ثاقب نثار کے ہاتھوں عمران اہل اور ترین نااہل کیوں قرار پائے؟

15 دسمبر 2017 کو سپریم کورٹ کی جانب سے اثاثے چھپانے کے ایک جیسے الزامات پر تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان کو اہل اور سیکریٹری جنرل جہانگیر ترین کو نااہل قرار دینے کا معمہ اس انکشاف کے بعد حل ہو گیا ہے کہ انہیں جنرل قمر باجوہ اور جنرل فیض حمید نے چیف جسٹس ثاقب نثار سے این آر اور دلوایا اور صادق اور امین قرار دلوایا تھا، سینئر صحافی جاوید چوہدری نے جنرل باجوہ سے چھ گھنٹے کی ملاقات کے بعد یہ انکشاف کرتے ہوئے مزید بتایا کہ لیگی رہنما حنیف عباسی کی جانب سے پی ٹی آئی چیئرمین اور سیکرٹری جنرل کے خلاف دائر کردہ درخواستوں پر جسٹس ثاقب نثار، جسٹس عمر عطا بندیال اور جسٹس فیصل عرب نے جو فیصلہ سنایا وہ دراصل دو سینئر وکلاء نے لکھا تھا جنہیں آئی ایس آئی کے ڈی جی کاؤنٹر انٹیلی جینس فیض حمید نے یہ فریضہ سونپا تھا۔
اس عدالتی فیصلے نے لوگوں کو حیران کر دیا تھا چونکہ جہانگیر ترین پر بھی اثاثے چھپانے کا الزام تھا اور عمران پر بھی، لیکن ایک کو سیاست سے آؤٹ کر دیا گیا اور دوسرے کو بخش کر وزیراعظم بنا دیا گیا، جہانگیر ترین نے اس عدالتی فیصلے کے خلاف انٹرا کورٹ اپیل بھی دائر کی تھی لیکن اسے بھی مسترد کر دیا گیا تھا۔ جاوید چوہدری کے مطابق سابق چیف جسٹس ثاقب نثار نے فوجی اسٹیبلشمنٹ کو بتایا تھا کہ کیونکہ حنیف عباسی کی پٹیشن بہت تگڑی ہے لہٰذا انہیں دونوں میں سے کسی ایک کو نااہل کرنا پڑے گا، چنانچہ جہانگیر ترین کا انتخاب کیا گیا۔
یاد رہے کہ عمران خان اور جہانگیر ترین کے خلاف لیگی رہنما حنیف عباسی کی درخواستوں کی سماعت کے دوران عمران خان کے وکیل نے تسلیم کیا تھا کہ اُن کے موکل کی طرف سے لندن والی آف شور کمپنی نیازی سروسز کو اثاثوں میں ظاہر نہ کرنا ایک غلطی تھی۔ تاہم ایسا جان بوجھ کر نہیں کیا گیا۔ عدالت نے کمال محبت سے اس جرم کو غلطی تسلیم کر لیا اور خان کو جانے دیا کیونکہ اس کی سفارش جنرل باجوہ اور جنرل فیض حمید نے کی تھی۔ یہ ان دنوں کی بات ہے جب دونوں پراجیکٹ عمران کی بنیاد رکھ رہے تھے تاہم عمران کو وزیراعظم بنوانے کے بعد باجوہ اور فیض کا بنایا ہوا ہائبرڈ نظام حکومت زمین بوس ہوگیا جس کا خمیازہ آج پوری پاکستانی قوم بھگت رہی ہے۔
یاد رہے کہ اثاثہ جات کیس میں عمران خان اپنی بنی گالہ رہائش گاہ کی ملکیت کے حوالے سے بری طرح پھنس چکے تھے لیکن انہیں این آر او دے دیا گیا۔ عمران خان نے اپنے گوشواروں میں کہا تھا کہ گھر کے لیے زمین انھیں جمائما خان نے تحفتاً دی لیکن بعد میں انھوں نے موقف بدل کر کہا کہ زمین انھوں نے خود خریدی ہے۔ اس کے بعد عمران نے کہا کہ ایک تیسرا موقف اپنایا کہ انھوں نے 300 ایکڑ پر محیط زمین خریدنے کے لیے اپنی بیوی جمائما سے پیسے قرض کے طور پر لیے تھے جو انہوں نے لندن والا فلیٹ فروخت کر کے واپس کر دیے تھے۔ جسٹس ثاقب نثار اور عمر عطا بندیال نے کمال محبت سے عمران کے سارے جھوٹ بطور سچ تسلیم کر لیے اور یوں موصوف نااہلی سے بچ گئے۔
سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں قرار دیا کہ اثاثہ جات کے مطابق عمران خان کی کوئی بدنیتی ثابت نہیں ہوتی، بنی گالا کی جائیداد عمران خان کی ملکیت ہے، جو انہوں نے بیوی اور بچوں کے لئے خریدی، اس کیلئے انہوں نے جمائما سے قرض لیا، قرض کی رقم واپسی کے شواہد بھی عدالت میں دیئے گئے۔
چیف جسٹس نے کسی کے لکھے ہوئے فیصلے میں کہا کہ عمران خان ‘نیازی سروسز’ کے شیئر ہولڈر یا ڈائریکٹر نہیں تھے، عمران نے فلیٹ ایمنسٹی سکیم میں ظاہر کر دیا تھا، اس کے علاوہ سپریم کورٹ نے تحریک انصاف غیر ملکی فنڈنگ کا معاملہ الیکشن کمیشن کو بھیج دیا۔ عدالت نے کہا کہ غیر ملکی فنڈنگ کا معاملہ صرف وفاقی حکومت دیکھ سکتی ہے، یوں عمران کے خلاف ن لیگ کے رہنما کی درخواست خارج کردی گئی۔
تاہم دوسری جانب انصاف کا دوہرا معیار بناتے ہوئے پی ٹی آئی سیکرٹری جنرل جہانگیر خان ترین کی قربانی دینے کا فیصلہ کیا گیا، سپریم کورٹ نے ترین کو آرٹیکل 62 ون ایف کے تحت تاحیات نااہل قرار دے دیا، عدالت عظمیٰ نے قرار دیا کہ انہوں نے جائیداد خریدنے کے لئے 50 کروڑ روپے باہر منتقل کئے، رقم کی یہ منتقلی جہانگیر ترین کو آف شور کمپنی کا بینیفشری ظاہر کرتی ہے، انہوں نے آف شور کمپنی اور اثاثے چھپا کر کاغذات نامزدگی میں غلط بیانی کی، جس پر انہیں ایماندار قرار نہیں دیا جا سکتا۔
حنیف عباسی نے الزام لگایا تھا کہ جہانگیر ترین نے کھلے عام تسلیم کیا ہوا ہے کہ ان کے بچوں کے کاروبار اور برطانیہ میں جائیداد کے لیے ایک آف شور کمپنی ہے۔ عباسی نے کہا کہ ترین اپنے بچوں سے بھاری رقوم وصول کرتے ہیں، اس طرح وہ ظاہراً برطانیہ میں کاروبار اور جائیداد کے ‘بینیفشل اونر’ ہیں اور ان اثاثوں کا انھوں نے نہ ٹیکس گوشواروں میں اور نہ ہی الیکشن کمیشن کے سامنے ذکر کیا۔
سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں لکھا کہ آف شور کمپنی شائنی ویو لمیٹڈ لندن میں بارہ ایکڑ پر مبنی پراپرٹی ‘ہائیڈ ہاؤس’ کی مالک ہے، لیکن اس کے اصل اور حقیقی ‘بینیفشل اونر’ جہانگیر ترین ہی ہیں۔ عدالت نے فیصلے میں لکھا کہ ترین نے اس وقت کے کرنسی ایکسچینج ریٹ کے مطابق پاکستانی روپے میں پچاس کروڑ سے زیادہ رقم منتقل کی، جو بقول جہانگیر ترین کے ’’ہائیڈ ہاؤس‘‘ کی خرید اور تعمیر کے کام آئی۔ عدالت نے لکھا کہ شائنی ویو کمپنی یا ہائیڈ ہاؤس کبھی کسی ٹرسٹ کو منتقل نہیں ہوا اور اس طرح یہ مدعا علیہ کی ہی جائیداد ہے جس کا انھوں نے 2015 میں کاغذات نامزدگی میں ذکر نہیں کیا۔ اس بنیاد پر عدالت نے کہا کہ وہ آئین اور قانون کی رو سے ‘ایماندار’ نہیں اور نا اہل قرار دیے جاتے ہیں۔
جاوید چوہدری بتاتے ہیں کہ بقول جنرل باجوہ، خان صاحب جہانگیر ترین کی نااہلی ختم کروانے میں سنجیدہ نہیں تھے لہٰذا ان کی نظر ثانی کی درخواست بھی مسترد کر دی گئی۔
