ایران پر حملے کے بعد دیگر ملکوں کا بھی نیوکلیئر آپشن پر غور

ایک طرف امریکہ نے ایران پر حملہ کرنے کا یہ جواز پیش کیا ہے کہ وہ اسے نیوکلیئر ہتھیار بنانے سے روکنا چاہتا ہے تو دوسری جانب موجودہ صورت حال کو دیکھتے ہوئے ایران کے علاوہ دیگر خلیجی ریاستیں بھی اس نتیجے پر پہنچ چکی ہیں کہ کسی بھی جارحیت کے خلاف سب سے مؤثر ضمانت سفارت کاری یا روایتی ہتھیار نہیں بلکہ نیوکلئیر بم ہی ہے۔
ایران کے خلاف جنگ امریکہ کی اپنے اتحادیوں کی سلامتی یقینی بنانے کی صلاحیت پر بھی سوالات اٹھا رہی ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب متحدہ عرب امارات سے لے کر سعودی عرب تک مشرق وسطیٰ کے کئی ممالک ایران کی جانب سے جوابی حملوں کا نشانہ بن چکے ہیں اور امریکی فوجی اڈے ان حملوں کو روکنے میں مکمل طور پر ناکام رہے۔
ایسی صورتحال میں یہ سوچ تقویت پا رہی ہے کہ کسی بھی مخالف ملک کا حملہ روکنے کے لیے نیوکلئیر صلاحیت کا ہونا ضروری ہے۔ امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے فروری کے آخر میں ایران پر کیے گئے حملوں کی بنیادی دلیل یہی پیش کی گئی تھی کہ تہران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے سے روکا جائے۔ تاہم جنگ کو ایک ماہ سے زائد عرصہ گزرنے کے بعد عالمی سطح پر یہ خدشہ شدت اختیار کر گیا ہے کہ یہ تنازع خود جوہری پھیلاؤ کی ایک نئی دوڑ کو جنم دے سکتا ہے۔
دفاعی ماہرین کے مطابق جس جنگ کا مقصد ایران کو ایٹم بم سے روکنا تھا، وہی جنگ ایرانی قیادت کو اس نتیجے تک پہنچا چکی ہے کہ مستقبل میں اپنی بقا کے لیے جوہری ہتھیار ناگزیر ہیں۔
دفاعی ماہرین کا کہنا ہے کہ ایران نہ صرف اس قابل ہے کہ وہ مستقبل میں جوہری ہتھیار حاصل کرے بلکہ اس جنگ کے بعد اس کے پاس ایسا کرنے کی ترغیب بھی پہلے سے کہیں زیادہ ہو چکی ہے۔ ان کے خیال میں کسی بھی نئی ایرانی حکومت کے لیے دفاعی حکمت عملی میں جوہری آپشن کو سنجیدگی سے دیکھنا ایک فطری عمل ہوگا۔ ماہرین اس صورتحال کو عالمی قیادت کے غلط فیصلوں کے تسلسل کا نتیجہ قرار دیتے ہیں۔ ان کے مطابق ایران کے جوہری پروگرام پر سفارتی مذاکرات جاری تھے، مگر اس کے باوجود فوجی کارروائی کا راستہ اختیار کیا گیا۔
دفاعی ماہرین خبردار کرتے ہیں کہ اگر یہی روش جاری رہی تو ایران اس نتیجے پر پہنچ سکتا ہے کہ اس کی سلامتی کا واحد راستہ جوہری ہتھیار حاصل کرنا ہے۔ ان کے مطابق یہ سوچ صرف ایران تک محدود نہیں رہے گی بلکہ خطے کے دیگر ممالک بھی اسی راستے پر چل سکتے ہیں۔ اس تناظر میں محمد بن سلمان کا مؤقف بھی اہمیت اختیار کر گیا ہے، جو ماضی میں واضح کر چکے ہیں کہ اگر ایران ایٹم بم حاصل کرتا ہے تو سعودی عرب بھی ایسا ہی کرے گا۔ ماہرین کے مطابق یہ بیان مشرق وسطیٰ میں ممکنہ جوہری دوڑ کے خدشات کو مزید تقویت دیتا ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق ایران کا مؤقف اس تمام بحث میں مختلف رہا ہے۔ تہران مسلسل اس بات کی تردید کرتا آیا ہے کہ وہ جوہری ہتھیار بنانا چاہتا ہے اور اس کا کہنا ہے کہ اس کا پروگرام توانائی، طب اور زرعی مقاصد کے لیے ہے۔ ایران عالمی ایٹمی توانائی ایجنسی کے ساتھ مختلف سطح پر تعاون بھی کرتا رہا ہے، تاہم یورینیم افزودگی کی سطح اور نگرانی کے معاملات پر بداعتمادی برقرار رہی۔ یاد رہے کہ صدر ٹرمپ نے اپنی پہلی مدت صدارت میں 2018 میں اس جوہری معاہدے سے علیحدگی اختیار کر لی تھی جو اوباما کے دور میں طے پایا تھا۔ اس فیصلے کے بعد سے ایران اور مغربی دنیا کے درمیان کشیدگی مسلسل بڑھتی رہی، جو اب کھلی جنگی صورتحال میں تبدیل ہو چکی ہے۔
دفاعی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ حالیہ حملوں میں ایرانی جوہری تنصیبات کو نقصان پہنچا ہے، تاہم نیوکلئیر ٹیکنالوجی کا سائنسی علم بدستور موجود ہے، جس کی بنیاد پر ایران دوبارہ اپنی صلاحیت بحال کر سکتا ہے۔ اسکے علاوہ افزودہ یورینیم کے ذخائر کے بارے میں خدشات بھی برقرار ہیں، جو خطے میں عدم استحکام کی صورت میں ایک بڑا خطرہ بن سکتے ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ ایران پر امریکی حملوں نے جوہری عدم پھیلاؤ کے عالمی نظام کو کمزور کیا ہے۔ ان کے مطابق اس کے نتیجے میں بین الاقوامی معائنہ کاروں کی رسائی محدود ہو گئی ہے، جو ایک خطرناک پیش رفت ہے۔ انکا کہنا ہے کہ عالمی سطح پر بھی جوہری ہتھیاروں کے حوالے سے رجحانات تبدیل ہوتے دکھائی دے رہے ہیں۔ اس وقت دنیا کے نو ممالک یعنی امریکہ، روس، چین، فرانس، برطانیہ، پاکستان، بھارت، اسرائیل اور شمالی کوریا کے پاس جوہری ہتھیار موجود ہیں، جبکہ دیگر کئی ممالک میں بھی عوامی سطح پر اس صلاحیت کے حصول کی خواہش بڑھ رہی ہے۔
ٹرمپ ایران کے ساتھ پنگا لینے کے بعد پچھتا کیوں رہے ہیں؟
دفاعی تجزیہ کار نشاندہی کرتے ہیں کہ یوکرین، لیبیا اور شمالی کوریا کی مثالیں اس بحث کو مزید تقویت دیتی ہیں۔ یوکرین نے اپنے جوہری ہتھیار ترک کیے مگر بعد میں حملے کا شکار ہوا، لیبیا نے بھی ایسا ہی کیا اور اس کی حکومت ختم ہو گئی، جبکہ شمالی کوریا جوہری طاقت بننے کے بعد اب تک بیرونی حملوں سے محفوظ رہا ہے۔
اس تمام پس منظر میں ماہرین اس بات پر متفق ہیں کہ اگرچہ جوہری ہتھیار بظاہر دفاع کی ایک مضبوط ضمانت دکھائی دیتے ہیں، لیکن ان کا حصول نہایت مہنگا، پیچیدہ اور خطرناک عمل ہے۔ اس کے ساتھ بین الاقوامی پابندیاں اور سفارتی تنہائی جیسے مسائل بھی جڑے ہوتے ہیں۔ نتیجتاً موجودہ ایران امریکہ جنگ نے نہ صرف خطے میں کشیدگی کو بڑھایا ہے بلکہ عالمی سطح پر ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے: کیا واقعی سلامتی کی ضمانت سفارت کاری میں ہے یا جوہری ہتھیاروں میں؟ آنے والے دنوں میں اس سوال کا جواب نہ صرف مشرق وسطیٰ بلکہ پوری دنیا کی سلامتی کے لیے فیصلہ کن ثابت ہو سکتا ہے۔
