سہیل وڑائچ کی دوبارہ قومی حکومت کے قیام کی پیش گوئی

جیو نیوز سے وابستہ معروف اینکر پرسن سہیل وڑائچ نے ایک مرتبہ پھر قومی حکومت کے قیام کی پیشگوئی کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان کی حکمت سے بھرپور کامیاب سفارتکاری نے وزیراعظم شہباز شریف کو ٹاپ پر تو بٹھا دیا ہے، لیکن اس کے باوجود قومی حکومت کے قیام کا امکان ختم نہیں ہوا، ان کا کہنا ہے کہ گزشتہ دو برس کے مقابلے میں موجودہ حکومت کی ساکھ تو بہتر ہوئی ہے لیکن جب تک ونڈر بوائے موجود ہے اور سیاسی سرگرمیوں پر پابندی عائد رہے گی، قومی حکومت کے قیام کا امکان بھی موجود رہے گا۔
روزنامہ جنگ کے لیے اپنے سیاسی تجزیے میں سہیل وڑائچ کہتے ہیں کہ سفارت، سیاست اور حکمت عملی کے امتزاج نے موجودہ حکومت کو وقتی طور پر مضبوط پوزیشن میں لاکھڑا کیا ہے۔ 8 فروری کے انتخابات کے بعد لگنے والے سیاسی دھچکوں اور مسلسل دباؤ کے باوجود حالیہ عالمی حالات، خصوصاً ایران-امریکہ کشیدگی، نے وزیراعظم شہباز شریف کی حکومت کو نہ صرف عالمی سطح پر اہمیت دلائی بلکہ اندرونِ ملک بھی سیاسی مخالفت کو وقتی طور پر کمزور کر دیا ہے۔
سہیل وڑائچ کے مطابق اگرچہ تحریک انصاف سے وابستہ سوشل میڈیا حلقے بدستور حکومت پر تنقید کر رہے ہیں، تاہم مجموعی سیاسی فضا تبدیل ہو چکی ہے اور اس وقت حکومتی سفارتی کردار کو سراہا جا رہا ہے۔ اپوزیشن لیڈر محمود اچکزئی کی جانب سے بھی حکومتی پالیسیوں کی تائید کو ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اپوزیشن فی الحال کسی بڑی تحریک چلانے کی پوزیشن میں نہیں۔ تاہم سہیل وڑائچ خبردار کرتے ہیں کہ یہ عروج عارضی ہے اور دو سے تین ماہ بعد سیاسی کشیدگی دوبارہ شدت اختیار کر سکتی ہے۔ ان کے مطابق موجودہ حالات میں اصل توجہ حکومت اور اپوزیشن کی سیاست کے بجائے حکومت کی اندرونی کمزوریوں اور اصلاحات پر ہونی چاہیے۔
انہوں نے تاریخی مثالیں دیتے ہوئے کہا کہ بڑی فتوحات کے بعد عظیم رہنما ہمیشہ اصلاحات کا راستہ اختیار کرتے ہیں۔ انہوں نے اشوک اعظم، بسمارک، نپولین بوناپارٹ اور ابراہم لنکن کی مثالیں دیتے ہوئے وزیراعظم کو مشورہ دیا کہ وہ بھی اس موقع پر حکومتی ڈھانچے کی مکمل اوورہالنگ کریں، اپنے سیاسی چہرے کو نمایاں کریں اور بیوروکریسی کے اثر و رسوخ سے باہر نکل کر حقیقی گورننس کی طرف آئیں۔ ان کا کہنا ہے کہ وفاقی کابینہ کے بعض وزراء بیوروکریسی کے بڑھتے ہوئے اثر پر نالاں ہیں، جبکہ ایک وزیر کے استعفے کی افواہیں بھی گردش کر رہی ہیں۔ ایک وفاقی وزیر کے غیر ضروری بیرون ملک اخراجات کا بل سرکاری اداروں نے ادا کرنے سے انکار کر دیا، جس پر وزیراعظم نے خود مداخلت کرتے ہوئے وزیر کو ذاتی طور پر ادائیگی کا حکم دیا۔
سینیئر صحافی کا کہنا ہے کہ اس کے علاوہ بعض وزراء نے وزیر اعظم سیکریٹریٹ کی جانب سے سمریاں روکے جانے کی شکایات بھی کی ہیں۔ ایک وفاقی وزیر کے مطابق وزیر اعظم کا طرز حکمرانی زیادہ تر وزیراعلیٰ طرز کا ہے، جس میں اختیارات کا ارتکاز زیادہ ہوتا ہے، جبکہ وفاقی نظام میں کابینہ کے ارکان کو زیادہ خودمختاری حاصل ہونی چاہیے۔ بیوروکریسی کی صوبائی سوچ کے تحت وفاقی معاملات چلانے سے پیچیدگیاں بڑھ رہی ہیں۔ سہیل وڑائچ نے وفاق اور پنجاب حکومت کے درمیان بڑھتے ہوئے فاصلے کو بھی ایک اہم مسئلہ قرار دیا ہے، جس سے حکومتی بیانیہ کمزور ہو رہا ہے۔ ان کے مطابق حکومت کی جانب سے میڈیا سے دوری اختیار کرنا ایک عارضی حکمت عملی ہے، جو وقتی طور پر کامیاب دکھائی دیتی ہے لیکن طویل المدتی بنیادوں پر نقصان دہ ثابت ہو سکتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ حکومت کا عوام، سیاست اور صحافت سے دور ہو کر صرف اقتدار کے مراکز پر انحصار کرنا اس کی سب سے بڑی کمزوری ہے۔ ابکے مطابق طاقت اور دباؤ کے ذریعے حاصل کردہ کامیابیاں عارضی ہوتی ہیں، جبکہ دیرپا کامیابی کے لیے عوامی بیانیے اور مقبولیت کی ضرورت ہوتی ہے۔ سہیل وڑائچ نے وزیراعظم شہباز شریف کی ذاتی صلاحیتوں کا اعتراف کرتے ہوئے کہا کہ وہ تنقید برداشت کرنے اور مختلف حلقوں کو ساتھ لے کر چلنے کی صلاحیت رکھتے ہیں، اور فوج و سیاسی حکومت کے درمیان پل کا کردار بھی بخوبی ادا کر رہے ہیں۔ تاہم بیوروکریسی پر انحصار اور سیاست سے دوری ان کی بڑی کمزوریاں ہیں۔
سہیل وڑائچ نے ایک اہم سیاسی امکان کی نشاندہی کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں سیاسی حکومتوں کا اوسط دورانیہ دو سے ڈھائی سال رہا ہے اور موجودہ حکومت بھی اپنے تیسرے سال میں داخل ہو چکی ہے، جو ایک نازک مرحلہ ہے۔ ان کے مطابق اگر سیاسی سرگرمیوں پر پابندیاں برقرار رہیں اور تحریک انصاف کو یا اس کے کسی بڑے حصے کو سیاسی عمل میں شامل نہ کیا گیا تو آئندہ انتخابات کی شفافیت مشکوک ہو جائے گی۔
اسی تناظر میں انہوں نے خبردار کیا کہ اگر چار سالہ دور میں سیاست کا دروازہ بند رہا تو قومی حکومت کے قیام کا امکان بڑھ جائے گا، جس کے لیے فوج اور طاقتور حلقے متحرک ہو سکتے ہیں۔
