امریکہ ایران مذاکرات: دوسرا راؤنڈ کامیاب ہونے کا امکان کیوں ہے؟

معروف صحافی اور تجزیہ کار رؤف کلاسرا نے کہا ہے کہ اگر اسلام آباد میں امریکہ اور ایران کے مابین امن مذاکرات کا دوسرا دور ہوتا ہے تو اس کی کامیابی کے امکانات کافی زیادہ ہیں۔ اپنے سیاسی تجزیے میں رؤف کلاسرا نے کہا ہے کہ دونوں ممالک ایک بار پھر اسلام آباد میں مذاکرات کے لیے آمادہ دکھائی دیتے ہیں۔ ان کے مطابق پہلا راؤنڈ تقریباً کامیاب ہو چکا تھا، تاہم آخری لمحات میں اس وقت معاملات بگڑ گئے جب امریکی نائب صدر نے اچانک سخت شرائط پیش کر دیں، جن پر ڈونلڈ ٹرمپ سے مسلسل مشاورت جاری رہی۔ آخرکار ٹرمپ کی جانب سے ایسی شرط سامنے آئی جو فوری طور پر ایرانی قیادت کے لیے قابلِ قبول نہ تھی۔
رؤف کلاسرا کے مطابق اس ابتدائی ناکامی پر انہیں کوئی حیرت نہیں ہوئی کیونکہ یہ محض وقتی سفارتی عمل نہیں بلکہ 47 برس پر محیط گہری دشمنی کا معاملہ ہے۔ انہوں نے یاد دلایا کہ جب جنگ بندی کے بعد مذاکرات کا اعلان ہوا تو ابتدا ہی میں انہوں نے واضح کیا تھا کہ اتنی طویل اور پیچیدہ دشمنی ایک یا دو ملاقاتوں میں ختم نہیں ہو سکتی۔ انہوں نے اس تناظر میں حالیہ جنگ کے تباہ کن اثرات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس بار صورتحال ماضی سے بالکل مختلف تھی، کیونکہ امریکہ براہ راست جنگ میں شریک رہا اور ایران پر چالیس دن تک شدید بمباری کی گئی۔ ان حملوں میں ہزاروں ایرانی شہری جاں بحق ہوئے، جن میں معصوم بچے، اساتذہ اور فوجی اہلکار بھی شامل تھے، جبکہ ملک بھر میں بڑے پیمانے پر تباہی ہوئی اور اعلیٰ قیادت کو بھی نشانہ بنایا گیا۔
ان کے مطابق ایسے حالات میں یہ توقع رکھنا غیر حقیقت پسندانہ تھا کہ دونوں ممالک ایک ہی نشست میں تمام معاملات طے کر کے معاہدے تک پہنچ جائیں گے۔ ان کے بقول اصل مسئلہ یہ ہے کہ دونوں فریق خود کو فاتح قرار دے رہے ہیں۔ ایک جانب ٹرمپ یہ دعویٰ کر چکے ہیں کہ امریکہ جنگ جیت چکا ہے، جبکہ ایران بھی خود کو کامیاب قرار دے رہا ہے۔ ایسی صورتحال میں مذاکرات کا عمل مزید پیچیدہ ہو جاتا ہے کیونکہ عموماً معاہدے فاتح اور مفتوح کے درمیان ہوتے ہیں، نہ کہ دو خود کو فاتح سمجھنے والے فریقین کے درمیان۔
رؤف کلاسرا نے کہا ہے کی کہ اس وقت سب سے بڑی رکاوٹ دونوں ممالک کی انا ہے، جو کسی بھی بریک تھرو میں حائل ہو رہی ہے۔ ان کے مطابق مذاکرات ہمیشہ “کچھ لو اور کچھ دو” کے اصول پر کامیاب ہوتے ہیں، نہ کہ ایک دوسرے پر اپنی شرائط مسلط کرنے سے۔
انہوں نے ایران اور امریکہ کی ممکنہ ڈیل کی صورت میں اس کے فوائد کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اگر ایران اپنے نیوکلیئر پروگرام، آبنائے ہرمز اور پراکسیز سے متعلق امریکی شرائط مان لے تو اس کے بدلے امریکہ ایران کے منجمد اثاثے، خصوصاً قطر میں رکھے گئے چھ ارب ڈالر جاری کر سکتا ہے، عالمی پابندیاں ختم ہو سکتی ہیں اور ایران عالمی معیشت میں دوبارہ شامل ہو کر تعمیرِ نو کی طرف بڑھ سکتا ہے۔ تاہم انہوں نے واضح کیا کہ اس راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ سیاسی قیادت کی انا اور عوامی ردعمل کا خوف ہے۔
کلاسرا کے بقول دونوں ممالک کی قیادت کو اپنی اپنی عوام کو یہ باور کرانا ہوگا کہ ممکنہ معاہدہ ان کی شکست نہیں بلکہ کامیابی ہے۔ لیکن 47 برس سے جاری بیانیے اس راہ میں بڑی رکاوٹ ہیں۔ ایران میں امریکہ کو “شیطان” قرار دیا جاتا رہا ہے جبکہ امریکہ اور اسرائیل ایران کو خطے میں سب سے بڑا خطرہ قرار دیتے آئے ہیں۔ رؤف کلاسرا نے اس تناظر میں بنیامین نیتن یاہو کی طویل کوششوں کا بھی حوالہ دیا، جو مختلف امریکی صدور کو ایران پر حملے کے لیے آمادہ کرنے کی کوشش کرتے رہے، تاہم ماضی میں جمی کارٹر، رونالڈ ریگن، بل کلنٹن اور باراک اوباما جیسے صدور اس سے گریز کرتے رہے۔ انہوں نے ہیلری کلنٹن کے ایک بیان کا حوالہ بھی دیا جس میں انہوں نے تصدیق کی کہ نیتن یاہو بارہا امریکہ کو ایران کے خلاف کارروائی پر قائل کرنے کی کوشش کرتے رہے۔
ٹرمپ ایران کے ساتھ چھوٹی نہیں ایک بڑی ڈیل چاہتے ہیں : جے ڈی وینس
انہوں نے کہا کہ موجودہ صورت حال میں پاکستان، بالخصوص شہباز شریف، جنرل عاصم منیر اور اسحاق ڈار کی سفارتی کوششیں اپنی جگہ اہم ہیں، تاہم اصل مسئلہ امریکہ اور ایران کی باہمی انا اور برتری کی جنگ ہے۔ کلاسرا نے دونوں ممالک کی قیادت کو مشورہ دیا کہ وہ جان ایف کینیڈی کی مشہور کتاب Profiles in Courage سے سبق حاصل کریں، جس میں ایسے رہنماؤں کی مثالیں دی گئی ہیں جنہوں نے قومی مفاد میں غیر مقبول مگر ضروری فیصلے کیے۔ ان کے مطابق اگر امریکی اور ایرانی قیادت انا سے بالاتر ہو کر جرات مندانہ فیصلے کرے تو نہ صرف یہ مذاکرات کامیاب ہو سکتے ہیں بلکہ خطے اور دنیا میں پائیدار امن کی راہ بھی ہموار ہو سکتی ہے۔
