کیا نیب آرڈیننس میں 120 روز کی توسیع سیاسی انجینیئرنگ ہے؟

عام انتخابات سے صرف چند ماہ قبل نیب آرڈیننس میں 120 دن کی توسیع نے قومی دھارے کی سیاسی جماعتوں میں ہلچل مچا دی ہے۔ سیاسی جماعیتں جہاں اسے انتخابی دھاندلی کا ایک ہتھکنڈہ قرار دے رہی ہیں وہیں پاکستان پیپلز پارٹی، پاکستان تحریک انصاف اور نیشنل پارٹی کے رہنماؤں نے اس پیشرفت کو ملک میں جمہوریت کو کمزور کرنے کی ایک کوشش قرار دیا ہے۔
واضح رہے کہ قومی احتساب ترمیمی آرڈیننس 2023ء کو جولائی میں سینیٹ کے چیئرمین صادق سنجرانی نے اس وقت کے وزیراعظم شہباز شریف کے مشورے کے بعد قائم مقام صدر کی حیثیت سے نافذ کیا تھا۔ صدر عارف علوی اس موقع پر سعودی عرب میں تھے۔ اس آرڈیننس کے مطابق ایک ملزم کو جسمانی ریمانڈ میں 14 دن کے بجائے 30 دن تک زیر حراست رکھا جا سکتا ہے۔یہ آرڈیننس چیئرمین نیب کو عدم تعاون پر کسی بھی ملزم کے خلاف وارنٹ گرفتاری جاری کرنے اور اسے انکوائری کے مرحلے پر ہی گرفتار کرنے کا اختیار بھی دیتا ہے۔
نیب آرڈیننس میں توسیع بارے پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما اور سابق سینیٹر فرحت اللہ بابر کا کہنا ہے کہ نیب کو ہمیشہ سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کیا گیا ہے اور ایسا لگتا ہے کہ اس توسیع کے ذریعے انتخابات پر اثر انداز ہونے کی کوشش کی جائے گی۔ انہوں نے ڈی ڈبلیو کو بتایا، ”نیب ہمیشہ سے ہی ریاستی عناصر کا ایک ایسا آلہ کار رہا ہے، جس کو سیاسی جوڑ توڑ کے لیے استعمال کیا گیا ہے۔ اب انتخابات سے صرف چند مہینے پہلے اس طرح کی توسیع کا مقصد صاف یہ نظر آ رہا کہ کچھ عناصر انتخابات پر اثر انداز ہونا چاہتے ہیں۔‘‘فرحت اللہ بابر کا کہنا تھا کہ یہ توسیع سیاست دانوں کی خواہش نہیں لگتی، ”ایسا لگتا ہے کہ ریاست کے طاقتور عناصر اس کے پیچھے ہیں اور یقیناﹰ اس توسیع سے جمہوری عمل کو نقصان پہنچا ہے کیونکہ جمہوری نظام میں آرڈیننس قانون سازی کا انتہائی کمزور طریقہ ہوتا ہے اور میرے خیال میں اس کمزور طریقے کو استعمال کرنے کی کوئی توجیح نہیں ہے۔‘‘
دوسری جانب نیشنل پارٹی کے رہنما سینیٹر محمد اکرم کا کہنا ہے سیاست دان ماضی سے سیکھنے کی کوشش نہیں کرتے۔ ”آج انہوں نے نیب آرڈیننس میں توسیع کی اس لیے حمایت کی ہے کہ بظاہر اس کو پاکستان تحریک انصاف کے خلاف استعمال کیا جائے گا لیکن کل اگر پیپلز پارٹی اور نون لیگ کے خلاف کوئی قانون سازی ہو گی تو پھر اس کو پی ٹی آئی سپورٹ کرے گی۔‘‘ سینیٹر محمد اکرم کے مطابق سیاست دانوں کو ہر اس قانون کی مخالفت کرنا چاہیے، جو ان کے خلاف استعمال ہوتا ہے۔ انہوں نے کہا، ”صرف سیاسی مخالفت کی بنیاد پر کسی غیر دانشمندانہ قانون سازی کی حمایت نہیں کرنا چاہیے۔‘‘
دوسری جانب پاکستان تحریک انصاف کا کہنا ہے کہ نیب آرڈیننس میں توسیع سپریم کورٹ کے فیصلوں کے خلاف ہے اور مکمل طور پر غیر آئینی ہے۔ پاکستان تحریک انصاف کے سینیٹر سید علی ظفر نے کہا کہ سپریم کورٹ پہلے ہی نیب آرڈیننس میں ہونے والی ترامیم کو غیر آئینی قرار دے چکی ہے، ایسے میں سینٹ کس طرح ایسی قرارداد پاس کر سکتا؟پاکستان تحریک انصاف سے تعلق رکھنے والے وکیل شعیب شاہین کے بقول اس توسیع کا مقصد یہ ہے کہ تحریک انصاف کے رہنماؤں کو وفاداریاں تبدیل کرنے پر مجبور کیا جائے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ”ہمارے خیال میں یہ توسیع بالکل غیر آئینی ہے اور اس کا بنیادی مقصد پاکستان تحریک انصاف کے ان رہنماؤں کو توڑنا ہے، جو پارٹی سے وفادار ہیں۔‘‘شعیب شاہین کے مطابق اگر یہ آرڈیننس اتنا اچھا ہے، تو توسیع کی جگہ نیا قانون لایا جائے، ”لیکن ن لیگ کو پتہ ہے کہ اگر ایسی توسیع قانون کی شکل میں بن کر مسقل طور پر آتی ہے تو کل وہ ان کے گلے بھی پڑے گی۔ اس لیے وہ صرف ایک سو بیس دن کے لیے یہ قانون طاقتور عناصر کے اشارے پر چاہتے ہیں تاکہ صرف پی ٹی آئی کو ٹارگٹ کیا جائے۔‘‘
تاہم دوسری جانب نون لیگ کے رہنما اور سابق وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ کا کہنا ہے کہ یہ تاثر بالکل غلط ہے کہ یہ غیر آئینی توسیع ہے۔”آپ آئین کے آرٹیکل نواسی کا چوتھا حصہ پڑھ لیں۔ اس میں یہ بات بڑی واضح ہے کہ حکومت صرف ایک دفعہ کوئی آرڈیننس نافذ کر سکتی ہے۔ اس کے بعد دونوں ایوانوں میں سے کوئی ایک ایوان ایک مرتبہ اس میں توسیع کر سکتا ہے۔‘‘ ان کا دعوی تھا کہ پی ٹی آئی نے صرف زبانی جمع خرچ کیا ہے جبکہ سینیٹ میں انہوں نے اس بل کی حمایت کی ہے۔
