پی ٹی آئی کے 25اراکین اسمبلی کی پارٹی قیادت سے بغاوت،استعفوں سےانکار

قائمہ کمیٹیوں سے استعفوں کے معاملے پر پاکستان تحریک انصاف ایک بار پھر انتشار اور تقسیم کا شکار ہوتی دکھائی دیتی ہے۔ عمران خان کی واضح ہدایات کے باوجود 25 پی ٹی آئی اراکین نے بغاوت کرتے ہوئے قائمہ کمیٹیوں سے مستعفی ہونے سے انکار کر دیا ہے۔ مبصرین کے مطابق لمبی قید کی وجہ سے عمران خان کی پارٹی پر گرفت ہر گزرتےدن کے ساتھ کمزور ہوتی نظر آتی ہے۔ اسی وجہ سے پارٹی رہنماؤں نے ذاتی مفادات کے تحفظ کیلئے بانی پی ٹی آئی کے احکامات کو پاؤں تلے روندنا اپنا وطیرہ بنا لیا ہے۔
خیال رہے کہ بانی پی ٹی آئی عمران خان کی ہدایت پر یوں تو پبلک اکاؤنٹس کمیٹی اور 5 قائمہ کمیٹیوں کے سربراہوں سمیت 51 اراکین اسمبلی نے استعفیٰ دے دیا ہے، تاہم پی ٹی آئی سے وابستہ 25 اراکین اسمبلی تاحال مختلف کمیٹیوں کی رکنیت سے مستعفی ہونے سے انکاری ہیں۔ پارلیمنٹ ہاؤس کے ذرائع کے مطابق پی ٹی آئی سے وابستہ 25 ارکانِ قومی اسمبلی ایسے ہیں جنہوں نے قائمہ کمیٹی کی رکنیت سے استعفیٰ نہیں دیا۔ ان میں لطیف کھوسہ، شیر افضل مروت، ریاض فتیانہ، شیر علی ارباب سمیت دیگر شامل ہیں۔ ذرائع کے مطابق تاحال پارلیمانی کمیٹیوں کا حصہ رہنے والے پی ٹی آئی کے اراکینِ قومی اسمبلی میں سلیم رحمان، سہیل سلطان، بشیر خان، محمد نواز خان، محمد عاطف، ذوالفقار علی اور نسیم علی شاہ شامل ہیں۔ اسی طرح مبین عارف، اسامہ احمد میلہ، میقاد علی خان، غلام محمد، علی افضل ساہی، سعد اللہ، عمر فاروق، ریاض خان فتیانہ، محبوب سلطان، لطیف کھوسہ، عائشہ نذیر، میاں غوث محمد، معظم علی خان، امبر مجید، میاں فیاض حسین اور خواجہ شیراز محمود نے بھی ابھی تک اپنے استعفے اسپیکر قومی اسمبلی کو نہیں بھیجے ہیں۔
واضح رہے کہ بانی پی ٹی آئی عمران خان نے پارٹی کو قومی اسمبلی کی تمام کمیٹیوں سے مستعفی ہونے کی ہدایت جاری کی تھی، جس کے بعد جنید اکبر خان نے پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کی چیئرمین شپ سے، جبکہ بیرسٹر گوہر نے قانون و انصاف، انسانی حقوق، آئی ٹی اور ہاؤس بزنس ایڈوائزری کمیٹی کی رکنیت سے استعفیٰ دیا تھا۔ مجموعی طور پر پی ٹی آئی کے 51 اراکینِ قومی اسمبلی نے اپنی مختلف کمیٹیوں سے استعفیٰ دے دیا تھا تاہم 25 اراکین اسمبلی عمران خان کے احکامات پر عمل کرنے سے انکاری ہیں۔
سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق، قائمہ کمیٹیوں میں رہنا اراکین کے لیے نہ صرف طاقت اور اثرورسوخ کا ذریعہ ہے بلکہ ان کمیٹیوں کے ذریعے وہ اپنے حلقوں کے مسائل اجاگر کرنے اور ترقیاتی منصوبے لانے میں بھی کردار ادا کرتے ہیں۔ اس لیے استعفے دینا براہِ راست ان کے سیاسی مستقبل پر منفی اثر ڈال سکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ متعدد اراکین عمران خان کی ہدایات کو نظرانداز کر کے اپنی ذاتی اور حلقہ جاتی سیاست کو ترجیح دے رہے ہیں۔
تاہم بعض مبصرین اس معاملے کو پی ٹی آئی کے اندرونی انتشار اور تنظیمی کمزوری کی علامت قرار دیتے ہیں۔ ان کے مطابق اگر قیادت کی ہدایات پر پارٹی کے رکن عمل نہ کرے اور کوئی باز پرس نہ ہو، تو یہ جماعتی ڈھانچے کے لیے خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔ ایک سینئر مبصر نے کہا:”پی ٹی آئی اس وقت دو محاذوں پر لڑ رہی ہے، ایک بیرونی دشمنوں کے خلاف اور دوسرا اندرونی بغاوت کے خلاف۔ اگر قیادت اندرونی نظم و ضبط قائم نہ رکھ سکی تو یہ جماعت تیزی سے اپنے انجام کو پہنچ جائے گی۔” ناقدین کے مطابق پی ٹی آئی کے 25 اراکین کا عمران خان کی ہدایات کو نظر انداز کرنا اس بات کی علامت ہے کہ پارٹی کے اندر قیادت اور اراکین کے درمیان اعتماد کا رشتہ کمزور ہوتا جا رہا ہے۔ یہ صورتحال عمران خان کے لیے ایک بڑا امتحان ہے، کیونکہ اگر انہوں نے اپنے اراکین کو قائل یا مجبور نہ کیا تو پارٹی کے ڈسپلن اور اتحاد کا بیانیہ شدید متاثر ہوگا۔ مبصرین کے مطابق آنے والے دنوں میں یہ بحران یا تو عمران خان کو مزید کمزور کرے گا یا پھر وہ اپنی جماعت پر گرفت مضبوط کر کے دوبارہ اپنی طاقت ثابت کریں گے۔
