2022 میں کون سا جرنیل نیا آرمی چیف بننے والا ہے؟


پاک فوج میں ڈی جی آئی ایس آئی سمیت کئی کور کمانڈر کی حالیہ تبدیلیوں کے بعد اب اہم ترین تقرری نومبر 2022 میں جنرل قمر جاوید باجوہ کی ریٹائرمنٹ پر انکے متبادل کی ہے جو کہ موجودہ حکومت کے مستقبل کے لئے اہم ترین خیال کی جاتی ہے۔ یاد رہے کہ آئین کے تحت آرمی چیف کا تقرر وزیر اعظم کرتا ہے اور اگر کوئی انہونی نہ ہوئی تو نومبر 2022 میں عمران خان ہی اس عہدے پر براجمان ہوں گے۔
اس سے پہلے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کو نومبر 2019 میں عمران حکومت کی جانب سے تین سال کی توسیع دی گئی تھی جس کے بعد اب آئندہ برس 29 نومبر 2022 کو ان کے عہدے کی مدت مکمل ہو جائے گی۔ جنرل باجوہ کو توسیع دینے کی وجہ تب کے ’علاقائی سکیورٹی حالات‘ بتائے گئے تھے۔ خیال رہے کہ ان دنوں بھارت نے مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کر دی تھی جس کے بعد انڈیا اور پاکستان کے مابین تعلقات کشیدہ ہوگئے تھے جن کو وجہ بنا کر جنرل باجوہ کے عہدے میں توسیع کا فیصلہ کیا گیا تھا۔ 2022 میں اس خطے میں سکیورٹی صورت حال کیا ہو گی اور کیا جنرل باجوہ کو دوبارہ عہدے میں توسیع ملے گی یا نہیں، اس حوالے سے ابھی کچھ کہنا قبل از وقت ہوگا، لیکن نئے فوجی سربراہ کے حوالے سے قیاس آرائیاں آئی ایس آئی کے سربراہ کی تعیناتی کے ساتھ ہی شروع ہو گئی تھیں۔
معروف دفاعی تجزیہ کار مونا خان انڈیپنڈنٹ اردو میں لکھتی ہیں کہ نئے آرمی چیف کی تعیناتی کے لیے سینیارٹی فہرست میں مختلف نام ہیں۔
جولائی 2023 میں لیفٹیننٹ جنرل معظم اعجاز اپنے عہدے سے ریٹائر ہو جائیں گے۔ وہ اس وقت جی ایچ کیو میں انجینیئر ان چیف کے طور پر فرائض سرانجام دے رہے ہیں۔ اس کے بعد سینیارٹی فہرست میں چھ لیفٹیننٹ جنرلز ہیں جنہوں نے 30 ستمبر 2022 کو ریٹائر ہونا ہے۔ ان چھ میں سے چار لیفٹینیٹ جنرلز 30 ستمبر کو ہی ریٹائر ہوں گے جبکہ تکنیکی تبدیلی کی وجہ سے لیفٹیننٹ جنرل وسیم اشرف 11 نومبر کو ریٹائر ہوں گے۔
اس کے علاوہ لیفٹیننٹ جنرل عاصم منیر احمد، جو پہلے کور کمانڈر گوجرانوالہ اور حال ہی میں کوارٹر ماسٹر جنرل کے عہدے پر تعینات ہوئے ہیں، ان کی عہدے سے ریٹائرمنٹ 30 ستمبر کو تھی لیکن کچھ تکنیکی تبدیلی اور تاخیر سے ان کو تھری سٹار کا رینک 27 نومبر 2018 میں لگایا گیا جس وجہ سے ان کے عہدے کی مدت 27 نومبر 2022 کو مکمل ہو گی۔
لیفٹیننٹ جنرل عاصم منیر کو ستمبر 2018 میں میجر جنرل سے لیفٹیننٹ جنرل کے عہدے پر ترقی دی گئی۔ تب وہ ڈائریکٹر جنرل ملٹری انٹیلی جنس تھے جبکہ 25 اکتوبر کو انہیں ڈی جی آئی ایس آئی تعینات کر دیا گیا تھا۔ وہ 16 جون 2019 تک اس عہدے پر رہے جن کی جگہ بعد میں لیفٹینٹ جنرل فیض حمید نے لے لی تھی۔
عسکری ذرائع کا کہنا ہے کہ اگلے برس نئے آرمی چیف کے لیے سینیارٹی لسٹ میں لیفٹیننٹ جنرل عاصم منیر کا نام بھی آ سکتا ہے کیونکہ جب نومبر کے پہلے ہفتے میں جنرل قمر جاوید باجوہ کی جانب سے بذریعہ وزارت دفاع اپنے متبادل کے نام بھجوائے جائیں گے تب سینیارٹی لسٹ میں لیفٹیننٹ جنرل عاصم منیر پہلے نمبر پر ہوں گے کیونکہ ان کی ریٹائرمنٹ 27 نومبر کو ہونا ہے۔ اس معاملے کا دلچسپ پہلو یہ ہے کہ عاصم منیر آرمی چیف کی طرف سے نام بھیجنے کے وقت تو اہل ہوں گے، لیکن اگر ان کو منتخب کیا جاتا ہے تو ان کی مدتِ ملازمت تین دن پہلے ہی ختم ہو جائے گی۔
عسکری ذرائع نے اس معاملے پر بتایا کہ موجودہ طریقہ کار یہی ہے کہ جانے والا آرمی چیف سینیارٹی فہرست میں سے پہلے تین یا پہلے پانچ نام ان کی اہلیت کی جانچ کرنے کے بعد وزارت دفاع کے ذریعے وزیراعظم کو بھجواتا ہے۔ ہر نام کے ساتھ اس کی اہلیت اور مثبت اور منفی پہلو درج ہوتے ہیں۔ یہ لسٹ موصول ہونے پر وزیراعظم ان ناموں میں سے ایک نام چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف جبکہ ایک نام آرمی چیف کے عہدے کے لیے منتخب کر لیتے ہیں۔ اگر سبکدوش ہونے والے آرمی چیف کسی کی سفارش کرنا چاہیں تو اس کا اضافی نوٹ بنایا جاتا ہے لیکن حتمی اختیار اور منظوری وزیراعظم کی ہوتی ہے۔ تاہم ماضی میں جنرل ضیا الحق اور جنرل پرویز مشرف کی تعیناتی کے وقت تب کے وزرائے اعظم نے سنیارٹی لسٹ سے ہٹ کر اپنی مرضی سے نئے آرمی چیف کا انتخاب کیا۔ یہ اور بات کہ ذوالفقار علی بھٹو اور نواز شریف دونوں کے فیصلے غلط ثابت ہوئے اور دونوں کو فوجی بغاوت کے بعد گھر جانا پڑا۔
متعلقہ حلقوں کا کہنا ہے کہ عمومی طور پر آرمی چیف کی تقرری کا طریقہ کار یہی ہے کہ سینیئر ترین افسران کے نام ہی زیر غور آتے ہیں، لیکن اگر وزیراعظم لسٹ میں چار پانچ ناموں سے مطمئن نہیں ہوتے تو یہ اُن کی صوابدید ہے کہ وہ مزید نام منگوا لیں۔ لیکن یہ صوابدیدی اختیار ہے اس کو پروسیجر نہیں کہا جا سکتا۔ پروسیجر اور طریقہ کار یہی ہے کہ سب سے سینئر افسران کے نام ہی نئے آرمی چیف کے لیے زیر غور آتے ہیں۔عمومی طور پر نومبر کے پہلے ہفتے میں نام وزیراعظم آفس بھیجے جاتے ہیں جس کے بعد 25 یا 26 نومبر تک تقرری کا اعلامیہ جاری ہوتا ہے۔ اعلیٰ عسکری ذرائع کے مطابق سینیارٹی کے لحاظ سے پہلے نمبر پر لیفٹینٹ جنرل عاصم منیر احمد اور دوسرے پر کور کمانڈر راولپنڈی لیفٹیننٹ جنرل ساحر شمشاد ہیں۔ تیسرے نمبر پر لیفٹیننٹ جنرل اظہر عباس جو اس وقت چیف آف جنرل سٹاف تعینات ہیں۔ چوتھے نمبر پر لیفٹیننٹ جنرل نعمان محمود جو پہلے کور کمانڈر پشاور تعینات تھے اور اب ان کو نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی میں صدر تعینات کیا گیا ہے۔ پانچویں نمبر پر لیفٹیننٹ جنرل فیض ہیں حمید جو اس وقت ڈی جی آئی ایس کے عہدے پر تعینات ہیں لیکن بیس نومبر سے وہ پشاور کی کور کمانڈ کریں گے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ اگر لیفٹیننٹ جنرل عاصم منیر کے رینکس وقت پر لگتے اور ان کی ریٹائرمنٹ ستمبر 2022 میں ہوتی تو لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید سینیارٹی لسٹ میں چوتھے نمبر پر تھے، لیکن تکنیکی تبدیلی کی وجہ سے یہ نئی صورت حال پیدا ہو گئی ہے۔
یہاں یہ سوال بھی پیدا ہوتا ہے کہ جب آرمی چیف کے لیے نام بھجوائے جائیں گے تو کیا تب کور کمانڈ کرنے کے لیے ایک سال کی مدت پوری ہونا ضروری ہے؟ ذرائع نے تصدیق کی کہ پہلے صرف یہ ضروری تھا کہ آرمی چیف بننے کے لیے کور کمانڈ کرنا لازم تھا لیکن مدت واضح نہیں تھی۔ لیکن اب آرمی چیف جنرل قمر باجوہ نے رولز میں ترامیم کرتے ہوئے واضح کر دیا ہے کہ آرمی چیف کی اہلیت کے لیے کم از کم ایک سال کی کور کمانڈ کرنا لازمی ہے۔ انہوں نے لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید کے حوالے سے سوال پوچھنے پر بتایا کہ جس وقت نئے آرمی چیف کے لیے نام بھیجے جائیں گے تب کسی جرنیل کے لیے ایک سال سے کچھ ہفتے کم بھی پڑ جائیں تو کوئی خاص فرق نہیں پڑے گا کیونکہ لازم یہ ہے کہ جب آرمی چیف کی تعیناتی کا اعلان ہو تو اس سے قبل کور کمانڈ کرنے کی ایک سال کی مدت پوری ہو چکی ہو۔ لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید کو اگر اس دوران کہیں اور تبدیل نہیں کیا جاتا تو وہ 20 نومبر 2022 کو پشاور کور کمانڈ کرنے کی مدت مکمل کر لیں گے۔ نئے آرمی چیف کے ناموں پر قیاس آرائیاں اپنی جگہ مگر اس وقت اسلام آباد میں یہ افواہیں بھی گردش کر رہی ہیں کہ شاید اس کی نوبت ہی نہ آئے اور جنرل باجوہ کو نومبر 2022 میں ایک اور توسیع مل جائے۔ پاکستان میں یہ کوئی انوکھی بات نہیں ہو گی کیوںکہ جنرل پرویز مشرف تین بار توسیع لے چکے ہیں۔
البتہ 2020 میں آرمی ایکٹ میں تبدیلی کر کے آرمی چیف کی عمر کی زیادہ سے زیادہ حد 64 برس مقرر کر دی گئی ہے، جس کا مطلب یہ ہے کہ جنرل باجوہ کو اگر توسیع ملی بھی تو وہ تین سال پورے نہیں کر سکیں گے اور نومبر 2024 میں 64 برس کی عمر تک پہنچنے کے بعد ریٹائر ہو جائیں گے۔ تاہم اب دیکھنا یہ ہے کہ نومبر 2022 میں وزیراعظم عمران خان برسراقتدار ہوں گے یا نہیں اور کیا وہ جنرل باجوہ کو ایک اور توسیع دیں گے یا جنرل فیض حمید کو نیا آرمی چیف بنا دیں گے؟

Back to top button