ایجنسیوں کے ٹاؤٹ شیرافضل مروت ہے یاباجی علیمہ خان؟

پارٹی قیادت کو ہدف تنقید بنانے کی پاداش میں پی ٹی آئی سے بے دخل کئے جانے والی شیر افضل مروت ایک بار پھر علیمہ خان کےنشانے پر آ گئے۔ بانی پی ٹی آئی عمران خان کی بہن علیمہ خان نے مروت کو ایجنسیوں کا ٹاؤٹ قرار دے کر انھیں دوٹوک الفاظ میں کسی اور جماعت کا رخ کرنے کا مشورہ بھی دے دیا جبکہ شیرافضل مروت نے علیمہ خان کو پارٹی میں انتشار اور کمزوری کی جڑ قرار دے دیا۔ مروت کا کہنا ہے کہ حقیقت میں علیمہ خان ایجنسیوں کی ٹاؤٹ ہیں اسی لئے وہ ہر جگہ دندناتی پھرتی ہیں لیکن کوئی انھیں گرفتار نہیں کرتا۔
خیال رہے کہ پاکستان تحریک انصاف اس وقت ایک ایسے موڑ پر کھڑی ہے جہاں اندرونی اختلافات نے پارٹی کی یکجہتی کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔ قیادت کی خواہش نے علیمہ خان اور شیر افضل مروت کو آمنے سامنے لا کھڑا کیا ہے۔ یہ صورتحال محض ذاتی کشمکش نہیں بلکہ پارٹی کے اندر جاری اس بڑی لڑائی کی نشاندہی ہے جو قیادت کے حصول اور سیاسی حکمتِ عملی کے حصول کیلئے لڑی جا رہی ہے۔ علیمہ خان اور شیر افضل مروت کے درمیان حالیہ چپقلش کا آغاز اس وقت ہوا جب 4ستمبر کے روز صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے علیمہ خان کا کہنا تھا کہ شیر افضل مروت کی طرح کے بندوں کو اسٹیبلشمنٹ اور ایجنسیاں استعمال کر کے چھوڑ دیتی ہیں پھر ان کو کوئی پوچھتا نہیں تو ان کا یہ حال ہو جاتا ہے۔ عمران خان نے مروت کو پہلے ہی پارٹی سے نکال دیا ہے، اس لئے بہتر یہی ہے کہ اب وہ کسی اور پارٹی میں چلے جائیں۔
علیمہ خان کی بیان بازی پر مروت کہاں چپ رہنے والے تھے شیر افضل مروت نے ایک ٹی وی پروگرام میں علیمہ خان کے لہجے میں ہی بات کرتے ہوئے کہا کہ پی ٹی آئی میں انتشار اور کمزوری کی اصل وجہ علیمہ خان ہیں۔ علیمہ خان نے انھیں پارٹی سے نکلوانے کے ساتھ ساتھ اپنے سگے بھائی عمران خان کو پارٹی سے سائیڈ لائن کرنے میں مرکزی کردارادا کیا اورخیبرپختونخوا قیادت کے خلاف سوشل میڈیا مہم چلائی۔ مروت نے مزید کہا کہ آج علیمہ خانم نے گالم گلوچ کی، علیمہ کا پارٹی میں کیا کام ہے، وہ فتوے بانٹ رہی ہے، میرا اتنا بڑا دل نہیں کہ یہ ساری چیزیں درگزر کردوں۔ گالم گلوچ کا حق کسی کو نہیں، کوئی بیان دیتا ہے اور واپس لیتا ہے تو تب بھی جواب دوں گا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ علیمہ خانم نے مجھے اسٹیبلشمنٹ کا ٹاؤٹ کہا حالانکہ وہ خود اسٹیبلشمنٹ کی ٹاؤٹ ہے اور ہر جگہ دندتاتی پھرتی ہے لیکن کبھی گرفتار نہیں ہوئی۔رکن قومی اسمبلی کے بقول علیمہ خان نے ایک سال میں عمران خان کو مائنس کر کے پارٹی کو ٹیک اوور کرلیا ہے۔ شیر افضل مروت نے علیمہ خان کومخاطب کرتے ہوئے کہا کہ بی بی علیمہ خان! عمران خان کے رشتے دار ہونے کا مطلب پی ٹی آئی کی قیادت نہیں۔ عوام صرف عمران خان کے ساتھ کھڑے ہیں اور وہ موروثی سیاستدانوں کو تسلیم کرنے پر تیار نہیں۔
علیمہ خان اور شیر افضل مروت کی جانب سے کھلے عام ایک دوسرے پر الزامات کی بوچھاڑ کے بعد سیاسی حلقوں میں یہ سوال شدت سے اٹھایا جا رہا ہے کہ جب پارٹی کی صفِ اول کی قیادت ہی آپس میں دست و گریباں ہے، تو وہ کس طرح کارکنان کو متحد اور عوام کو مطمئن رکھ سکے گی؟ پارٹی انتشار اور باہمی کشیدگی کے دوران بانی پی ٹی آئی عمران خان کی رہائی کی تحریک کیسے چلائے گی؟ دوسری جانب مبصرین یہ سوال اٹھاتے بھی دکھائی دے رہے ہیں کہ کیا پی ٹی آئی اپنی صفوں میں بڑھتے اس انتشار کو قابو پا سکے گی یا یہ اختلافات بالآخر پارٹی کو مزید دھڑوں میں تقسیم کر دیں گے؟
سیاسی مبصرین کے مطابق علیمہ خان اور مروت کا یہ ٹکراؤ اس بات کا ثبوت ہے کہ عمران خان کے بعد پارٹی میں واضح قیادت کا فقدان ہے۔عمران خان کی گرفتاری اور غیر فعال کردار کے بعد پارٹی میں قیادت کا خلا پیدا ہو چکا ہے۔ ایسے میں علیمہ خان اور شیر افضل مروت جیسے رہنماؤں کے اختلافات اس خلا کو مزید گہرا کر رہے ہیں۔ عوام اور کارکنان یہ سوال اٹھا رہے ہیں کہ اگر پارٹی کی صفِ اول کی قیادت آپس میں ہی متفق نہیں تو وہ ملک کو سیاسی استحکام دینے کا خواب کیسے پورا کر سکتی ہے؟علیمہ خان اور شیر افضل مروت کے اختلافات اس بات کا اشارہ ہیں کہ تحریک انصاف محض بیرونی دباؤ کا شکار نہیں بلکہ اندرونی تضادات بھی اس کے زوال کی رفتار کو تیز کر رہے ہیں۔ اگر یہ اختلافات بڑھے تو پی ٹی آئی کے لیے متحد رہنا اور عوامی اعتماد بحال رکھنا مزید مشکل ہو جائے گا۔
