حکومت نے گیس کی قیمتوں میں اضافے کی منظوری دے دی

عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کی شرط پر حکومت نے گیس کےنرخوں میں اضافے کی منظوری دے دی۔
وفاقی وزیرخزانہ اسحاق ڈار کے زیرصدارت اقتصادی رابطہ کمیٹی کے اجلاس میں گیس نرخوں میں اضافے کی منظوری دے دی گئی، ای سی سی اجلاس میں میں جنوری سے جون 2023ء تک گیس نرخوں میں اضافے کی منظوری دی گئی، قدرتی گیس نرخوں میں اضافہ گھریلو، کمرشل صارفین اور پاور سیکٹر کیلئے کیا گیا۔
وزارت خزانہ کے مطابق اجلاس میںDSSIاقدام کے تحت جی ٹوئنٹی ممالک رکن روس سے قرض مؤخر کی منظوری دی گئی، قرض مؤخر اقدام کے تحت روس سے 1 کروڑ 43 لاکھ ڈالر کا قرض مؤخر ہو گا۔
ای سی سی اجلاس میں بینظیر اِنکم سپورٹ پروگرام کیلئے 40 ارب روپے کی گرانٹ منظور کی گئی، اس موقع پر فیصلہ کیا گیا کہ بی آئی ایس پی کے تحت سیلاب متاثرین کو 25 ہزار روپے ایمرجنسی ریلیف کیلئے دیے جائیں گے۔
اس سے قبل وفاقی کابینہ نے بجلی پر سبسڈی ختم کرنے اور قیمتوں میں اضافہ کرنے کا پلان منظور کیا تھا، سرکولیشن کے ذریعے نظر ثانی سرکلر ڈیٹ مینجمنٹ پلان کی منظوری دی گئی، آئی ایم ایف پروگرام کی بحالی کیلئے شرائط پر عمل درآمد کرتے ہوئے جون تک گھریلو صارفین کیلئے بجلی 7 روپے فی یونٹ تک مہنگی ہو گی، مارچ 2023 سے برآمدی شعبے اور کسانوں کیلئے بجلی پر سبسڈی ختم کی جائے گی، برآمدی شعبے کیلئے بجلی پر 12روپے 13پیسے فی یونٹ کی سبسڈی بھی واپس لے لی جائے۔
پلان کے مطابق جون 2023 تک بجلی صارفین سے تقریباً 250 ارب روپے ریکور کئے جائیں گے، اس کے علاوہ 3 روپے 39 پیسے فی یونٹ کا سرچارج بھی لگے گا، سہ ماہی ایڈجسٹمنٹ کی مد میں بجلی مہنگی کی جائے گی، جون تک سہ ماہی ایڈجسٹمنٹ میں اضافے سے 73 ارب روپے حاصل ہوں گے، اس حوالے سے رواں ماہ بجلی 4 روپے 46 پیسے تک مہنگی ہو گی۔
باخبر ذرائع کے مطابق فروری کے ٹیرف میں اوسط اضافہ 3 روپے 21 پیسے فی یونٹ بنے گا جبکہ مارچ میں سہ ماہی ایڈجسٹمنٹ میں بجلی 69 پیسے مہنگی کی جائے گی، جون میں سہ ماہی ایڈجسٹمنٹ کی مد میں بجلی ایک روپے 64 پیسے مہنگی ہوگی، ستمبر میں بھی بجلی ایک روپے98 پیسے مہنگی کی جائے گی،جون تک برآمدی شعبے، کسانوں کیلئے سبسڈی ختم ہونے سے 65 ارب روپے حاصل ہوں گے، برآمدکنندگان کیلئے بجلی پر سبسڈی ختم ہونے سے 51 ارب روپے اضافی خزانے میں جمع ہوں گے، کسان پیکیج کے تحت بجلی پر سبسڈی ختم ہونے سے 14 ارب روپے زائد ملیں گے۔
