ٹرمپ ایران کے ساتھ پنگا لینے کے بعد پچھتا کیوں رہے ہیں؟

امریکی صدر ٹرمپ نے ایران کے ساتھ جنگ چھیڑ کر خود کو ایسے گرداب میں پھنسا لیا ہے جس سے نکلنا اب ان کے لیے آسان نہیں رہا۔ ٹرمپ کو اندازہ ہو چکا ہے کہ وہ ایران کے ساتھ پنگا لے کر ایک لایعنی اور پیچیدہ جنگ میں الجھ گئے ہیں، لہٰذا اب وہ دوبارہ جنگ کا راستہ اختیار کرنے کی بجائے محتاط حکمت عملی اپناتے دکھائی دیتے ہیں۔ تاہم ایران پر دباؤ برقرار رکھنے کے لیے وہ سخت جارحانہ بیانات دیتے رہیں گے تاکہ کسی ممکنہ معاہدے میں باعزت بارگیننگ حاصل کر سکیں۔
معروف صحافی عامر خاکوانی نے اپنے سیاسی تجزیے میں ان خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہی وجہ ہے کہ صدر ٹرمپ نے اسلام آباد مذاکرات کی ناکامی کے باوجود اب تک کوئی ایسا بیان نہیں دیا جس سے سیز فائر توڑنے یا مذاکرات مکمل ختم کرنے کا تاثر ملے۔ اس دوران یہ اطلاعات بھی سامنے آ رہی ہیں کہ امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات کا دوسرا دور جمعرات کو اسلام آباد میں ہونے کا امکان ہے، سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ خطے کی صورتحال اس وقت انتہائی حساس مرحلے میں داخل ہو چکی ہے، خاص طور پر آبنائے ہرمز کے تناظر میں۔ یہ وہ اہم سمندری راستہ ہے جہاں سے دنیا کے تقریباً بیس فیصد تیل کی ترسیل ہوتی ہے۔ 2 مارچ سے اس گزرگاہ کی عملی بندش اور اب امریکی بحری ناکہ بندی نے عالمی معیشت کو شدید خطرات سے دوچار کر دیا ہے۔
یاد رہے کہ امریکی صدر نے ایرانی بندرگاہوں کے گرد ناکہ بندی نافذ کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ ایرانی تیز رفتار کشتیوں کو قریب آنے کی صورت میں نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔ دوسری جانب ایران نے بھی سخت ردعمل دیا ہے۔ ایرانی قائم مقام وزیر دفاع نے اعلان کیا ہے کہ ملک کی افواج مکمل جنگی تیاری میں ہیں۔ ایرانی حکام نے خبردار کیا ہے کہ اگر ان کی بندرگاہیں غیر محفوظ ہوئیں تو پورا خلیجی خطہ عدم استحکام کا شکار ہو سکتا ہے۔ اس صورتحال میں بظاہر دونوں ممالک آمنے سامنے کھڑے ہیں، مگر ماہرین کے مطابق اصل کھیل پس پردہ سفارت کاری اور بیانات کے درمیان جاری ہے۔
عامر خاکوانی کہتے ہیں کہ اگر پس منظر میں جھانکا جائے تو اسلام آباد میں ہونے والے ایران امریکہ تاریخی مذاکرات اس کشیدگی کا اہم حصہ تھے۔ اپریل کی 11 اور 12 تاریخ کی درمیانی شب دارالحکومت میں سخت سیکیورٹی کے حصار میں امریکی نائب صدر اور ایرانی پارلیمانی سپیکر محمد باقر قالیباف کے درمیان طویل مذاکرات ہوئے۔ یہ 1979 کے بعد پہلی بار تھا کہ دونوں ممالک اس سطح پر براہ راست آمنے سامنے آئے۔ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کے مطابق فریقین ایک ممکنہ معاہدے کے قریب پہنچ گئے تھے، تاہم امریکی مطالبات میں مسلسل تبدیلی اور اہداف کے بدلنے سے مذاکرات تعطل کا شکار ہو گئے۔ اسی دوران امریکہ کی جانب سے آبنائے ہرمز ناکہ بندی کا اعلان سامنے آیا جس نے صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا دیا۔
بین الاقوامی ذرائع ابلاغ کے مطابق اگرچہ بظاہر مذاکرات ناکام ہوئے، لیکن پس پردہ رابطے مکمل طور پر منقطع نہیں ہوئے۔ مختلف رپورٹس میں یہ اشارہ دیا گیا ہے کہ ترکی اور مصر سمیت دیگر ممالک دوبارہ مذاکرات کی بحالی کے لیے سرگرم ہیں، جبکہ جنیوا اور اسلام آباد دونوں کو آئندہ مذاکراتی مقامات کے طور پر زیر غور رکھا جا رہا ہے۔ عالمی مالیاتی اداروں کے اندازوں کے مطابق 20 اپریل کے بعد دنیا میں تیل کے ذخائر شدید دباؤ کا شکار ہو سکتے ہیں، جبکہ 21 اپریل کو جنگ بندی کی مدت بھی ختم ہو رہی ہے۔ یہ دونوں تاریخیں اس امر کی نشاندہی کرتی ہیں کہ آئندہ چند دن پورے خطے اور عالمی معیشت کے لیے فیصلہ کن ثابت ہو سکتے ہیں۔
عامر خاکوانی کے مطابق امریکی داخلی سیاست بھی اس صورتحال پر اثر انداز ہو رہی ہے۔ بڑھتی ہوئی تیل کی قیمتیں، عوامی بے چینی اور آئندہ انتخابات صدر ٹرمپ کے لیے دباؤ کا باعث ہیں۔ ایک طرف وہ ایران پر سختی دکھانا چاہتے ہیں، تو دوسری جانب امریکی عوام کو مہنگائی سے بچانا بھی ضروری ہے، جو بیک وقت ممکن نہیں دکھائی دیتا۔ لیکن ایران کے ساتھ تنازعے پر امریکہ کو عالمی حمایت حاصل نہیں ہو سکی۔ برطانیہ نے امریکی ناکہ بندی میں شامل ہونے سے انکار کر دیا ہے، جبکہ دیگر یورپی ممالک بھی محتاط رویہ اختیار کیے ہوئے ہیں۔ یہ صورتحال امریکی سفارتی تنہائی کو ظاہر کرتی ہے اور ممکن ہے یہی دباؤ ٹرمپ انتظامیہ کو کسی سمجھوتے کی طرف لے جائے۔
سینیئر صحافی کا کہنا ہے کہ ایران کے اندرونی حالات بھی کسی حد تک غیر یقینی ہیں۔ ایک جانب نسبتاً اعتدال پسند قیادت مذاکرات کی حامی ہے، جبکہ طاقتور عسکری حلقے سخت موقف رکھتے ہیں۔ اس داخلی تقسیم کے باعث ایران کے لیے بھی کوئی بڑا فیصلہ کرنا آسان نہیں۔ پاکستان کے لیے یہ بحران محض سفارتی نہیں بلکہ معاشی چیلنج بھی ہے۔ تیل اور گیس کی سپلائی متاثر ہونے سے توانائی بحران شدت اختیار کر سکتا ہے، جس کے نتیجے میں صنعتی پیداوار، زراعت اور عام آدمی کی زندگی متاثر ہو رہی ہے۔
آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی توڑنے کا ایرانی منصوبہ کیا ہے؟
عامر خاکوانی کا کہنا ہے کہ موجودہ صورتحال میں تین ممکنہ راستے سامنے آتے ہیں: محدود کشیدگی، مکمل جنگ، یا دباؤ کے بعد مذاکرات کی بحالی۔ تجزیہ کاروں کی اکثریت تیسری آپشن کو ہی قابل عمل سمجھتی ہے، کیونکہ یہی واحد راستہ خطے کو بڑے تصادم سے بچا سکتا ہے۔ اب عالمی نظریں 21 اپریل پر مرکوز ہیں۔ پاکستان، ترکی اور مصر کی سفارتی کوششیں جاری ہیں تاکہ اس سے قبل کسی نہ کسی سطح پر مذاکرات بحال ہو سکیں۔ بظاہر سخت بیانات کے باوجود پس پردہ رابطے جاری ہیں، اور یہی امید کی ایک کرن ہے کہ یہ بحران بالآخر مذاکرات کی میز پر ہی حل ہوگا۔
