کے ہسپتالوں میں جنسی استحصال کے 545 واقعات

سال 2019 میں شہر قائد کے 3 بڑے ہسپتالوں میں جنسی استحصال کے 545 واقعات رپورٹ کیے گئے۔
حکام اور حاصل کردہ اعداد و شمار کے مطابق مذکورہ جنسی استحصال کے کیسز کے 417 مشتبہ افراد کو بھی طبی معائنے کے لیے جناح پوسٹ گریجویٹ میڈیکل سینٹر، ڈاکٹر رتھ فاؤ سول ہسپتال کراچی اور عباسی شہید ہسپتال لائے گئے۔ان 3 ہسپتالوں کے اعداد و شمار میں یہ انکشاف سامنے آیا کہ سال کے دوران 407 خواتین ریپ کی متاثرہ تھیں جبکہ دیگر 138 بدفعلی کے کیسز تھے۔ادھر پولیس سرجن ڈاکٹر قرار احمد عباسی نے یہ مشاہدہ کیا کہ ‘آہستہ آہستہ ماضی کے مقابلوں میں جنسی استحصال کے واقعات میں اضافہ ہوا ہے’۔
علاوہ ازیں 3 ہسپتالوں کے اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ شہر میں سال 2013 سے 2019 کے درمیان 2500 ریپ کیسز اور 593 بدفعلی کے کیسز رپورٹ ہوئے۔
اعداد و شمار کے مطابق 2013 میں 325 ریپ کیسز، 2014 میں 324، 2015 میں 342، 2016 میں 360، 2017 میں 331، 2018 میں 411 اور 2019 میں 407 ریپ کیسز رپورٹ ہوئے۔
علاوہ ازیں مذکورہ ریپ کیسز میں ایک ہزار 709 مشتبہ افراد اور بدفعلی کے کیسز میں 454 مشتبہ افراد کو طبی معائنے کے لیے ہسپتال بھی لایا گیا۔
دوسری جانب ڈاکٹر قرار احمد عباسی کا کہنا تھا کہ شہر قائد میں آتشی اسلحہ اور بم دھماکوں کے متاثرین میں ماضی کے مقابلے میں نمایاں کمی ہوئی اور ہسپتال کے ریکارڈ کے مطابق 2019 میں دھماکے کے متاثرین کا کوئی کیس ریکارڈ نہیں کیا گیا۔تاہم اس بات کی نشاندہی کی گئی کہ آتشی اسلحہ سے ہلاک ہونے والے 249 افراد کو پوسٹ مارٹم کے لیے ان تینوں ہسپتال کے مردہ خانے میں لایا گیا۔اسی عرصے کے دوران ایک ہزار ایک سو 58 افراد کو گولی لگی اور وہ زخمی ہوئے اور انہیں علاج کے لیے ہسپتالوں میں لایا گیا۔ ڈاکٹر قرار احمد کا کہنا تھا کہ گولی لگنے سے ہلاک ہونے والوں کی تعداد کچھ زیادہ ہوسکتی ہے جبکہ ایک ہزار 158 زخمیوں میں سے بھی کچھ دوران علاج ہوسکتا ہے موت کا شکار ہوگئے ہوں۔
واضح رہے کہ بعض اوقات اہل خانہ پوسٹ مارٹم کی رپورٹ حاصل کرنا نہیں چاہتے اور وہ قانونی تقاضوں کو پورا کیے بغیر ڈاکٹروں کی اجازت کے بغیر لاش کو لے جاتے ہیں۔
اس حوالے سے 7 برسوں (2013 سے 2019) کے پولیس سرجن کے اعداد و شمار کو دیکھیں تو صوبائی دارالحکومت میں 7 ہزار 301 افراد فائرنگ سے ہلاک ہوئے۔تاہم سال بہ سال میں ان متاثرین میں واضح کمی دیکھی گئی اور اعداد و شمار کے مطابق 2013 میں 2 ہزار 191، 2014 میں 2 ہزار 29، 2015 میں ایک ہزار 247، 2016 میں 675، 2017 میں 601، 2018 میں 309 اور 2019 میں 249 افراد آتشی اسلحہ سے متاثر ہوئے۔اس کے علاوہ 7 برسوں میں 767 افراد ایسے بھی تھے جنہیں سخت، تیز دھار آلے سے قتل کیا گیا۔
اسی طرح پولیس سرجن کے اعداد و شمار کے مطابق شہر میں بم دھماکوں سے ہلاک افراد کی تعداد میں بھی نمایاں کمی واقع ہوئی۔انہوں نے بتایا کہ 2019 میں بم دھماکے کا کوئی متاثرہ فرد کا کیس رپورٹ نہیں کیا گیا۔اعداد و شمار کے مطابق 2013 میں 136، 2014 میں 55، 2015 میں 23، 2016 میں 39، 2017 میں 7 اور 2018 میں 15 افراد دھماکوں میں ہلاک ہوئے۔
