آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی توڑنے کا ایرانی منصوبہ کیا ہے؟

 

 

 

اسلام آباد مذاکرات کی ناکامی کے بعد ایران نے امریکی صدر ٹرمپ کی جانب سے اعلان کردہ آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی توڑنے کے لیے ایک جارحانہ عسکری منصوبہ تیار کر لیا ہے۔ اس منصوبے میں بارودی سرنگوں، خودکش ڈرونز اور ساحلی دفاعی نظام کو مرکزی حیثیت دی گئی ہے، جس کے ذریعے امریکی بحری طاقت کو چیلنج کرنے کی تیاری مکمل کر لی گئی ہے۔

 

بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق ایرانی افواج نے آبنائے ہرمز کے حساس ساحلی علاقوں میں موبائل اینٹی شپ میزائل لانچرز کا ایک وسیع جال بچھا دیا ہے۔ یہ لانچرز مسلسل اپنی پوزیشن تبدیل کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں، جس سے انہیں نشانہ بنانا مشکل ہو جاتا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ سپاہ پاسدارانِ انقلاب نے خودکش ڈرونز اور تیز رفتار کشتیوں کے ذریعے “ہٹ اینڈ رن” حکمت عملی اپنانے کا فیصلہ کیا ہے، جس کا مقصد امریکی بحری بیڑوں کو الجھا کر ان کے دفاعی نظام کو کمزور کرنا ہے۔ دوسری جانب امریکہ کے اندر بھی اس صورت حال پر شدید تشویش پائی جا رہی ہے۔ عالمی میڈیا رپورٹس کے مطابق ملک کی تین بڑی تیل کمپنیوں بشمول ایکسون موبل، شیوران اور کونوکو فلپس کے سربراہان نے وائٹ ہاؤس میں صدر ٹرمپ اور ان کی انتظامیہ سے ہنگامی ملاقات کی ہے۔ اس ملاقات میں توانائی کمپنیوں نے واضح طور پر خبردار کیا کہ اگر آبنائے ہرمز کی بندش برقرار رہی تو عالمی توانائی نظام کو شدید دھچکا لگ سکتا ہے۔

 

تیل کمپنیوں کے سربراہوں کا یہ موقف تھا کہ اگر تیل کی سپلائی چین متاثر ہوئی تو عالمی منڈی میں سٹہ باز سرگرم ہو جائیں گے، جس کے نتیجے میں تیل کی قیمتیں عام صارف کی پہنچ سے باہر ہو سکتی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر تیل کی ترسیل کے لیے متبادل راستے فراہم نہ کیے گئے تو آئل کمپنیوں کو اپنے آپریشنز محدود کرنا پڑیں گے، جس سے ہزاروں ملازمین بے روزگار ہو سکتے ہیں۔

 

بین الاقوامی معاشی ماہرین بھی اس صورتحال کو انتہائی خطرناک قرار دے رہے ہیں۔ تجزیہ کاروں کے مطابق موجودہ کشیدگی کے باعث تیل کی قیمتوں میں پہلے ہی نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے، جہاں امریکی خام تیل 8 فیصد اضافے کے ساتھ 104 ڈالر فی بیرل جبکہ برینٹ کروڈ 101 ڈالر سے تجاوز کر چکا ہے۔ اس دوران معاشی ماہرین کی جانب سے یہ پیش گوئی کی جا رہی ہے کہ اگر تنازعہ جاری رہا تو آئندہ ایک ماہ میں تیل کی قیمت 150 ڈالر فی بیرل تک پہنچ سکتی ہے۔

 

یاد رہے کہ امریکی سینٹرل کمانڈ نے سخت مؤقف اختیار کرتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ ناکہ بندی کے دوران کسی بھی ملک کے وہ بحری جہاز جو ایرانی بندرگاہوں یا ساحلی علاقوں میں بغیر اجازت داخل ہوں گے، انہیں نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔ اس اعلان کے بعد خطے میں تیل بردار جہازوں کی آمد و رفت تقریباً معطل ہو چکی ہے، جس سے عالمی تجارت متاثر ہونے کا خدشہ بڑھ گیا ہے۔

ادھر ایران کے پاسدارانِ انقلاب نے اس امریکی فیصلے کو کھلی جنگ قرار دیتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ دشمن کو ایک “خونی گرداب” میں پھنسا دیا جائے گا۔ ایرانی حکام کے مطابق ان کے پاس بارودی سرنگوں کا وسیع ذخیرہ موجود ہے، جو بحری راستوں کو خطرناک بنانے کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔

عسکری محاذ پر امریکہ بھی بھرپور تیاریوں میں مصروف ہے۔ پینٹاگون نے آبنائے ہرمز کی نگرانی کے لیے جدید ایم کیو فور سی ٹرائٹن ڈرونز اور سیٹلائٹ سسٹمز تعینات کر دیے ہیں۔ امریکی بحری بیڑے خلیج عمان اور بحیرہ عرب میں اسٹریٹجک “سٹینڈ آف” پوزیشن اختیار کیے ہوئے ہیں، جہاں سے وہ آبنائے پر کڑی نظر رکھ سکتے ہیں۔

 

ادھر بحرین میں تعینات امریکی پانچواں بحری بیڑہ اس پورے آپریشن کا مرکزی کمانڈ اور لاجسٹک حب بنا ہوا ہے۔ اطلاعات کے مطابق امریکی جنگی بیڑوں میں جدید دفاعی نظام، بشمول پیٹریاٹ میزائل سسٹمز، نصب کیے گئے ہیں جبکہ یو ایس ایس ایئرکرافٹ کیریئر، یو ایس ایس کول اور یو ایس ایس اسٹاکڈیل جیسے اہم جنگی جہاز بھی تعینات کیے جا رہے ہیں۔ دفاعی ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ تنازع نہ صرف مشرقِ وسطیٰ بلکہ عالمی سطح پر بھی بڑے جغرافیائی و معاشی اثرات مرتب کر سکتا ہے۔ خاص طور پر چین، جو ایرانی تیل کا سب سے بڑا خریدار ہے، اس بحران سے براہ راست متاثر ہو سکتا ہے، جس سے امریکہ اور چین کے درمیان پہلے سے موجود تناؤ میں مزید اضافہ ہونے کا خدشہ ہے۔

سیکرٹری جنرل یو این کا اسحاق ڈار کو ٹیلی فون، ایران-امریکا مذاکرات پر تبادلہ خیال

موجودہ صورتحال نے عالمی برادری کو شدید تشویش میں مبتلا کر دیا ہے، اور خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ اگر فوری سفارتی اقدامات نہ کیے گئے تو یہ تنازع ایک بڑے عسکری تصادم میں تبدیل ہو سکتا ہے۔

 

Back to top button