ایرانی رہبرِ اعلیٰ عوام کے سامنے آنے سے مسلسل گریزاں کیوں؟

ایران کے نئے رہبرِ اعلیٰ مجتبیٰ خامنہ ای ایک بار پھر تحریری پیغام کے ذریعے منظرِ عام پر آئے ہیں، مگر خود منظرِ عام پر نہیں آئے۔ امریکہ اور اسرائیل کے خلاف اسلامی ممالک کو متحد ہونے کی اپیل کرنے والے مجتبیٰ خامنہ ای کے نام سے گزشتہ چند ماہ کے دوران متعدد بیانات جاری ہو چکے ہیں، لیکن ان کی کوئی نئی تصویر، ویڈیو یا آواز ایرانی عوام کے سامنے نہیں آئی۔ سوال یہ ہے کہ ایران کی قیادت سنبھالنے کے بعد بھی مجتبیٰ خامنہ ای عوام سے براہِ راست رابطہ کیوں نہیں کر رہے؟ کیا وہ اپنی سابقہ چوٹوں سے مکمل طور پر صحت یاب نہیں ہوئے، کیا ان کی جان کو اب بھی خطرہ ہے، یا پھر ایران میں اقتدار کا بڑا حصہ کسی اجتماعی قیادت کے ذریعے چلایا جا رہا ہے؟ ان کی مسلسل غیر موجودگی نے نہ صرف ان کی صحت بلکہ ایران میں اصل فیصلہ سازی اور طاقت کے توازن سے متعلق بھی کئی اہم سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔

ایرانی سرکاری خبر رساں ادارے ارنا کے مطابق مجتبیٰ خامنہ ای نے ہفتۂ وحدتِ اسلامی کے موقع پر جاری پیغام میں مشرقِ وسطیٰ اور خلیجی ممالک کے رہنماؤں سے امریکہ اور اسرائیل کے مقابلے میں متحد ہونے کی اپیل کی۔ انہوں نے کہا کہ خطے کے رہنماؤں کو اپنے حقیقی دشمن کو پہچاننا اور اس کی سازشوں کا مقابلہ کرنا چاہیے۔ انہوں نے ایرانی عوام سے بھی اختلافات سے بچنے اور داخلی اتحاد برقرار رکھنے پر زور دیا۔

یہ چند دنوں کے دوران مجتبیٰ خامنہ ای کے نام سے جاری ہونے والا دوسرا پیغام ہے جس میں داخلی اتحاد کی بات کی گئی ہے۔ تاہم ان پیغامات کے باوجود ان کی اپنی عوامی غیر موجودگی بدستور ایک معمہ بنی ہوئی ہے۔ رہبرِ اعلیٰ جیسے طاقتور منصب پر فائز شخصیت کا مسلسل صرف تحریری پیغامات کے ذریعے سامنے آنا غیر معمولی صورتحال تصور کی جا رہی ہے۔

مجتبیٰ خامنہ ای نے اپنے والد اور سابق رہبرِ اعلیٰ علی خامنہ ای کی ہلاکت کے بعد ایران کی قیادت سنبھالی تھی۔ امریکی اور اسرائیلی حملوں کے دوران وہ بھی زخمی ہوئے تھے۔ ان کے قریبی ذرائع کے مطابق انہیں چہرے اور ٹانگوں پر چوٹیں آئی تھیں، تاہم ان کی صحت کے بارے میں ایرانی حکومت نے کوئی تفصیلی طبی معلومات جاری نہیں کیں۔

ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ مجتبیٰ خامنہ ای کی غیر موجودگی کی ایک بڑی وجہ ان کی سکیورٹی ہے۔ ان کے مطابق امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے دوبارہ نشانہ بنائے جانے کے خدشے کے باعث ان کا مقام اور نقل و حرکت انتہائی خفیہ رکھی جا رہی ہے۔ رائٹرز کے مطابق ان کے قریبی حلقے کا دعویٰ ہے کہ ان کی صحت میں بہتری آ رہی ہے اور وہ اہم معاملات میں فیصلہ سازی کا حصہ ہیں، تاہم ان دعوؤں کی آزادانہ عوامی سطح پر تصدیق موجود نہیں۔

مجتبیٰ خامنہ ای کے بارے میں ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ وہ اعلیٰ سرکاری عہدیداروں سے رابطے میں ہیں اور جنگ، معیشت اور خارجہ پالیسی سمیت اہم معاملات پر رپورٹس وصول کرتے ہیں۔ ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے بھی دعویٰ کیا تھا کہ ان کی مجتبیٰ خامنہ ای کے ساتھ طویل ملاقات ہوئی۔ اس کے باوجود یہ واضح نہیں کہ وہ عملی طور پر روزمرہ حکومتی معاملات میں کس حد تک شریک ہیں۔

ایرانی ذرائع کے مطابق روزمرہ حکومتی امور کا ایک بڑا حصہ سینئر حکام کے ذریعے چلایا جا رہا ہے، جبکہ اہم اور تزویراتی معاملات میں آخری اختیار مجتبیٰ خامنہ ای کے پاس ہے۔ اس نظام میں پاسدارانِ انقلاب، صدر مسعود پزشکیان، پارلیمان کے اسپیکر محمد باقر قالیباف اور قومی سلامتی کے اعلیٰ عہدیدار نمایاں کردار ادا کر رہے ہیں۔ جنگ کے بعد پاسدارانِ انقلاب کا اثر و رسوخ بھی مزید بڑھا ہے۔

بعض تجزیہ کاروں کے مطابق ایران میں فیصلہ سازی پہلے کے مقابلے میں زیادہ اجتماعی شکل اختیار کر رہی ہے۔ اگر مجتبیٰ خامنہ ای کی عوامی غیر موجودگی طویل ہوتی ہے تو طاقتور ریاستی اداروں اور مختلف دھڑوں کے درمیان اثر و رسوخ کی کشمکش بڑھنے کا امکان بھی موجود ہے۔ ایسے میں سب سے اہم سوال یہ ہوگا کہ رہبرِ اعلیٰ کی مرضی اور ریاستی اداروں کے فیصلوں میں فرق کیسے طے کیا جائے گا۔

مجتبیٰ خامنہ ای کا تازہ پیغام ایران اور خلیجی ممالک کے درمیان تعلقات کے حوالے سے بھی اہم سمجھا جا رہا ہے۔ جنگ کے دوران ایران کے میزائل اور ڈرون حملے خلیجی ممالک تک پھیل گئے تھے، جس کے نتیجے میں تہران اور خلیجی ریاستوں کے درمیان اعتماد کو شدید نقصان پہنچا۔ سعودی عرب اور قطر سمیت کئی ممالک نے ایران کے اقدامات پر سخت ردعمل ظاہر کیا تھا، تاہم عمان اور قطر نے ایران اور امریکہ کے درمیان رابطے اور ثالثی کی کوششیں جاری رکھیں۔

اسی پس منظر میں مجتبیٰ خامنہ ای کا خلیجی ممالک سے تعاون اور امریکہ و اسرائیل کے مقابلے میں متحد ہونے کا مطالبہ قابلِ توجہ ہے۔ تاہم ان کے پیغام میں خلیجی ممالک پر ہونے والے ایرانی حملوں کا کوئی ذکر نہیں کیا گیا اور نہ ہی تعلقات کی بحالی کے لیے کوئی واضح عملی تجویز سامنے آئی۔ اس لیے اسے ایران کی خارجہ پالیسی میں بنیادی تبدیلی قرار دینا قبل از وقت ہوگا۔

دوسری طرف ایران کو جنگ کے بعد شدید اقتصادی اور سیاسی چیلنجز کا سامنا ہے۔ امریکی پابندیاں، جنگی اخراجات، تیل کی برآمدات پر دباؤ اور کرنسی کی قدر میں کمی نے معیشت کو مزید مشکلات سے دوچار کر دیا ہے۔ ایرانی قیادت کے لیے ایک طرف دفاعی صلاحیت بحال کرنا ضروری ہے تو دوسری طرف عوامی معاشی مشکلات پر قابو پانا بھی اہم ہے، کیونکہ بڑھتا ہوا معاشی بحران دوبارہ اندرونی احتجاج کا سبب بن سکتا ہے۔

ایسے میں مجتبیٰ خامنہ ای کی مسلسل خاموشی اور غیر موجودگی محض ایک ذاتی یا طبی معاملہ نہیں رہی بلکہ یہ ایران کی حکمرانی، طاقت کے توازن اور مستقبل کی سیاسی سمت سے جڑا اہم سوال بن چکی ہے۔ ایرانی حکومت کا مؤقف ہے کہ مجتبیٰ خامنہ ای زندہ، باخبر اور فیصلہ سازی میں شریک ہیں، لیکن جب تک وہ خود عوام کے سامنے آ کر اپنی آواز میں بات نہیں کرتے، ان کی صحت، عملی اختیار اور ایران میں اصل طاقت کے مرکز سے متعلق سوالات برقرار رہیں گے۔ ان کے نام سے پیغامات تو مسلسل آ رہے ہیں، مگر سب سے اہم سوال اب بھی وہی ہے کہ ایران کا نیا رہبرِ اعلیٰ آخر خود عوام کے سامنے کب آئے گا؟

Back to top button