2024 کے انتخابات مشکوک ہوئے تو ’رنڈ رونا‘ پھر سے چلے گا؟

بدقسمتی سے پاکستان میں ہر عام انتخابات کی اگلی صبح ایک کے سوا باقی تمام سیاسی جماعتیں بیوہ عورتوں کی طرح آہ و بکا کرتی نظر آتی ہیں کہ ہائے! میں لٹی گئی۔ ان کی چیخ پکار، رونا پیٹنا، اپنے سر پر دوہتھڑ مارنا بے جا بھی نہیں ہوتا۔ ہمارے ہاں کبھی صاف و شفاف عام انتخابات نہیں ہوئے،8 فروری 2024 کے عام انتخابات کے نتائج مشکوک ہوئے تو ’رنڈ رونا‘ پھر سے چلے گا، اگلی حکمران جماعت کو اس آہ و بکا کا سامنا کرنا پڑے گا۔ یہ سیاپا ملک کو سیاسی عدم استحکام سے دوچار رکھے گا .ان خیالات کا اظہار سیا سی تجزیہ کار عبید الله عابد نے اپنے ایک کالم میں کیا ہے . وہ لکھتے ہیں کہ جو لوگ ’رنڈ رونا‘ لفظ سن کر چونکیں، اسے غلط خیال کریں اور ’رنڈی رونا‘ کو درست سمجھیں، ان کے لیے عرض ہے کہ فرہنگ آصفیہ سمیت ہر اردو لغت میں لفظ ’رنڈ رونا‘ ہی لکھا ہے۔ ہاں! بعض میں ’رانڈ رونا‘ ہے۔ مطلب یہ ہے کہ بیوہ عورتوں کی طرح رونا۔ عبید الله عابد کہتے ہیں کہ چیف جسٹس پاکستان نے 8 فروری 2024 ہی کو پاکستان میں عام انتخابات کا انعقاد یقینی بنانے کے لیے کوئی کسر باقی نہیں چھوڑی، وہ تمام دروازے، رخنے بند کردیے ہیں جہاں سے انعقاد معرض التوا میں ڈالنے کی کوششیں ہوتی تھیں، میڈیا پرسنز کو بھی ایک لطیف انداز میں حکم دیا ہے کہ :’ کسی میڈیا والے کو انتخابات پر شبہات ہیں تو عوام میں نہیں بولے گا ہاں مگر اپنی بیوی کو بتا سکتا ہے‘۔ اس تناظر میں اب ماننا پڑے گا کہ پاکستان میں عام انتخابات 8 فروری 2024 کو ہوں گے۔ جن لوگوں کے ذہنوں میں شکوک و شبہات اب بھی کلبلا رہے ہیں، وہ جانیں اور ان کی بیگمات جانیں۔ البتہ ایک نکتہ پر شکوک و شبہات ظاہر کرنے پر محترم چیف جسٹس نے پابندی عائد نہیں کی کہ کیا عام انتخابات 2024 صاف و شفاف ہوں گے؟ کیا تمام سیاسی جماعتوں کو عام انتخابات میں شریک ہونے کے یکساں مواقع میسر ہوں گے؟ یہ ایسے سوالات ہیں، جن کا جواب ’ہاں‘ میں ہونا ضروری ہے، بہ صورت دیگر پاکستان میں وہی ’رنڈ رونا‘ پڑا رہے گا جو گزشتہ پون صدی میں دیکھتے رہے ہیں۔ عمومی طور پر خیال کیا جاتا ہے کہ بس! ایک ہی بار 1970 میں عام انتخابات شفاف انداز میں ہوئے۔ ایسا سمجھنے والے بھول جاتے ہیں کہ تب بھی تمام سیاسی جماعتوں کو عام انتخابات میں شرکت کے یکساں مواقع حاصل نہیں تھے۔ اس دور کے صحافی عینی شاہد ہیں کہ ملک کے مختلف حصوں میں مختلف سیاسی گروہوں نے کسی دوسرے کو انتخابی مہم چلانے نہیں دی ذوالفقار علی بھٹو نے انتخابی نتائج تسلیم کرنے سے انکار کردیا۔ اور پھر ’اُدھر تم، ادھر ہم‘ کا فارمولا پیش کرکے مشرقی اور مغربی پاکستان کے درمیان اتحاد کا آخری تار بھی کاٹ دیا۔ عبید الله عابد بتاتے ہیں کہ اگلے پانچ برس بعد جب بچے کھچے پاکستان میں عام انتخابات ہوئے، انہی ذوالفقار علی بھٹو پر الزام عائد ہوا کہ انھوں نے بلامقابلہ منتخب ہونے کے چکر میں اپنے مخالف امیدوار کو اغوا کروا لیا تھا کہ وہ انتخابی کاغذات ہی جمع نہ کرا سکے۔ 1977 کے انتخابی نتائج نے ملک کو ایک نئے اور طویل ترین مارشل لا سے دوچار کیا۔ 8 فروری 2024 کے عام انتخابات سے پہلے پاکستان تحریک انصاف کی طرف سے خدشہ ظاہر کیا جارہا ہے کہ اسے دیگر سیاسی جماعتوں کی طرح انتخابات میں شرکت کے یکساں مواقع نہیں ملیں گے۔ پانچ برس قبل مسلم لیگ ن کی طرف سے کچھ ایسی ہی باتیں سامنے آئی تھیں۔ البتہ اس بار مسلم لیگ ن مطمئین سی نظر آ رہی ہے۔ اس کے چہرے پر موجود اطمینان بلکہ فرحت و بشاشت دیکھتے ہوئے کچھ سیاسی حلقے اسٹیبلشمنٹ اور مسلم لیگ ن کے درمیان ڈیل کی باتیں کرتے ہیں۔ اس ڈیل کا متن کچھ یوں ہے کہ جیسا کھیل کا میدان 2018 میں عمران خان کے لیے تیار کیا گیا، ویسا ہی میدان ہمیں دیا جائے۔ عبید الله عابد کے مطابق بلا شبہ شہباز شریف کی ڈیڑھ سالہ کارکردگی نے عوام میں مسلم لیگ ن کی مقبولیت کو اپریل 2021 کی نسبت بہت کم کیا ہے۔ ان کے عوام دشمن المعروف ’غیر مقبول‘ فیصلوں کے اسباب کچھ بھی ہوں، بہرحال مسلم لیگ ن کی مقبولیت کا گراف بہت نیچے گیا اور اپریل 2021 میں خاصے غیر مقبول عمران خان واپس مقبول ہوئے۔ شاید یہی وجہ ہے وہ نوں لیگ نے وہ مبینہ ڈیل کی ہے جسے ملک و قوم کے وسیع تر مفاد میں بتایا جارہا ہے۔ حاصل کلام یہ ہی ہے کہ اگلی ممکنہ حکمران جماعت کو چاہیے کہ وہ انتخابی مہم میں قوم سے ایسے پرکشش وعدے کرے کہ قوم اسے بھرپور اعتماد بخشے اور پھر وہ حکومت سنبھالتے ہی پہلے 100 دنوں میں عوام کو ایسا ریلیف فراہم کرے کہ وہ اگلے پچھلے سارے سیاپے بھول جائے۔ حکمران جماعت اقتدار سنبھال کر اپنا الگ ہی رنڈ رونا نہ جاری رکھے کہ عمران خان کے ساڑھے تین سالہ اقتدار کے اثرات اب بھی موجود ہیں، اس لیے وہ عوام کو کچھ غیرمعمولی ریلیف دینے کے قابل نہیں،
اگر ایسا ہوا تو عمران خان مقبول رہے گا اور ملک سیاسی عدم استحکام سے دوچار رہے گا۔
