گلگت میں کروڑوں روپے کے پتھر اُگلنے والی حیران کن کان

پاکستان معدنی ذرائع سے مالا مال ملک ہے جہاں قدرتی گیس، کوئلے اور قیمتی پتھروں کے وسیع ذخائر موجود ہیں، ایسا ہی ایک بیش قیمت خزینہ وادی ہنزہ کے بالمقابل دریائے ہنزہ کے دوسری جانب واقع بادلوں سے اونچے پہاڑوں میں پنہاں ہے جوکہ صدیوں سے اپنے سینے میں قیمتی پتھر سموئے ہوئے ہیں۔ سمائر گاؤں کے رہائشی اپنی روزی روٹی انہی پتھروں سے حاصل کرتے ہیں۔ مقامی افراد کا کہنا ہے کہ ان پہاڑوں سے ہر سال کبھی 25 تو کبھی 50 کروڑ کا مال نکلتا ہے۔

13000 فٹ کی بلند و بالا اور برف کے غلاف میں لپٹی ایک چھوٹی سی پہاڑی پر بیٹھے ناصر حسین کا تعلق وادی سمائر سے ہے جو گلگت بلتستان کے ضلع نگر میں واقع ہے اور یہ وادی ہنزہ کے بالمقابل دریائے ہنزہ کے دوسری جانب واقع ہے۔ چھومر بکور انھی پہاڑوں میں موجود قیمتی پتھروں کی ایک کان ہے جو کم از کم 35 سال سے سمائر کے رہائشیوں کے رزق کا وسیلہ بنی ہوئی ہے، ناصر حسین نے بتایا کہ ’آج کے برعکس جہاں گہری کان کے اندر جا کر پتھر ڈھونڈھا جا رہا ہے، ایک زمانے میں زمین پر بیلچہ مارنے سے بھی قمیتی پتھر مل جاتا تھا۔ سمائر گاؤں سے چھومر بکور کی کان تک کا سفر کرنے کے لیے جانوروں کو استعمال کیا جاتا ہے۔ 13000 فٹ کی بلندی پر مشینری لے جا کر قیمتی پتھروں کی تلاش کی جاتی ہے۔

پچھلے 25 سال سے اس پہاڑی پر کان کن کی حیثیت سے کام کرنے والے ناصر حسین نے بتایا کہ میں نے ایک چھوٹا پتھر ایک لاکھ روپے کا لیا تھا اور بعد میں وہ پچیس لاکھ کا بکا۔ اس لیے بندہ کچھ نہیں کہہ سکتا کہ کسی پتھر کی کیا مالیت ہو گی لیکن یہاں ملنے والے پتھر اپنے سائز کے حساب سے ہزاروں سے لے کر لاکھوں روپے میں بکتے ہیں۔ چھومر بکور میں پانچ قسم کے پتھر پائے جاتے ہیں۔ ناصر حسین نے مزید سمجھانے کے انداز میں کہا کہ ’ایکوا میرین، کوارٹز، ٹوپاز، فلورائیٹ، اور ایپیٹائٹ ان پہاڑوں میں پائے جاتے ہیں۔ ناصر حسین جس کان میں کام کرتے ہیں اسکی گہرائی تقریبا 400 سے 500 فٹ ہے اور اس کے اندر جانے کے لیے کبھی کھڑے ہونا پڑتا ہے تو کبھی جھک جھک کر چلنا پڑتا ہے۔

چھومر بکور میں کان کنی کرنے والے لوگوں کا تعلق سمائر گاؤں سے ہے۔ اس پہاڑ پر صرف سمائر والے ہی کان کنی کر سکتے ہیں۔ سال کے آخر میں جب سارا مال نیچے سمائر میں لایا جاتا ہے تو اس کے لیے بھی ایک نظام بنا ہوا ہے۔ مال نکالنے، اس کی پیکنگ کرنے اور اس کو سیل کرنے کے بعد اسے سمائر میں پہنچا دیا جاتا ہے جہاں شیئر ہولڈرز ہوتے ہیں۔ پھر سال کے آخر میں جب سارے کان کن نیچے آ جاتے ہیں تو سب پتھروں کی اوپن بولی ہوتی ہے اور جو زیادہ بولی لگائے وہ مال لے جاتا ہے۔ لیکن دلچسپ بات یہ ہے کہ پہلی بولی میں صرف سمائر سے تعلق رکھنے والے ہی شریک ہو سکتے ہیں۔ اس کے بعد یہی مال ایک سے دوسرے اور دوسرے سے تیسرے ہاتھ فروخت ہوتے ہوئے گھروں یا میوزیم کی زینت بنتا ہے یا پھر بیرون ملک قیمتی پتھروں کے فیسٹیولز میں نمائش کے لیے پیش کیا جاتا ہے۔

Back to top button